اچھی ہے گائے ، رکھتی ہے کیا نوک دار سینگ

zafarullahجنگ محنت اور سرمائے سے شروع ہوئی۔ سرمایہ دار نے محنت خرید کر سماج کے مظلوم طبقے کا بھاﺅ گرا دیا اور ٹھیکرا پھوڑا خدا کے نام۔ طبقاتی تقسیم کو ابدی حقیقت قرار دیا اور سماج میں ان خیالات کی ترویج پر سرمایہ لگا دیاجو انقلابی تغیر کا راستہ روک سکے۔ سماج کا قومی ترانہ یہ طے ہوا کہ دولت ہاتھوں کی میل ہے اور قسمت سے ملتی ہے ۔ اب قسمت طے کرنا والا ظاہرہے خدا تھا۔ لڑئیے تو کس سے ؟جھگڑئیے تو کس؟سماج کے ہر مزدور کے ہاتھوں پر صرف میل رہی اور دولت کو میل باور کرانے والا اپنے نرم ہاتھوں سے دولت سمیٹتا رہا۔مزدور کی پالی مارنے میں سرمایہ دار کا سب سے ذیادہ ساتھ دیا دانش فروش نے۔دانش کار تجارت بن گئی۔ عقل کے گھوڑے علم کی دانش گاہوں میںچرنے کی بجائے بھجن ہنہنا رہے تھے۔سماج کوفکری افلاس اور جہالت کے عذاب میںمبتلا کرنے کی دانستہ کوششیں کی گئیں۔ایسے میں سماج میںکچھ سرپھرے مزدور کی آواز بن گئے۔صحیح یا غلط، یہ بحث آئندہ پر اٹھا رکھتے ہیں۔
مزدور کے سیاسی شعور نے جہاں ایک طرف سرمایہ دارکا حلقہ باندھنا شروع کیاتو دوسری طرف ترقی پسند ادب کو بھی جنم دیا۔ادب اور دانش سرکار کے ٹھنڈے دانش کدوں کے باہر بھی سانس لینے لگی۔بھڑکتی آگ کے یہ شعلے متحدہ ہندستان بھی پہنچ گئے۔ تنظیم بنی۔ فیتے کٹے۔ قلم نیاموں سے باہر نکلے اور پہلی آواز گونجی۔ ’اب اور زیادہ سونا موت کی علامت ہو گی‘۔متحدہ ہندوستان کے انجمن ترقی پسند مصنفین کے پہلے صدارتی خطبہ میں یہ آواز پریم چند کی تھی۔انہوں نے کہا، ’ہماری کسوٹی پر اب وہ ادب پورا اترے گا جس میں تفکر ہو، آزادی کا جذبہ ہو، حسن کی جوہر ہو، تعمیر کی روح ہو اور زندگی کی حقیقتوں کی روشنی ہو‘۔دوسروں جنگ عظیم میں تاج برطانیہ کا سورج ڈھل چکا تھا۔ آزادی کی تحریکیں شروع ہو چکی تھیں۔ ایسے میں ایک نیا جھگڑا کھڑا ہو گیا۔ یہ جھگڑا گائے کا تھا۔ سیاسی اشرافیہ تو گائے کے مقدس اور غیر مقدس ہونے پر لڑ رہی تھی جبکہ ادیب آزادی اور فریب آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے۔ ترقی پسند ادیب نے سامراج کی مخالفت اس بنیاد پر کی تھی کہ سامراجی نظام میںانسان دوسرے انسان کا استحصال کرتا ہے مگر تقسیم کی قومی تحریک کی راہنمائی اسی بورژوا طبقے کے ہاتھ میںتھی جس کے خلاف ادیب نے آواز اٹھائی تھی۔آزادی کا خواب اور تھا، آزادی کا فریب کچھ اور نکلا۔
تقسیم ہوئی تو ایک بہتر سماج کے خواب ٹوٹ کر بکھر گئے۔ جاگیردار کو دانش فروش میسر آ گئے۔ ادب نے پھر بجھن گانے شروع کر دئیے۔جن ادیبوں نے سماج میں انسانی فطرت کی گندگی کو الفاظ میں منقش کر کے انسانی فطرت کا خبث باطن دکھایا ان پر ’لحاف زدوں‘ کی پھبتیاں کسی گئیں۔حد یہ ہوئی کہ ترقی پسند جریدوں نے منٹو کو رجعت پسند قرار دے کر ناقابل اشاعت قرار دیا۔دوسری طرف میٹھے میٹھے داستان گویوں نے ایوبی آمریت کے بارے میں لکھا، ’اصل جمہوریت ہماری قومی اور معاشرتی زندگی میں ہماری اپنی ہو کر پہلی مرتبہ جلوہ فگن ہوئی ہے اور اپنے جلو میں بہت سی توقعات سمیٹ لائی ہے‘۔
پون صدی کا قصہ ہے۔ انگلیاں فگار ہوئی مگر بندشیں ہنوز قائم ہیں۔ استاد کے الفاظ اب بھی کانوں میں گونج رہے ہیں کہ’ دشمنی علم سے ہے، دشمنی جمہور سے ہے۔ دشمنی دانش سے ہے‘۔جنوں کی حکایت لکھنا ہمارا کام ہے ۔ ہم لکھتے رہیں گے اس سے بے نیاز کہ کوئی تائید کرے یا نہ کرے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہماری آواز پر قدغنیں لگانے والے کون ہیں۔ ہمیں یاد ہے کہ ہمیں ’سیم و تھور‘ کس نے کہا تھا۔
سرکار کی داستانیں رقم کرنے والے خدا کے پڑوسی مگر آج بھی خود کو سیدھے راہ پر، دائیں بازو کے دانشور کہلانے پر بضد ہیں اور گریہ کناں بھی کہ ان کی آواز موجود نہیں ۔گائے کی داستان ابھی ختم نہ ہوئی کہ موضوع خم و ساغر ٹھہرا ۔ جانے کس نے لکھا تھا۔
غزل میں اب نئے مضمون لاﺅ
گل و گلزار کی ایسی کی تیسی
امیر شہر کی شاہی پہ لعنت
بھرے دربار کی ایسی کی تیسی
مقطع میں آپڑی ہے سخن گسترانہ بات۔ تو عرض کئے دیتے ہیں کہ’خم و خم دار کی ایسی کی تیسی‘ ۔مزدور کی آنتیں سوکھ گئیں۔ سرمایہ دار کے عشرت کدوں میں انسان کی آزادی برہنہ ناچ رہی ہے۔ افلاس اور جہالت متاع زیست ہے۔درماندوں اور فلاکت زدوں کے پاس کھانے کو روٹی تو چھوڑ، پینے کو صاف پانی نہیں ہے۔اور یہاں شراب پر سائنسی نکتہ آفرینی جاری ہے۔بے طرح مصر کے انجینئر عبد الفتیح یاد آگئے جنہوں نے سواد اعظم جنرل ضیاءکے منعقد کردہ اسلامی سائنسی کانفرنس میں مقالہ پیش کیا، کہ اللہ تعالی تانبے کے خالی خولوں کو ایسے انسانوں اور جنوں کو تباہ کرنے کے لئے استعمال کرنے کا ارداہ رکھتا ہے جو خلائی جہازوں میں بیٹھ کر آسمانوں کے ممنوعہ علاقوں میں جانے کی جرات کریں گے۔سائنسی فکر کا یہ درجہ تو آئن سٹائن کو بھی نصیب نہ ہو سکا۔
اب آ ہی پڑی ہے تو ماما قادر کی بھی سن لیجیے۔ ماما قادر سے ہمارا وہی تعلق ہے جو مرشدی یوسفی صاحب کا مرزا عبدالودود بیگ سے تھا۔ماما کہتے ہیں کہ ایک دن ’ملنگی بوٹی‘ پینے کے شوق میں کچھ ملنگوں کی محفل میںشرکت کا موقع ملا۔ موضوع سخن یہ تھا کہ نشہ ہرن کرنے میں سب سے زیادہ قصور لسی کا ہے جو نشہ کرنے کے بعد بالکل بھی نہیں پینی چاہیے۔(یہ اس پٹھانی لسی کا ذکر ہو رہا ہے جس میں سے مکھن نکال دیا جاتا ہے اور بہت کھٹی ہوتی ہے)۔ ابھی یہ بات جاری تھی کہ ایک اور ملنگ پکار اٹھا۔ارے بات سنو! لسی ہے کوئی جنت کا دودھ نہیں جس کی نہریں بہتی ہیں۔ دہی سے بنتی ہے۔ ناس ہی مارنا ہے تو دہی کا مارو۔ تیسرے نے غنودگی میں آواز دی! ماما قادر کی گائے کونسا ’ڈریکٹ‘ دہی دیتی ہے۔ اصل فساد کی جڑ دودھ ہے بھائیو۔ تھوڑی دیر خاموشی چھائی رہی اور پھر اس بوڑھے چلم نوش نے اپنا بھاری سر اٹھایا اور کہا! بھائیو تو طے یہ ہوا کہ جب تک زمین پر گائے موجود رہے گی ہمارا نشہ ہرن ہوتا رہے گا۔
تو اصل جھگڑا شروع بھی گائے سے ہوا تھا اور نشہ ہرن کرنے کا سبب بھی گائے ہے۔ شراب کی بحث چھوڑ دیجیے۔ گائے ذبح کیجیے اس سے نہ صرف مزدور کی سوکھی آنتوں کو ثواب ملے گا بلکہ دو قومی نظریہ کی اساس مضبوط ہو کر ایک صحیح ’مثالی معاشرہ‘ کا قیام کا سبب بھی بنے گا۔خاتمہ کلام اسی پہلی آواز پر کرتے ہیں ۔’ہماری کسوٹی پر اب وہ ادب پورا اترے گا جس میں تفکر ہو، آزادی کا جذبہ ہو، حسن کی جوہر ہو، تعمیر کی روح ہو اور زندگی کی حقیقتوں کی روشنی ہو۔ اب اور زیادہ سونا موت کی علامت ہو گی‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *