پاکستان کے نجی صحافتی ادارے کے مالک میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کے محرکات کیا؟

پاکستان میں حکام نے 30 سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل غیر قانونی طور پر سرکاری اراضی حاصل کرنے کے الزام میں ملک کے ایک سرکردہ میڈیا مالک کو گرفتار کیا ہے۔ میر شکیل الرحمٰن جنگ گروپ کے ایڈیٹر ان چیف ہیں جو پاکستان کے بڑے پیمانے پر پڑھے جانے والے اخبارات کے ساتھ ساتھ مشہور ٹیلی ویژن نیٹ ورک جیو کے بھی مالک ہیں۔

ان کی گرفتاری کو پاکستان کے صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن ملک میں آزاد میڈیا اور سیاسی اختلاف کو خاموش کروانے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

میر شکیل الرحمان جمعہ کے روز احتساب عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے اوپر لگے الزامات کی تردید کی۔ عدالت نے انھیں 12 روزہ جسمانی ریمانڈ پر بھیج دیا ہے۔ ان پر باضابطہ طور پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا ہے۔

میر شکیل الرحمان کو کیوں گرفتار کیا گیا؟

پاکستان کے بدعنوانی کے خلاف کام کرنے والے ادارے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے میر شکیل الرحمان کے خلاف سنہ 1986 میں پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر لاہور میں متعدد پلاٹوں کی زمین کی خریداری سے متعلق الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

میر شکیل الرحمان

نیب نے الزام عائد کیا ہے کہ سنہ 1986 میں جب اس وقت کے مستقبل کے وزیر اعظم نواز شریف صوبہ پنجاب کے وزیر اعلی تھے ، تو انھوں نے میر شکیل الرحمان کو غیر قانونی طور پر زیادہ سرکاری اراضی حاصل کرنے کی اجازت دی تھی۔

پاکستان کے انگریزی زبان کے اخبار ڈان نے ایک نیب اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ میر شکیل الرحمان لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی 'زمین چھوٹ کی پالیسی' کے تحت چار ایکڑ اراضی کے حقدار تھے ، لیکن انھوں نے 13 ایکڑ سے زیادہ اراضی حاصل کی۔

نیب کا کہنا ہے کہ یہ غیر قانونی اور سیاسی رشوت تھی۔

میر شکیل الرحمان کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ زمین ایک نجی پارٹی سے خریدی تھی اور تمام ضروری ٹیکس اور ڈیوٹی ادا کی تھی ، جس کی ان کے پاس مکمل دستاویزات موجود ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ خریداری سول معاملہ ہے لہذا نیب جیسے انسداد جرائم ادارے کے دائرہ کار سے باہر ہے۔

کیا واقعی یہ ہی معاملہ ہے؟

اس کیس کے معیار سے قطع نظر بہت سے لوگوں کو شبہ ہے کہ نیب اپنے فرائض دیانتداری سے نہیں نبھا رہا ہے۔ یہ اکثر ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرتا ہے جو حکومتی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔

اس گرفتاری نے صحافتی تنظیموں، انسانی حقوق کےگروپوں اور سیاسی حزب اختلاف کی جانب سے بڑے پیمانے پر تنقید کو جنم دیا ہے۔ پاکستان کے انسانی حقوق کے کمیشن (ایچ آر سی پی) نے گرفتاری پر 'گہری تشویش' کا اظہار کیا ہے۔

ایچ آر سی پی نے ٹویٹ کیا کہ 'اس بات پر قوی شبہ ہے کہ نیب کے اس طرح کے اقدامات منتخب، صوابدیدی اور سیاسی طور پر متحرک ہیں۔'

'صحافی برادری اس کو پہلے سے دباؤ میں موجود آزاد پریس کو ختم کرنے کی ایک اور کوشش کے طور پر دیکھتی ہے۔'

پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) نے نشاندہی کی کہ 'میڈیا ہاؤس کے چیف ایڈیٹر کو گرفتار کرنا جبکہ اس معاملے کی تفتیش جاری ہے… ایسا لگتا ہے کہ یہ ہراساں کرنے کی کوشش ہے۔'

میر شکیل الرحمن کی بیٹی، انامتا نے گرفتاری کو 'نیب کے قواعد کے تحت بھی غیر قانونی'قرار دیا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 'یہ میڈیا کی آزادی کی جنگ ہے۔آج یہ جنگ گروپ کے چیف ایڈیٹر ہیں، کل یہ کوئی اور بھی ہوسکتا ہے۔'

جنگ گروپ پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا ہاؤس ہے جہاں ملک سے کسی بھی صحافتی ادارے کے نسبت سب سے زیادہ رپورٹرز اور صحافی موجود ہیں جو اسے پاکستان کے بڑھتے ہوئے مسابقتی ماحول میں واضح برتری دیتا ہے۔

حالیہ ماہ میں اس کے جیو ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے سر فہرست اینکرز نے متعدد مواقع پر سرکاری اہلکاروں کو انٹرویو میں سخت سوالات کیے تھے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر لاہور کے ایک سنیئر صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب کہ نیب کے الزامات میں کچھ حقیقت بھی ہوسکتی ہے لیکن 'اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ نیب کا ایک منتخب قدم ہے کیونکہ نام نہاد 'دوستانہ' میڈیا کے مالکان کے حوالے سے غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے واقعات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں لیکن نیب کو ان سے پہلے کبھی کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔'

ڈان

پاکستان میں صحافت کتنی آزاد ہے؟

پاکستان میں صحافت بہت زیادہ آزاد نہیں ہے۔ ملک آزاد پریس انڈیکس میں نیچے آتا ہے۔ میڈیا 2018 کے بعد سے اس وقت بڑھتی ہوئی سنسرشپ کی زد میں ہے جب فوج پر وزیراعظم عمران خان کی سیاسی جماعت پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانے کے لیے قومی انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا گیا تھا۔

لیکن میڈیا کی آواز کودبانے کے لیے بیک ڈور اقدام بہت پہلے ہی شروع ہو چکے تھے۔

سنہ 2014 میں، جیو نیوز کے ٹاک شو کے ایک نامور میزبان حامد میر کو گولیاں مار کر شدید زخمی کردیا گیا تھا۔ حامد میر پر ہونے والے حملے میں کسی کو سزا نہیں سنائی گئی تھی اور بہت سے لوگوں کو شبہ ہے کہ انھیں صوبہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کی کوریج کرنے کی سزا دی گئی تھی۔ جہاں فوج نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ایک مسلح علیحدگی پسندی کی بغاوت کا مقابلہ کیا ہے۔

ملک میں زیادہ تر گمشدگیوں کا الزام فوج پر عائد کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے میڈیا نے اس مسئلے پر رپورٹ کرنا بند کردیا ہے۔

سنہ 2017 میں مذہبی گروہوں اور پاکستان کی فوج پر تنقید کرنے والے متعدد سوشل میڈیا بلاگرز کو کئی ہفتوں کے لیے لاپتہ کر دیا گیا تھا اور رہائی کے بعد ان میں سے زیادہ تر بیرون ملک چلے گئے تھے۔

حامد میر

اگلے ہی برس ایک اور صحافی اور سوشل میڈیا کارکن طحہٰ صدیقی، جنھیں متعدد بار فوجی حکام نے متنبہ کیا تھا پر دن دیہاڑے اسلام آباد کی ایک سڑک پر حملہ کیا گیا۔ وہ جائے وقوع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے لیکن اس کے بعد سے وہ ملک چھوڑ کر فرانس میں مقیم ہے۔

سنہ 2018 کے بعد سے ملک میں میڈیا ایک زیادہ جامع سنسرشپ کا شکار ہوا ہے۔اس میں انفرادی سطح پر صحافیوں کو دھمکیاں ، مختصر دورانیے پر یا مکمل طور پر ٹی وی چینلز کو بند کرنے یا کیبل آپریٹرز کو چینلز کو پچھلے نمبروں پر چلانے کے کے احکامات شامل ہیں تاکہ کم ناظرین انھیں دیکھ سکیں۔

نیب کرپشن کے خلاف کارروائی میں کتنا کامیاب رہا؟

قومی احتساب بیورو کی بنیاد سنہ 2000 میں پاکستان کے سابق فوجی حکمران پرویز مشرف نے کرپٹ سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور تاجروں کے خلاف کارروائیاں کرنے کے کے لیے رکھی تھی۔

لیکن اس کو یہ بڑی حد تک فوجی حکومت کی جانب سے اس وقت کی دو بڑی سیاسی جماعتوں، پاکستان مسلم لیگ (نواز) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو سیاسی طور پر ختم یا محدود کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا تھا۔

سنہ 2000 کی دہائی کے وسط میں نیب نے ان تمام سیاستدانوں کے خلاف بدعنوانی کے الزامات ختم کرنے کے طریقے ڈھونڈے جنھوں نے ان دونوں سیاسی جماعتوں کو چھوڑ کر جنرل مشرف کے زیرقیادت پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی یا اس سے اتحاد کیا تھا۔

2018 کے متنازعہ انتخابات کے بعد جب عمران خان اقتدار میں آئے ہیں اس ادارے نے حزب اختلاف کے سیاستدانوں کو گرفتار کیا ہے اور انھیں طویل عرصے تک تحویل میں رکھا ہے۔ حکومتی مخالفین کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس ادارے کی جانب سے ایسے شواہد پیش نہیں کیے گئے جو عدالت میں ثابت ہو سکیں۔