ہمارے اور ان کے انتہا پسند

zeeshan hashimاگر بھارت میں حالیہ ہندو مسلم کشیدگی ”دو قومی نظریہ“ کا اثبات کرتی ہے تو پاکستان میں شیعہ سنی تنازعات خاص طور ہزارہ کے لوگوں کا قتل عام یہ سب کیا ثابت کرتے ہیں ؟
کوئٹہ میں خانہ جنگی کیا ثابت کرتی ہے ؟
وزیرستان کے لوگ بے گھر ہیں اور انہیں سندھ و پنجاب میں داخلہ کی اجازت نہیں تو اس سے کیا مراد ہے ؟
طالبان سے جاری جنگ ، جس میں دونوں فریق مسلمان ہیں ، ستر ہزار سے زائد لوگ قتل ہو چکے ہیں ، اس سے کس قومیت کی تصدیق ہوتی ہے ؟
پاکستان میں مسلمانوں کے باہمی فرقہ وارانہ تنازعات میں جتنے لوگ ہلاک ہوئے ہیں ، ان کی تعداد بھارت میں ہندو مسلم فسادات کے مقتولین سے کہیں زیادہ ہے ، اس سے سمجھنے والا کیا سمجھے ؟
انیس سو سینتالیس میں جنم لیتے ہیں ، اور اکہتر میں اکثریتی آبادی کا حامل آپ کا نصف آپ کو دھتکار کر آپ سے یوں علیحدہ ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش میں کسی کو غداری کا سرٹیفکیٹ دینا ہو تو اسے پاکستانی ایجنٹ کہہ کر قصہ تمام کر دیا جاتا ہے ،کیا یہ تقسیم در تقسیم دو قومی نظریہ کی اگلی قسط تھی ؟
دوسری طرف آپ میں اتنی سمجھ بوجھ نہیں کہ جب آپ مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے سیکولر ازم پر تنقید کرتے ہو ، تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی بش پر تنقید کر کے اسلام کو بدنام کرنا چاہے ۔ مودی اور پاکستانی انتہا پسندوں میں کس درجے کا فرق ہے ، دونوں مذہبی انتہا پسند ریاست کے خواہاں اور سیکولر ازم کے دشمن ہیں ۔ کیا حافظ سعید ، طالبان ، آر ایس ایس اور شیو سینا میں کوئی فرق ہے ؟ صاحب ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ پاکستان و بھارت کا یہ انتہا پسند گند صاف ہو اور دونوں ریاستیں اپنے تمام شہریوں کے لئے مذہب و نسل سے ماورا ہو کر فلاحی اقدامات کریں -
ہندوستان میں ہندو مذہبی غلبے سے ڈرتے ہو ، اور پاکستان میں مذہب کے نام پر سانپوں کو دودھ پلاتے ہو ، تم کیا کرتے ، کہتے اور سوچتے ہو میاں ؟. اگر تمہیں پاکستان و بھارت میں مذہبی انتہا پسندی سے واقعی تکلیف پہنچتی ہے تو آو¿ مل کر نعرہ لگائیں ، سیکولر ازم زندہ باد ، شہریت کی مساوات زندہ باد ، انسانیت زندہ باد ، امن و مسرت زندہ باد ۔ اگر یہ نعرے لگاتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے تو پھر خوشیاں مناو¿ کہ سرحد کی دوسری طرف تمہارے انتہا پسند سوتیلے بھائی وہی کچھ کر رہے ہیں جو تم کب سے یہاں پاکستان میں کئے جا رہے ہو ۔

ہمارے اور ان کے انتہا پسند” پر ایک تبصرہ

  • اکتوبر 22, 2015 at 10:43 PM
    Permalink

    سچ تو یہ ہے کہ یہ "دو" قومی نظریہ اپنی سمجھ سے ہمیشہ بالاتر رہا. اگر ایک لمحے کو مان بھی لیا جاے کہ بنگلہ، اردو، تمل، کنڑ، مراٹھی، بھوجپوری، بلوچی، پشتو، سندھی وغیرہ بولنے والے شیعہ، سنی، دیو بندی، بریلوی، آغا خانی، بوہرہ، وہابی، (تب تک) قادیانی، لاہوری، چکڑالوی، نور بخشی وغیرہ کسی منطق کی رو سے ایک قوم قرار پاے، تو باقی باشندگان بر صغیر از قسم سناتن دھرمی، ست پنتھی، آریہ سماجی، دیو سماجی، شو پنتھی ، رام بھگت، کرشن بھگت، چارواک، ناستک، ادویتک، پارسی، بدھ، مسیحی، جین، یہودی، مظاہر پرست وغیرہ کس قاعدے کی رو سے دوسری قوم شمار کر لئے گئے؟

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *