’منشیات کے ذاتی استعمال‘ کو غیرمجرمانہ قرار دلوانے کی کوشش

drugsغیر ملکی خبر رساں ایجنسی BBC  کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی جانب سے دنیا میں منشیات کو رکھنے اور اس کے استعمال کو غیرمجرمانہ قرار دلوائے جانے کی کوشش کا انکشاف ہوا ہے۔ منشیات اور جرائم پر اقوام متحدہ کے دفتر (یو این او ڈی سی) نے کم از کم ایک ملک کی جانب سے دباؤ کے بعد اس سلسلے میں ایک مقالے کی اشاعت بھی روک دی گئی ہے۔ افشا کی جانے والی دستاویز میں تجویز پیش کی گئی تھی کہ اقوام متحدہ کے ارکان ’منشیات کے ذاتی استعمال‘ کو غیرمجرمانہ بنانے پر غور کریں۔

دستاویز میں مزید کہا گیا تھا کہ منشیات کے استعمال کے سلسلے میں ’گرفتاریاں اور قید کی سزا غیر متناسب اقدامات ہیں۔‘ یہ دستاویز ویانا میں یو این او ڈی سی کی ایچ آئی وی کے شعبے کی سربراہ ڈاکٹر مونیکا بیگ نے آئندہ ماہ کوالالمپور میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں پیش کرنا تھا۔ یو این او ڈی سی منشیات کی بین الاقوامی کنونشنز کی نگرانی اور تعمیل پر رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ ادارے کے ذرائع نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی BBCکو بتایا ہے کہ تنظیم کی طرف سے اس دستاویز کی بطور پالیسی کے منظوری نہیں دی گئی تھی۔ ادارے کے ایک سینئر کارکن کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر بیگ ایک ’درمیانی درجے کی اہلکار‘ ہیں جو صرف اپنا پیشہ ورانہ نقطۂ نظر پیش کر رہی تھیں۔

unodcیو این او ڈی کا یہ دستاویز یہاں پڑھا جا سکتا ہے اپنے پاس منشیات رکھنا اقوام متحدہ کے کئی ارکان ممالک میں ایک جرم ہے۔ لیکن دوسری طرف منشیات کے استعمال کو غیرمجرمانہ قرار دینے پر مخالفین بھی موجود ہیں۔ برطانیہ کی وزارت داخلہ مسلسل یہ کہتی آئی ہے کہ اگر منشیات کو غیر مجرمانہ بنا دیا جاتا ہے تو ان کے نقصانات کا اندازہ نہیں ہوگا جو منشیات سے لاحق ہوتے ہیں۔ یو این او ڈی سی پر ایک طویل عرصے سے دباؤ ہے کہ وہ منشیات رکھنے اور اس کے استعمال کو غیر مجرمانہ بنانے پر ایک واضح بیان دے۔ تاہم عالمی ادارہ صحت اور یو این ایڈز سمیت دیگر اقوام متحدہ کے ادارے صحت اور انسانی حقوق کے تحفظ کی بنیاد پر منشیات کے استعمال کو جرم قرار دینے کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *