قائداعظم اور علامہ محمد اقبال کے ہول سیل ڈیلرز

asghar nadeem Syedخورشید محمود قصوری کی کتاب پر ممبئی میں جو تقریب ہوئی اس کی خبریں تو آچکی ہیں۔ وہ تقریب کے بعد دلیپ کمار کے گھر بھی گئے۔ انہیں کتاب پیش کی۔ دلیپ صاحب کرسی پر براجمان کہیں خلا میں گم اپنے خوبصورت لمحوں کو پکڑنے کی خواہش لیے ہوئے معصوم چہرے کے ساتھ قصوری صاحب کو دیکھ رہے تھے۔ کلکرنی پیچھے موجود مسکرا رہے تھے جن پر ایک دن پہلے شیوسینا کے لوگوں نے کالا پینٹ پھینکا تھا۔ میں توسوچتا رہا کہ کیا مارکیٹ میں سیاہ پینٹ بھی بنتا ہے۔ پھر خیال آیا۔ گیٹ پر سیاہ رنگ کا پینٹ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد قصوری صاحب قائداعظم محمد علی جناح کی رہائش گاہ پر گئے جس کے متعلق تاریخ بتاتی ہے کہ وہ اسے بند کر کے پاکستان آگئے تھے کہ وہ اس رہائش گاہ کو اپنے پاس رکھیں گے اور ممبئی آکر رہا کریں گے۔ آپ کی وفات کے بعد اسے پاکستان قونصل خانہ بنانے کی تجویز آئی مگر اس پر عمل نہیں ہو سکا۔ اس رہائش گاہ کو میں نے بھی دیکھا ہے۔ جب ’جیو ٹی وی‘ کی ٹیم کے ساتھ میں ممبئی کی میڈیا انڈسٹری کا جائزہ لینے آٹھ دس سال پہلے گیا تھا۔ خوبصورت درختوں کے بیچ ایک لین میں قائداعظم محمد علی جناح کی رہائش گاہ دیکھ کر دل میں کئی خوشی کی لہریں اٹھیں۔ ممبئی کے خوبصورت رہائشی علاقوں میں سے یہ علاقہ بھی بہت مہنگا سمجھا جاتا ہے جیسے پارسی کالونی خوبصورت درختوں کے بیچ آج بھی ایک ماضی اور کلچر کی نمائندگی کرتی ہے۔
خیر تو خورشید محمود قصوری نے وہاں قائداعظم کی رہائش گاہ کا دورہ کیا۔ اس کی حالت پر افسوس کا اظہار کیا اور اسے قونصل خانہ بنانے کی بات بھی کی۔ قصوری صاحب نے جو باتیں کیں وہ ایک مدبر پاکستانی اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے ڈپلومیٹ کو کرنی چاہئیں۔ لیکن آج ایک چھوٹی سی خبر پڑھی تو افسوس ہوا کہ کسی قانونی ادارے کی کسی ذیلی کمیٹی نے انہیں نوٹس بھجوا دیا ہے کہ آپ نے قائداعظم اور پاکستان کے قیام کی توہین کی ہے۔ خیر اس کا قانونی جواب تو قصوری صاحب خود دیں گے۔ وہ خود بھی بڑے باپ کے بڑے وکیل بیٹے ہیں لیکن مجھے تو ایک قصہ یونہی یاد آگیا کہ پاکستان میں روزانہ قائداعظم اور علامہ محمد اقبال کے حوالے سے کئی قانونی، کئی غیر قانونی وارث پیدا ہو جاتے ہیں اور وہ رفتہ رفتہ اپنے مستقل ادارے بنا لیتے ہیں اور قومی رہنماﺅں کے جملہ حقوق اپنے نام الاٹ کرا لیتے ہیں۔ اگر بات یہاں تک رہتی تب بھی کوئی بات نہیں تھی کہ عقیدت کا حق ہر پاکستانی کو حاصل ہونا چاہیے لیکن ہوا یہ کہ ان دو عظیم فکری اور سیاسی رہنماﺅں کے نظریات و تصورات کو ان ٹھیکے داروں نے اپنی محدود سوچ اور کم نظری کی عینک سے دیکھنا شروع کر دیا۔ جس کے نتیجے میں دو بڑی عظیم ہستیاں کشادگی اور وسیع النظری کے سمندر سے گھٹ کر جوئے کم آب میں تبدیل ہوتی دکھائی دینے لگیں۔ ایسا اداروں کی سطح پر بھی ہو رہا ہے۔ انفرادی سطح پر بھی اور قیام پاکستان سے اب تک بعض حکومتوں کی سطح پر بھی یہ سلوک روا رکھا گیا۔ یہاں تک کہ ایسا وقت بھی آیا کہ یہ دو عظیم شخصیات پاکستان کے محض ایک محدود طبقے کے نظریات کی نمائندگی کرتی ہوئی محسوس ہوئیں جبکہ ان کی وسعت عالمی سطح پر اپنا بھرپور معنی رکھتی تھی۔ نظریہ پاکستان کی اپنے مقاصد کے تحت خاص قسم کی تشریح کرنے والوں نے ان دو قومی لیڈرز کو اپنے فریم میں فٹ کر دیا اور ان کے مقاصد کئی طرح کے تھے۔ ان ہستیوں کے نام پر عمارتیں، زمین اور فنڈز حاصل کرنا۔ کئی طرح کے ٹرسٹ پیدا ہوئے اور مخصوص خیالات کی آبیاری کے لیے سکولوں اور یونیورسٹیوں کے طالب علموں کو اس میں شامل کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں معاشرہ کشادگی کی بجائے تنگ نظری کا شکار ہوتا گیا۔ دوسروں کے خیالات کو برداشت کرنے کا کلچر دم توڑتا گیا اور اس کی جگہ انتہا پسند خیالات کو جگہ ملنے لگی اور یہ سب کچھ ان دو عظیم رہنماﺅں کے نام پر ہوتا رہا۔
ہزاروں کی تعداد میں ایسی کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں لکھنے والوں نے ان بڑے فکری رہنماﺅں کو اپنی محدود نظر سے نہ صرف دیکھا بلکہ ان کے افکار کی تعبیر بھی اپنی کوتاہ نظری کے تناظر میں کرنے لگے۔ یہاں سے تاریخ کو مسخ کرنے کا آغاز ہوا۔ قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کے حقیقی مو¿رخین مسخ شدہ تاریخ کا گند صاف کرنے میں لگ جاتے ہیں اور ان کا اپنا کام جو ان شخصیات کی متنوع جہتوں کو اجاگر کرنے سے متعلق ہوتا ہے، وہ رہ جاتا ہے۔ اب تک تو جواب آں غزل ہی اصل تاریخ کی جگہ لیتی رہتی ہے۔ کتابیں تو ایک طرف اب اخباروں کے کالم نگار بھی اس کاروبار میں شریک ہو گئے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا لکھا حرف آخر ہے جسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ ان دو عظیم شخصیات کے حوالے سے ان کا ملکیت کا دعویٰ اتنا شدید ہے کہ وہ کسی اور کو ان سے محبت اور عقیدت کا حق دینے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ ان کی اجازت کے بغیر ان پر نہ تو کچھ لکھا جا سکتا ہے نہ بات ہو سکتی ہے۔ یہ لوگ اور ادارے ہاتھ پکڑ لیتے ہیں زبان پکڑ لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ حکمران ان سے ڈرتے ہیں۔ ان سے پوچھ کر کوئی پروگرام بناتے ہیں۔
ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم علامہ محمد اقبال کے ان ہول سیل ڈیلروں سے بہت خوفزدہ رہتے تھے۔ ان کی اپنی فکر حضرت علامہ کی فکر کی طرح بے پناہ وسعت رکھتی تھی۔ پھر بھی وہ ان کی ناز برداری میں لگے رہتے تھے۔ ان کی وجہ سے ڈاکٹر جاوید اقبال نے بھارت جانے کے کئی مواقع استعمال نہیں کیے۔ اس لیے کہ وہ جانتے تھے کہ ان ہول سیل ڈیلروں کی اتنی طاقت ہے کہ وہ ملک میں ان پر فتوﺅں کی بوچھاڑ کر کے والد کی وراثت سے محروم کر دیں گے اور وہ کر بھی سکتے تھے۔ اقبالیات اور قائداعظم کے ماہرین نے جی بھر کے دکانیں چمکائیں۔ جنہیں صحافت ، ادب اور سیاست میں کوئی کام نہیں آتا تھا انہوں نے یہ کام آسان سمجھ کے سنبھالا اور پھر عقیدت و جذبات فروشی کے بلند معیار قائم کر دیے۔
قائداعظم کی 11 اگست کی تقریر کا قصہ ایسا چلا ہے کہ جن کو نہیں ماننا وہ کبھی نہیں مانیں گے کہ جن کے نان و نفقہ کا بندوبست اس سے جڑا ہو وہ کیوں مانیں گے۔ اس وقت مختلف حکومتوں اور سرکاری اداروں کو بلیک میل کرنے والے یہ ہول سیل ڈیلر ایک مضبوط مافیا اور طاقتور قبضہ گروپ بن چکے ہیں۔ ان کے اپنے کالم نویس ہیں، اپنے دانشور ہیں۔ اپنے پروفیسر ہیں۔ اپنے وکلا ہیں۔ اپنے سیاسی حلقے ہیں اور یہ بہت باریکی سے ملک کے جریدوں، اخبارات اور میڈیا پر ہونے والی گفتگو اور تحریروں کو دیکھنے پر مامور ہیں اور اگر کوئی بھی حقیقت پسندی، روشن خیالی اور ترقی پسند تصورات کے حوالے سے قائداعظم اور علامہ محمد اقبال کے افکار کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ سب ان کی سرکوبی کے لیے فتوﺅں اور گالیوں سے لیس ہو کر صف آرا ہو جاتے ہیں۔ ان کی رسائی نصابی کتابوں کے محکموں تک بھی ہے جہاں وہ اپنی مرضی کی تاریخ اور معاشرتی علوم کے نصاب مرتب کراتے ہیں۔ ان دونوں مضامین کو طلبا کے لیے اتنا غیر دلچسپ بنا دیتے ہیں کہ نئی نسل کے طلبا و طالبات ان نصابوں سے پناہ مانگتے ہیں۔ مخصوص قسم کی اردو زبان جو سراسر کلیشے پر مبنی ہوتی ہے۔ جو صرف ان کے مالی مفادات کے لیے گھڑی گئی ہے ۔ جو اپنے معنی کھو چکی ہے۔ ان کتابوں میں قائداعظم اور علامہ اقبال کی ایک محدود تصویر پیش کرتی ہے۔ طلبا کے طرز احساس سے کوسوں دور یہ تاریخ اور معاشرتی علوم ان کے لیے ایک ڈراﺅنا خواب بن چکی ہے۔ میں نے بے شمار سکولوں اور کالجوں کے طلبا و طالبات کے ساتھ کئی سیشن کیے ہیں۔ سب کے سب ان جعلی کتابوں سے بے زار ایک ہی بات کرتے ہیں کہ یہ سب کتابیں ان کے لیے غیر دلچسپ ہیں اور وہ ان کے مزاج اور احساس سے بہت دور ہیں۔ اس لیے کہ جب کوئی تاریخ سے اپنے مفادات اور ایجنڈے کا کام لینے لگے تو تاریخ لولی اور لنگڑی ہو جاتی ہے۔ فیس بک پر کسی نے آٹھویں جماعت کے ایک طالب علم کے معاشرتی علوم کے پرچے کا عکس ڈالا ہے۔ بچے نے پرچے میں پچیس نمبروں میں سے صرف تین نمبر لیے ہیں۔ اس نے ایک سوال کا جواب اس طرح لکھا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔
سوال 1 : قائداعظم کے چودہ نکات لکھیں۔
جواب : ایک دن قائداعظم بہت ٹینشن میں تھے کہ پاکستان کیسے بنے گا۔ اسی ٹینشن میں انہوں نے پن اٹھایا اور یوں چودہ نکات لکھے۔
1+2+3 .......................14
تو مسلمان سمجھ گئے کہ قائداعظم پاکستان کی وجہ سے بہت ٹینشن میں ہیں۔ اس لیے ایسی حرکتیں کر رہے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے جلسے شروع کر دیے تو ہندوﺅں نے تنگ آکر انہیں پاکستان دے دیا۔
اس لیے ان چودہ نکات کو بہت اہمیت حاصل ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *