Site icon DUNYA PAKISTAN

کورونا وائرس: آئی ایم ایف متاثرہ ممالک کو 10 کھرب ڈالر دینے کیلئے تیار

Share

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ وہ کورونا وائرس سے متاثرہ اور معاشی اثرات سے نبرد آزما ممالک کی مدد کے لیے 10 کھرب ڈالر قرضہ دینے کے لیے تیار ہے۔

واضح رہے کہ 15 مارچ کو امریکی فیڈرل ریزرو نے معاشی نمو کی حوصلہ افزائی کے لیے سود کی شرح صفر کردی تھی۔

 رپورٹ کے مطابق علاوہ ازیں واشنگٹن نے معیشت کو کورونا وائرس کے اثرات سے بچانے کے لیے 700 ارب ڈالر کے پروگرام بھی شروع کیے۔تحریر جاری ہے‎

آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جورجیفا نے ایک بیان میں کہا کہ آئی ایم ایف رکن ممالک کے لیے 10 کھرب ڈالر کے قرض دینے کے لیے تیار ہے’۔

انہوں نے کہا کہ دفاع کی پہلی لائن کے طور پر فنڈز تیزرفتاری سے جاری کیے جائیں گے تاکہ بیلس آف پے منٹ سے دوچار ممالک کی مدد کی جا سکے۔

کرسٹالینا جورجیفا نے کہا کہ مذکورہ فنڈ ابھرتی اور ترقی پذیر معیشتوں کو 50 ارب ڈالر تک اور کم آمدنی والے رکن ممالک کے لیے 10 ارب ڈالر صفر شرح سود پر مشتمل ہوگا۔

خیال رہے کہ آئی ایم ایف مجموعی طور پر 200 ارب ڈالر کی ادائیگی کا وعدہ کرچکا ہے۔

اس ضمن میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ ‘بہت سے معاملات میں یہ انتظامات بحران کا شکار اور مالی اعانت کے حق دار ممالک کو سہارا دے سکتے ہیں’۔

انہوں نے بتایا کہ تقریباً 20 ممالک کی جانب سے دلچسپی کا اظہار کیا گیا آنے والے دنوں میں ان کی ضرورت پوری کردی جائے گی۔

آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جورجیفا نے کہا کہ سی سی آر ٹی فنڈز غریب ترین ممالک کو فوری طور پر قرضوں سے نجات دلانے میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔

خیال رہے کہ برطانیہ نے حال ہی میں آئی ایم ایف کے سی سی آرٹی فنڈ میں 19 کروڑ 50 لاکھ ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا جس سے سی سی آر ٹی کے فنڈ کو 40 کروڑ ڈالر تک اضافہ ہوجائےگا۔

آئی ایم ایف کی سربراہ نے کہا کہ ‘ہم دوسرے ڈونرز کی مدد سے اسے ایک ارب ڈالر تک بڑھائیں گے’۔

کرسٹالینا جورجیفا کا مزید کہنا تھا کہ اس سے آئی ایم ایف اپنے 189 رکن ممالک کی خدمت کرسکتا ہے اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو ظاہر کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بحران سے صرف اشتراک، کوآرڈینیشن اور تعاون کے ذریعے ہی نکلا جا سکتا ہے اور جو عالمی معیشت کو مستحکم بنائے گا۔

واضح رہے کہ 7 مارچ کو آئی ایم ایف نے حکومتوں پر زور دیا تھا کہ عوام کو کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے عالمی طبی بحران کے معاشی اثرات سے تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔

واشنگٹن میں آئی ایم ایف کی جانب سے جاری گائیڈ لائنز میں کہا گیا تھا کہ ‘جو سب سے زیادہ متاثر ہیں انہیں اپنی غلطی کے بغیر دیوالیہ نہیں ہونا چاہیے’۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ سیاحت پر انحصار کرنے والے ملک میں ایک اہل خانہ کی جانب سے چلائے جانے والے ریسٹورنٹ یا قرنطینہ کی وجہ سے بند ہونے والی فیکٹری کے ملازمین کو اس بحران میں تعاون کی ضرورت ہے۔

آئی ایم ایف نے مقامی حکومتوں کے لیے رقم مختص کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا تھا کہ ‘یہ متاثرہ علاقوں میں کلینکس اور میڈیکل کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو چلانے کے لیے خرچ کی جائیں جیسا چین اور کوریا نے کیا ہے’۔

Exit mobile version