جنرل عدالت کے کٹہرے میں

Najam Sethiنواز شریف حکومت نے آخر کار سپریم کورٹ کی ہدایت پر جنرل (ر) مشرف کے خلاف تین نومبر 2007ء کے اقدامات، جب اُنہوں نے ایمرجنسی کا نفاذ کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان اور اُن کے ساتھی جج صاحبان کو معطل کر دیا تھا، کی پاداش میں آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ قائم کر دیا ہے۔ حکومت کی درخواست پر سپریم کورٹ نے اس کیس کی سماعت کے لئے ہائی کورٹ کے جج صاحبان پر مشتمل ایک خصوصی بنچ تشکیل دیا ہے۔ کیا ان اقدامات سے یہ مراد لی جائے کہ نواز شریف دفاعی اداروں کو سول حکومت کے ماتحت لانے کے عزم پر کاربند ہیں؟یا پھر یہ ایک مرتبہ پھر یہ طے کر لیا گیا ہے کہ پرویز مشرف کو اس کیس میں بھی بڑی ہوشیاری سے اُسی طرح نکال لیا جائے گا جیسے اُنہیں قتل کے چار مقدمات میں بری کیا جاچکا ہے؟
اس مقدمے میں اہم بات یہ ہے کہ حکومت نے یہ قدم اُس وقت اٹھایا ہے جب ملک کی دو مقتدر ترین شخصیات، جن کو اس کیس میں متضاد حوالے سے دلچسپی ہو سکتی ہے، اپنے اپنے منصب سے سبکدوش ہونے والی ہیں۔ ان میں سے ایک شخصیت چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری ہیں جو 2007ء میں جنرل مشرف کی طرف سے لگائی گئی ایمرجنسی کی زد میں آئے تھے چنانچہ اُن کو اس مقدمے میں ذاتی دلچسپی ہو سکتی ہے۔ دوسری شخصیت آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی ہیں جو نومبر 2007ء، جب جنرل مشرف نے ایمرجنسی لگائی، میں وائس چیف آف آرمی سٹاف (VCOAS) تھے۔ جب جنرل مشرف ملک کے صدر منتخب ہوئے تو کیانی صاحب کو پی سی او سی سے بہت فائدہ ہوا۔ چنانچہ ان کی ذاتی دلچسپی اس میں ہے کہ اس کیس کو دفن کر دیا جائے تاہم وہ وقت قریب ہے جب یہ دونوں طاقتور شخصیات اس پوزیشن میں نہیں ہوں گی کہ اس کیس پر اثر انداز ہو سکیں۔ کیا یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ حکومت بالکل منصفانہ انداز میں مکمل غیر جانبداری سے اس معاملے کو آگے بڑھائے گی اور اس کی شفافیت پر کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہیں ملے گا؟ شواہد بتاتے ہیں کہ ایسا نہیں ہو گا۔ اٹارنی جنرل کا دعویٰ ہے کہ ایف آئی اے کے پاس جنرل مشرف کے خلاف مضبوط ثبوت موجود ہیں لیکن ایف آئی اے کے ایک سینئر ممبر نے پریس کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ’’جنرل مشرف کے خلاف فی الحال کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہیں‘‘۔اٹارنی جنرل نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ اگرچہ یہ آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ ہے لیکن ملزم خصوصی عدالت کو ضمانت کی درخواست دینے کا حق رکھتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت اس ضمانت کی مخالفت نہیں کرے گی۔ ایف آئی اے تسلیم کرتی ہے کہ اُسے مقدمے کی تیاری کے لئے جی ایچ کیو کی معاونت درکار ہوگی لیکن اگر مختلف مقدمات کی مثال سامنے رکھیں، جیسا کہ بلوچستان کے گم شدہ افراد کا کیس، محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات یا بدعنوانی کے ایسے کیس جن میں فوج کے اعلیٰ افسران ملوث پائے گئے تھے تو قیاس اغلب ہے کہ جی ایچ کیو سے درکار معاونت کا حصول مشکل ہو گا۔اس کامطلب ہے کہ فوج اپنے سابقہ چیف کا تحفظ کرے گی۔ اس کے علاوہ اس کیس میں کچھ خامیاں بھی ہیں۔ بنچ میں موجود جج مسٹر فیصل عرب نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا جبکہ جسٹس یاور علی جسٹس (ر) خلیل الرحمن رمدے کے برادر ِ نسبتی ہیں۔ رمدے صاحب بھی ان جج صاحبان میں شامل ہیں جنہیں جنرل مشرف نے چیف جسٹس صاحب کے ساتھ معطل کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ چیف جسٹس صاحب کے قریبی رفقاء میں شامل سمجھے جاتے ہیں۔ ان معروضات کی وجہ سے اس کیس کا ٹرائل شکوک و شبہات کے غبار میں اٹا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ استغاثہ کے لئے یہ ثابت کرنا بہت مشکل ہو گا کہ نومبر2007ء میں ایمرجنسی کا نفاذ کرتے ہوئے آئین سے انحراف کا الزام صرف اور صرف جنرل مشرف کے سر جاتا ہے اور یہ کہ دیگر اعلیٰ فوجی افسران، جن میں کیانی صاحب بھی شامل ہیں، اس اقدام میں ملوث نہ تھے۔ درحقیقت آرٹیکل 6 کے تحت مقدمے کی ایسی کوئی تاریخی مثال نہیں ملتی ہے کہ صرف ایک شخص کو ملزم نامزد کیا جائے جبکہ اس کے معاونین، جنھوں نے ایمرجنسی کے نفاذ میں اس کا ساتھ دیا، سے اغماض برتا جائے۔ اگر پہنچنے والی اطلاعات درست ہیں تو 1999ء اور 2007ء کے پی سی اوز کے خالق مسٹر شریف الدین پیرزادہ پرویز مشرف کے دفاع کے لئے موجود ہوں گے۔ اس سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ان کو بچانے کے آئینی موشگافی تلاش کر لیں گے۔
نواز شریف نے بہت سے دیگر معاملات کو ملحوظ ِ خاطر رکھنا ہے۔ ان کو 2000ء میں سعودی عرب کی مداخلت سے ہی جنرل مشرف، جو انہیں سزائے موت دینے پر تلے ہوئے تھے، سے چھٹکارا ملا تھا۔ جلاوطنی کے دوران کم و بیش ایک عشرہ تک وہ سعودی عرب کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوتے رہے ۔ اس کے بعد سعودی حکمرانوں کی یہ بات بھی جنرل مشرف نے مان لی کہ نواز شریف کو 2007ء میں وطن واپس آکر انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔ اب ہوسکتا ہے کہ نوازشریف کے لئے حساب کتاب بے باق کرنے کا موقع آجائے۔ اس کے علاوہ یہ حقیقت تسلیم کرنے میں کسی کو تامل نہیں ہونا چاہئے کہ فی الحال ہماری جمہوری حکومت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ طاقتور دفاعی اداروں کو اپنے تابع لا سکے۔ اس وقت حکومت کے سامنے بیمار معیشت اور توانا ہوتے ہوئے طالبان کے خطرات زیادہ اہم ہیں۔ اس وقت حکومت کو فوج کی مدد کی شدید ضرورت ہے چنانچہ وہ اس کے سابق باس کو سزا دلاتے ہوئے سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کا خطرہ مول نہیں لے گی۔ہمارے حکمرانوں کو ترکی کی مثال بھی یاد ہو گی کہ وہاں بھی طاقتور فوج کو تابع بنانے اور سیاسی مداخلت سے باز رکھنے کے لئے سول حکومت کو طویل عرصے تک پیہم جدوجہد کرنا پڑی تھی۔ ہمارے ہاں جو صورتحال بننے جارہی ہے وہ یہ ہے کہ جنرل مشرف کے کیس کی سماعت موجودہ چیف جسٹس اور آرمی چیف کی روانگی کے بعد ہوگی۔ ان کے جانشینوں کے ساتھ حکومت ’’وسیع تر قومی مفاد‘‘ میں مصالحت کی پالیسی پر عمل کرنا چاہے گی۔ اس لئے جنرل مشرف کی پانچویں کیس میں بھی ضمانت ہوجائے گی اور بڑے آرام سے پُرتعیش جلاوطنی کی زندگی گزاریں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *