جماعت اسلامی اور عسکریت پسندی

Zahid Hussainہمیں جماعت اسلامی کے امیر کے بیان پر زیادہ غم و غصے کااظہار کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ انہوں نے جو کچھ کہا ہے وہ ہمیشہ سے جماعت اسلامی کا موقف رہا ہے لیکن اس بار کچھ زیادہ کھل کر بات کی گئی۔ ان کی طرف سے بیت اللہ محسود کو شہید قرار دینے سے عسکریت پسندوں سے ان کے تعلقات واضح ہو گئے ہیں۔ در حقیقت قبائلی علاقوں میں موجود جنگجوؤں اور عسکری تنصیبات پر حملہ آور ہونے والوں کا کسی نہ کسی طرح جماعت اسلامی سے تعلق رہا ہے۔ جماعت اسلامی کا القاعدہ کے ساتھ تعلق افغانستان پر امریکی حملے سے بہت پہلے استوار ہو چکا تھا تاہم یہ تعلق اس وقت منظر عام پر آیا جب نائن الیون کے خود ساختہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد 2003ء میں جماعت اسلامی، راولپنڈی کے خواتین ونگ کی سربراہ کے گھر سے گرفتار ہوئے۔ مزید برآں جماعت اسلامی کے رہنماؤں کی طرف سے غیر ملکی شدت پسندوں کو پناہ دینے کے متعدد واقعاتی شواہد موجود ہیں۔ کچھ ہی عرصہ پہلے پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل میں اسلامی جمیعت طلبہ کے ایک رکن کے کمرے سے القاعدہ کا دہشت گرد گرفتار ہوا تھا۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ دہشت گرد اسلامی جمیعت طلبہ کے کئی رہنماؤں سے رابطے میں تھا۔ اس واقعے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ القاعدہ پاکستان میں کس طرح آزادی سے سرگرم ہے۔ ان دونوں تنظیموں کے باہمی رابطے کی مدد سے القاعدہ کے لیے نو جوان بھرتی کیے جاتے ہیں جو نام نہاد جہادی تنظیموں میں شامل ہوکر پاکستانی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں ۔
2004ء میں پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں نے ایک کمپیوٹر انجینئر نعیم نور خان کو لاہور سے گرفتار کیا جس پر القاعدہ کا کمیونیکیشن چیف ہونے کا الزام تھا۔ نعیم نور وہ کراچی کی نیشنل انجینئرنگ یونیورسٹی میں تعلیم پانے کے دوران اسلام جمعیت طلبہ کا سرگرم رکن تھا اور بعد ازاں قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے لیے کام کرتا رہا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے واقعات جماعت اسلامی اور القاعدہ کے باہمی رابطوں کو واضح کرتے ہیں۔
کراچی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل اسلامی جمعیت کے ایک سرگرم کارکن عطا الرحمن 2004ء میں کور کمانڈر کراچی (تب) جنرل احسن حیات پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار ہوئے۔ عطا الرحمن نے کراچی میں جنداللہ کی بنیاد رکھی تھی جو القاعدہ کی ذیلی تنظیم ہے۔اس واقعے میں ٓآرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر ارشد وحید اور ان کے بھائی نیورو سرجن اکمل وحید کو بھی گرفتار کیا گیا۔ یہ دونوں جماعت اسلامی کے کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ القاعدہ کے رکن بھی تھے۔ جماعت اسلامی نے حکومت پر دباؤ ڈال کر ان دونوں بھائیوں کو رہا کروایا جو وزیر ستان جا کر القاعدہ میں شامل ہو گئے۔ مارچ 2008ء میں ڈاکٹر ارشد وحید امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے جس کی تصدیق القاعدہ کی طرف سے ریلیز ہونے والی ویڈیو میں کی گئی۔
انجینئر احسان عزیز جماعت اسلامی کے ایک اہم رہنما تھے جو وزیرستان میں القاعدہ کے ساتھ سرگرم تھے۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ 2012ء میں ایک ڈرون حملے میں مارے گئے۔ ان کی نماز جنازہ جماعت کے سابق امیر قاضی حسین احمد مرحوم نے پڑھائی۔
جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے گھروں سے القاعدہ ارکان کی گرفتاری کے بعد جماعت اسلامی عالمی طاقتوں کے نظر میں آ گئی تھی لیکن اس کے کسی دہشت گردکارروائی میں براہ راست ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ جماعت اسلامی کے رہنما ہمیشہ القاعدہ یا کسی دوسری دہشت گرد تنظیم کے ساتھ کسی رابطے سے انکار کر تے رہے لیکن اسامہ اور پاکستان میں مرنے والے دوسرے عسکریت پسندوں کو کھلے عام اسلامی ہیرو کے طور پر بھی پیش کرتے رہے۔ نوے کی دہائی میں جماعت اسلامی کے ہزاروں کارکن سعودی جہادیوں کے شانہ بشانہ سویت یونین کے خلاف افغان جنگ میں شامل تھے۔ جماعت اسلامی اس زمانے ہی سے عالمی جہاد کا حصہ رہی ہے اور مختلف علاقوں میں جہادی کارروائیوں میں شامل رہی ہے۔
ان تمام کاموں میں جماعت اسلامی کو پاکستانی فوج کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ اس وقت نیشنل سکیورٹی کے نام پر اس اتحاد کا دفاع کیا جاتا تھا۔ نائن الیون کے بعد جب پاکستان القاعدہ کے خلاف امریکی اتحادی بن گیا توہماری نیشنل سکیورٹی بھی تبدیل ہو گئی۔ تب سے جماعت اسلامی ایک طرف افواج پاکستان کی حمایت کر رہی ہے اور دوسری طرف القاعدہ کے خلاف امریکی اتحادی ہونے کی مخالفت بھی جاری ہے۔ تاہم جب یہ جنگ پاکستان میں داخل ہوگئی تو اس صورت حال کو جاری رکھنا مشکل ہو گیا۔ جماعت اسلامی کے کارکن ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف جنگ میں شامل تھے ، دوسری طرف جماعت کے رہنما خود کو جمہوریت پسند ثابت کرنے میں مصروف تھے۔ چنانچہ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے کہ جماعت حالیہ برسوں میں سکڑتی جا رہی ہے۔
اب جماعت اسلامی نے دوغلی پالیسی ترک کر کے کھلے عام عسکریت پسندوں کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے اور اس کے جواب میں فوج کا بھی سخت رد عمل سامنے آیا ہے ۔ چنانچہ اب ان کے لیے خود کو ایک جمہوری پارٹی ثابت کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *