اردو سمجھنے والے معین کپتان کو پاکستانی منصوبے بتاتے رہے

moeen انگلینڈ کے آل راونڈر معین علی نے منگل کو انکشاف کیا کہ پاکستانی پس منظر ہونے کی وجہ سے ابو ظہبی ٹیسٹ میچ میں انہیں حریف ٹیم کے کپتان الیسٹر کک کو آو¿ٹ کرنے کے منصوبوں کی معلومات ملتی رہیں۔28 سالہ معین اردو اور پنجابی زبان سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ میچ کے دوران پاکستانی کھلاڑیوں کی گفتگو اور منصوبوں سے آگاہ رہے۔برمنگھم میں پیدا اور بڑھے ہونے والے معین کے دادا نے آزاد کشمیر سے ہجرت کرنے کے بعد یہاں ایک انگریز خاتون سے شادی کی تھی۔معین کے مطابق ’مجھے ان کی بات چیت سمجھ آ تی ہے۔ جب انہوں نے کک کو آوٹ کرنے کا منصوبہ بنایا تو میں اپنے کپتان کو ان کے منصوبوں سے آگاہ کرتا رہا‘۔ابو ظہبی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں کک نے شاندار 263 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔ڈرا نظر آنے والے میچ کے آخری دن پاکستانی بیٹنگ کے ناکام ہونے کی وجہ سے انگلینڈ فتح کے انتہائی قریب پہنچی تھی کہ امپائرز نے خراب روشنی کی وجہ سے کھیل ختم کر دیا۔معین کا خیال ہے کہ انگلینڈ نے پہلے ٹیسٹ میں اپنی پرفارمنس سے پاکستان کو پریشان کر دیا ہے۔ ’پہلے میچ سے ہمیں بھرپور اعتماد ملا تو دوسری جانب پاکستان کو کچھ پریشانی ہوئی ‘۔انگلش آل راونڈر سمجھتے ہیں کہ پاکستان جمعرات سے دبئی میں شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میں بھرپور واپسی کرے گا۔معین نے ساتھی سپنر عادل رشید کی تعریف کرتے ہوئے کہا ’ہم نے شاید آخری سیشن میں انہیں اچانک حیران کر دیا تھا، لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ بھرپور انداز میں واپسی کریں گے اور ہم اس سے آگاہ ہیں‘۔معین نے ابو ظہبی میں 34 اوورز میں 163 رنز دے کر وکٹ حاصل کرنے سے محروم رہنے والے عادل کے بارے میں کہا ’میں ان کیلئے بہت خوش ہوں‘۔’بطور ٹیم ہم سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کافی اچھی باولنگ کی۔ پچ میں عادل یا میرے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔ہم عادل سے کہتے رہے کہ انہیں وکٹیں ملیں گی۔ وہ پریکٹس کے دوران اچھی باو¿لنگ کر رہے ہیں‘۔’ ان میں بے پناہ صلاحیت ہے اور اگر وہ پر اعتماد رہے تو ان کیلئے اچھا ہو گا‘۔پہلی اننگز میں پہلی وکٹ کیلئے کک کے ساتھ مل کر116 رنز بنانے والے معین نے بتایا کہ وہ بیٹنگ میں اوپن کر کے بہت خوش ہیں۔’میں نے ٹیم کیلئے اپنی ذمہ داری نبھائی اور آخر میں یقینی بنایا کہ ا±س شام کھیل ختم ہونے تک ہماری کوئی وکٹ نہ گرے‘۔’مجھے کچھ رنز بنانا تھے۔ ہمیں ایک ایسے اوپنر کی ضرورت ہے جو رنز بنا سکے‘۔معین نے تسلیم کیا کہ کمر درد کی وجہ سے پہلے ٹیسٹ میچ نہ کھیلنے والے لیگ سپنر یاسر شاہ کی دوسرے ٹیسٹ میچ میں واپسی سے پاکستان کو تقویت ملے گی۔’یاسر ا±ن کا مرکزی ہتھیار ہے اور وہ میچ جیتنے کیلئے اسی سے مدد لیتے ہیں‘۔’وہ ایک بہت اچھے باو¿لر ہیں تاہم ہمیں انہیں دوسرے باو¿لرز کی طرح کھیلنا ہو گا‘۔معین امید کر رہے ہیں کہ انگلینڈ سپین کے خطرے سے بخوبی نمٹ سکے گا۔’ابوظہبی کے مقابلے میں دبئی میں بیٹنگ کرنا مشکل ہو گا، لیکن ہمارے پاس سپن کھیلنے والے کچھ اچھے بلے باز بھی ہیں‘۔’میرے خیال میں جو روٹ دنیا بھر میں سپن کے سب سے بہترین کھلاڑی ہیں، لہذا ہم بہت زیادہ پریشان نہیں۔ ہم پر اعتماد اور اچھی تیاری کر رہے ہیں‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *