ذیابیطس کے علاج کے لیے سٹیم سیل فیکٹری

bdiabtiesبرطانیہ کا محکمۂ صحت (این ایچ ایس) برطانوی شہر لیورپول میں ذیابیطس کے مریضوں کے علاج کے لیے ایک سٹیم سیل فیکٹری بنا رہا ہے۔ این ایچ ایس بلڈ اینڈ ٹرانسپلانٹ کا ادارہ ان مریضوں کو یہ تجرباتی علاج فراہم کرنا چاہتا ہے جنھیں ذیابیطس سے منسلک گردوں کی بیماریاں لگنے کا زیادہ خطرہ درپیش ہوتا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ دوا کے انجیکشن سے گردوں کو ذیابیطس کے باعث پہنچنے والا نقصان یا تو مکمل طور پر رک جائے گا یا پھر کم ہو جائے گا، اور اس کے بعد ڈایالیسس یا ٹرانسپلانٹ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

گردوں کی بیماریوں کے آخری مرحلے تک پہنچنے کی سب سے زیادہ عام وجہ ذیابیطس ہوتا ہے جس سے برطانیہ میں ہر سال 40 ہزار افراد موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ اس تحقیق میں حصہ لینے والے 48 مریضوں کا علاج یونیورسٹی ہاسپیٹل برمنگھم این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ اور بیلفاسٹ ہیلتھ اور سوشل کیئر ٹرسٹ میں کیا جائے گا۔ ’سٹرومل سیل‘ کہلانے والے یہ سٹیم سیل مریضوں کو انجیکشن کے ذریعے دیے جائیں گے، اور انھیں انسانی ہڈی کے عطیہ کردہ گودے سے بنایا جاتا ہے۔ یہ ناپختہ سٹیم سیل آگے چل کر ہڈیوں، کارٹیلیج اور چربی جیسے کئی اقسام کے خلیوں میں ڈھل سکتے ہیں۔ لیکن سائنس دانوں کو ان کی ایک اور خصوصیت میں بھی دلچسپی ہے، اور وہ یہ ہے کہ یہ سیل ایسی پروٹینز خارج کرتے ہیں جو گردوں کی سوزش کو کم کر سکتی ہیں۔

جانوروں میں کیے جانے والے تجربات سے پتہ چلا ہے کہ سٹرومل سیلز کے انجیکشن گردوں کے فعل میں قابلِ قدر بہتری لاتے ہیں، اور امید کی جا رہی ہے کہ یہ انسانوں میں بھی وہی کام کر سکیں گے۔ تجرباتی مطالعے میں شامل صرف چند مریضوں ہی کو سٹیم سیل لگائے جائیں گے، بقیہ مریضوں کو نمائشی انجیکشن (placebo) دیے جائیں گے۔ اس کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آیا یہ دوا واقعی موثر ہے اور یہ کہ اس کے مضر اثرات کیا ہیں۔ تحقیق کے سربراہ اور نیشنل یونیورسٹی آف آئرلینڈ کے پروفیسر ٹموتھی اوبرائن کہتے ہیں: ’ذیابیطس کے باعث ہونے والی گردوں کی بیماری بہت عام ہے اور اس کے علاج میں کسی بھی قسم کی پیش رفت کے قابلِ قدر اثرات سامنے آئیں گے۔‘ اعداد و شمار کے مطابق ذیابیطس میں مبتلا چار میں سے تین افراد گردوں کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس کی عام طور پر وجہ یہ ہوتی ہے کہ ذیابیطس کی بیماری گردوں کو خون فراہم کرنے والی چھوٹی رگوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *