ذوالفقار مرزا، ارباب غلام رحیم اور پیر پگاڑہ کا اینٹی زرداری اتحاد

majid siddiquiخبریں یہ آرہی ہیں کہ اپنے سابقہ دیرینہ دوست آصف علی زرداری سے حد درجہ ناراض ذوالفقار مرزا ایک نئی سیاسی جماعت یا صوبہ سندہ کی حد تک ایک اینٹی زرداری اتحاد بنانے جارہے ہیں۔ فی الحال اس جماعت یا اتحادکا کوئی نام یا واضح تصویر تو سامنے نہیں آسکی ہے، تاھم کسی حد تک اس کے بنیادی خدوخال ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ تاریخی طور پر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں اور اتحادوں( اس میں ایک کو بھی استثنیٰ نہیں) کے پیچھے چھپا ہوا ہاتھ کارفرما ہوتا ہے، سو اب کے بار بھی انہی ہاتھوں کی صفائی کچھ نیا دکھانے جارہی ہے۔ صوبے میں بلدیاتی انتخابات سر پر ہیں اور اس سے پہلے ظاہر ہے اس نوعیت کی صف بندیا ں تو ہونی ہیں۔ ذوالفقار مرزا کے لئے اس وقت سب سے بڑا چیلنج ضلع بدین سے ، جسے وہ اپنا گڑ ھ گردانتے ہیں، پیپلزپارٹی یا بقول ذوالفقار مرزا، زرداری لیگ کو ہرانا ہے۔
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی سے ٹوٹ کر جب بھی کسی نے الگ جماعت بنانی چاہی، اسے بس دشت کی سیاحی اور قسمت کی سیاہی نصیب ہوئی۔ سب سے پہلے انکل ممتاز بھٹوکی جماعت سندھ نیشنل فرنٹ ، جسے خود انہوں نے انتخابات سے قبل نواز لیگ میں ضم کردیا تھا اورجہاں سے دھوکہ کھانے کے بعد وہ اب پی ٹی آئی کا آنچل پکڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ عوام کی اکثریت کو اب ان کی پارٹی کا نام بھی یاد نہیں۔ پھر انکل غلام مصطفی جتوئی کی نیشنل پیپلز پارٹی، جو ضلع نوشہرو فیروز سے کبھی باہرہی نہ نکل سکی، پھر فاروق لغاری کی ملت پارٹی ، جو قلت پارٹی بن کے پہلے ق لیگ میں اور اب ن لیگ میں کہیں گم ہوچکی ہے۔ آفتاب شیرپاﺅ کی پیپلزپارٹی (شیرپاو)بھی بالآخر ’قومی وطن پارٹی‘ بن گئی ہے اور شیرپاﺅکے آبائی علاقے چارسدہ سے باہر نکل نہیں پائی ہے۔ آج کل اپنے سیاسی وجود قائم رکھنے کے لئے قومی وطن پارٹی خیبر پختون خوا میں قائم پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کا حصہ بن گئی ہے۔ حقیقت میں تو یہ جماعت بھی چڑیا کی طرح کبھی اس منڈیر پر تو کبھی اس منڈیر پر۔پھر پیپلز پارٹی شہید بھٹو، جسے خود گھر کے افراد نے الگ کیاتھا، اب پتہ نہیں ، کہاں ہے، کیا کرتی ہے۔ اپنے پورے سیاسی کیریئر میں اس جماعت نے ایک مرتبہ ہی انتخاب جیتا ہے، جب مرحوم مرتضیٰ بھٹو لاڑکانہ سے ایک صوبائی سیٹ جیت کر اسمبلی میں پہنچے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ سیٹ بھی بیگم بھٹو کے کہنے پر بہن (بے نظیر)نے ہی جتوائی تھی، تاکہ بھائی کا غصہ ٹھنڈ ا ہو۔ سو مجموعی طور پر پیپلز پارٹی سے علیحدہ ایڈوینچر کرنے کا خیال نقصان دہ ہی ثابت ہوا ہے۔ مگر یہ تو سب محترمہ شہید کی دنوں کی باتیں ہیں۔ اب تو پیپلز پارٹی خود اپنا وجود بچانے کے لئے پریشان ہے۔ ظاہر ہے یہ ستر، اسی، نوے ، یا سنہ دوہزار کی پیپلز پارٹی نہیں۔ یہ تو پوسٹ دو ہزار آٹھ کی زخم خوردہ پیپلز پارٹی ہے، جس کے گھاﺅ بھرنے کے لئے اب تک کوئی سامنے نہیں آسکا۔ ایسے میں اسے سیاسی حوالے سے چیلنج کرنا ، اب کوئی اتنا بڑا چیلنج بھی نہیں رہا، تاہم جماعت کو آنے والے بلدیاتی انتخابات میں ہرانا اب بھی مشکل نظر آرہا ہے، جس کی وجہ اس کی عوامی حمایت نہیں بلکہ سندہ سرکار ہے، جو کسی بھی قیمت پر اپنی جماعت کو انتخابات ہارنے نہیں دے گی۔ سننے میں آرہا ہے کہ ذوالفقار مرزابدین میں اچھا خاصہ اثر رسوخ رکھتے ہیں اور صوبہ بھر میں زرداری مخالف جذبات کی وجہ سے اپنے ضلع میں کچھ نیا دکھانے جارہے ہیں۔ حالات کا عندیہ یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں بلدیاتی انتخابات کے ہر مرحلے کے دوران بہت سا گند نظر آئے گا۔ ذوالفقار مرزا گذشتہ دنوں دوبار ارباب غلام رحیم سے ملے ہیں۔ اس سے قبل پیر پگارہ بھی ذوالفقار مرزا کے گھر پدھار چکے تھے۔ وہ بظاہر تو مرزا صاحب کے والد کے انتقال پر تعزیت کرنے آئے تھے، تاہم اس تعزیت کے پیچھے صوبے کی سیاست کے اسرار و رموز چھپے ہوئے تھے۔ لگتا ہے کہ مرزا، اربا ب اور شاید کچھ اور حضرات پر مبنی ایک تگڑا سیاسی اتحاد جلد تشکیل پانے والا ہے، جس کی سربراہی جناب پیرپگاڑا کریں گے اور جو بدین سمیت صوبے بھر کے کافی اضلاع میں پیپلز پارٹی کو ٹف ٹائم دے سکتا ہے۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی ، پنجاب سے ہاتھ دھوبیٹھنے کے بعد اب سندہ میں بھی سیاسی طور پر تکلیف دہ صورت حال میں ہے۔ ایک زرداری ، سب پربھاری ،خود گذشتہ چار مہینے سے سین سے آﺅٹ ہیں۔ ان کے فرزند ارجمند بلاول زرداری ، پنجاب کی خاک چھاننے کے بعد تھک ہار کر کوئی کونہ پکڑ چکے ہیں۔صوبہ سندہ ، جہاں پیپلز پارٹی سرکار ہے، سیاسی،سماجی اور معاشی طور پر تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔چاروں طرف افرا تفری کی سی کیفیت ہے۔ ایسے میں پیپلز پارٹی طاقت کا استعمال کرکے بلدیاتی انتخابات جیتنا چاہتی ہے۔ یہ صورتحال پہلے سے مفلوک الحال صوبے کے صورتحال کو مزید فتنے اور فساد کی راہ پر گامزن کردے گی۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی قیادت کے اندرونی اختلافات ، جماعت کی خستہ حال اور گرتی ہوئی عمارت کو ایک دکھا اور دینے والی ہے۔ سننے میں آرہا ہے کہ سکھر میں خورشید شاہ اور اسلام الدین شیخ کے درمیان طاقت کی رسہ کشی جاری ہوچکی ہے۔ دونوں لیڈران صرف اپنی اپنی اولادوں کو سکھر کا میئر دیکھنے کے خواہاں ہے اور یہ جھگڑا اب زور پکڑتا جارہا ہے۔اند ر کے لوگوں نے بتایا ہے کہ اس ساری صورتحال میں ز رداری صاحب ، خورشید شاہ کے مقابلے میں اسلام الدین شیخ کے حق میں ہیں۔ پارٹی کی طرف سے خورشید شاہ کو منانے کی کوششیں جاری ہیں۔ محترمہ فریا ل تالپور عرف ادی اپنے بھائی کا پیغام لیکر خورشید شاہ کے پاس گئی بھی تھیں، تاہم شاہ صاحب نے ان کی ایک نہ سنی اور وہ ناکام ہی لوٹ آئیں۔ پارٹی دوسری جگہوں پر بھی اسی نوعیت کے اختلافات کی زد میں ہے۔ آنے والے دن کئی اور کہانیاں لیکر سامنے آسکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ذوالفقار مرزا، ارباب غلام رحیم، پیرپگاڑہ اور دوسرے پی پی مخالف افراد پر مشتمل مجوزہ اتحاد کیا رنگ لاتا ہے۔
زرداری صاحب کے لئے تاریخ کا ایک سبق.... سنا ہے کہ ایران کے شاہ محمد رضا پہلوی کے جانشین رضا پہلوی کی پیدائش پر پاکستان تک مٹھائیاں بانٹیں گئیں اور ڈھول پیٹے گئے۔ شاہ نے اپنے بیٹے کی ولادت کے وقت دنیا بھر میں اعلان کیا کہ ایران کا اگلا شہنشاہ ان کا بیٹا ہوگامگر پھر تاریخ نے ہم سب کو دکھایاکہ شاہ ملک بدر ہوا اورزندگی کے آخری ایام قسم پرسی کی حالت میں گذارنے پر مجبور ہوا، جب ساٹھ سال عمر گذارنے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوا تو ان کے لئے دو گز زمین کہیں میسر نہ تھی۔جسے آخر میں مصر کے صدر انور سادات نے رحم کھاکر دفنانے کی اجازت دے دی۔ایران کا جانشین رضا پہلوی آج کل امریکا میں قیام پذیر ہیں، جہاں وہ ایک جماعت ایران نیشنل کاو¿نسل کے بانی اور سربراہ ہیں۔ نہیں معلوم اس جماعت کو ایران میں کتنی پذیرائی حاصل ہے ، مگر فی الحال صورتحال یہ ہے کہ سترہ سال کی عمر میں اپنے اہل وعیال کے ساتھ ایران چھوڑنے والا رضا شاہ آج تک اپنے وطن کی سرزمین پردوبارہ قدم نہیں رکھ سکا ہے۔ تاریخ ہم سب کے لئے سبق حاصل کرنے کے لئے مثالوں سے بھری پڑی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *