ناسا کی ویب سائٹ پر زمین کی روشن تصاویر

sapce_6امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایک نئی ویب سائٹ متعارف کروائی ہے جس میں لوگ روزانہ زمین کے روشن حصوں کی تصاویر دیکھ سکیں گے۔ یہ تصاویر ناسانے دس لاکھ میل دور خلا میں قائم ڈیپ سپیس کلائمٹ آبزرویٹری (ڈسکور) سے لی ہیں۔ یہ رصدگاہ ناسا، نیشنل اوشیانک ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (نوآ) اور امریکی فضائیہ کے باہمی اشتراک سے بنائی گئی ہے۔

پیر کو متعارف کرائی جانے والی اس ویب سائٹ پر روزانہ زمین کی کم از کم ایک درجن تصاویر ڈالی جائیں گی، جو پچھلے 12 سے 36 گھنٹوں کے دوران ناسا کے ارتھ پولی کرومیٹک امیجنگ کیمرا (ایپک) سے لی گئی ہوں گی۔ ان تصاویر کو زمین کی گردش کے مطابق اس ترتیب سے ڈالا جائے گا کہ دیکھنے والے روزانہ خلا سے زمین کا پورے دن کا احوال جان سکیں گے۔ ویب سائٹ پر ایپک سے لی گئی پرانی تصاویر بھی ڈالی جائیں گی جو سائٹ پر تاریخ اور براعظم کا نام لکھ کر تلاش کی جا سکیں گی۔

moon_spaceڈسکور اور نوآ کی جانب سے تصاویر جاری کرنے کا بنیادی مقصد ملک میں حقیقی وقت میں شمسی ہوا کے مشاہدے کی صلاحیتوں کو برقرار رکھنا ہے۔ یہ معلومات خلا کے موسم اور نوآ کی پیش گوئیوں کی درستی کے لیے ضروری ہیں۔ ناسا کے خلائی جہاز میں زمین کا مشاہدہ کرنے کے لیے دو آلات نصب ہیں۔ ایپک سے لی گئی ان تصاویر سے سائنس دانوں کو زمین پر رونما ہونے والی روزمرہ تبدیلیوں کے بارے میں جاننے میں مدد ملتی ہے، جیسے نباتات، اوزون، ہوا میں معلق ذرات، بادلوں کی اونچائی اور انعکاسیت، وغیرہ۔ ایپک چار میگا پکسل کیمرے اور دوربین پر مشتمل ہے جو تین علیحدہ رنگوں کی تصاویر کو ایک ساتھ ملانے کے بعد زمین کی ایک نئی تصویر تخلیق کرتا ہے جس کی ریزولوشن 12 میگا پکسل کیمرے جیسی ہوتی ہے۔

nasa_earthامریکی ریاست میری لینڈ میں ناسا کے گوڈارڈ سپیس فلائٹ سینٹر میں ڈسکور کے منصوبے پر کام کرنے والے سائنس دان آدم زابو نے بتایا کہ ’ڈسکور ایپک کیمرے کی اصل ریزولوشن 6.2 اور 6.4 میل کے درمیان ہے۔‘ خلا کے اندھیرے میں زمین انتہائی روشن دکھائی دیتی ہے، اس لیے ایپک کو واضح شکل دکھانے کے لیے ایک ملی سیکنڈ میں 20 سے 100 کے قریب تصاویر لینی پڑتی ہیں۔ اتنے کم ایکسپوژر کی وجہ سے زمین کے پس منظر میں موجود دھندلے ستارے تصویر کا حصہ نہیں بن پاتے۔

ناسا کی ویب سائٹ پر زمین کی روشن تصاویر” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *