کرزئی نےاس سال سیکیورٹی معاہدے پر دستخط کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا

John Kerry and Hamid Karzaiافغان حکومت نے صدارتی الیکشن سے قبل سیکیورٹی معاہدے پردستخط کا امریکی مطالبہ مستردکر دیا۔افغان صدر حامدکرزئی کے ترجمان ایمل فیض نے اپنے بیان میں کہاکہ افغانستان میں آئندہ سال اپریل میں صدارتی الیکشن ہونے ہیں، اس سے قبل امریکاکے ساتھ سیکیورٹی معاہدے پر دستخط نہیں ہوں گے، اس سلسلے میں ہم امریکاکی کوئی بھی ڈیڈ لائن تسلیم نہیں کریں گے، امریکا کی جانب سے یہ مطالبہ ہمارے لیے نئی بات نہیں ہے۔ ترجمان نے کہا کہ صدر کرزئی نے پارلیمنٹ کو تجویز دی تھی کہ صدارتی الیکشن سے قبل سیکیورٹی معاہدے پر دستخط کی منظوری نہ دی جائے، افغان پارلیمنٹ نے معاہدے کی جلدبازی میں منظوری کے امریکی مطالبے کو مستردکر دیاہے۔ ترجمان کے مطابق افغان صدر کا کہنا تھا کہ فی الحال انتظار کرنے اور یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ لویہ جرگہ اس پر کیا فیصلہ کرتا ہے کیونکہ اگر یہ معاہدہ لویہ جرگے سے منظور ہو گیا تو اگلے برس صدارتی انتخابات کے بعد اس پر دستخط کر دیے جائیں گے۔
ادھر امریکا نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے پر رواں سال کے اختتام پر دستخط ہو جانے چاہئیں اور اس پر تاخیر کرنا عملی طور پر ناممکن ہے۔ بی بی سی کے مطابق حامدکرزئی کا یہ کہنا کہ اس معاہدے پر 2014میں صدارتی انتخابات سے پہلے دستخط نہیں ہونگے۔ دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ اس معاہدے پر جلد دستخط ہونے سے افغانیوں کو ان کے مستقبل اور آئندہ انتخابات کے بارے میں غیریقینی صورت حال ختم ہو جائے گی اور امریکا اور اس کے اتحادیوں کو2014 کے بعد امریکی موجودگی کی منصوبہ بندی کرنے میں آسانی رہے گی۔ ادھر وائٹ ہائوس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے کہاکہ یہ اہم ہے کہ اس معاہدے پر اس سال کے آخر تک دستخط ہو جائیں اور اس کی منظوری بھی ہو جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *