معجزے سے بڑی انسانیت

wisi babaویسے تو گھر سے بھاگ کر میں کابل کے راستے میں بھی رویا تھا ۔ وجہ وہی سرداروں والی عقل تھی جو بڑی دور پہنچ کر باڈر پار کر کے آدھا راستہ طے کر کے آئی تھی کہ اپنا شہر بہت پیچھے رہ گیا گھر دوبارہ جا بھی سکوں گا یا نہیں۔ مجھے روتے ہوئے رنگے ہاتھوں نواز نے پکڑ لیا تھا۔
اس نے پھر وہی طعنے دئے بزدلی کے جو خان حضرات پنجابیوں کو دے کر اپنا دل خوش کرتے ہیں۔ میرا رونا جاری رہتا لیکن ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ اس کے بعد دھماکوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ ساری بس میں سناٹا چھا گیا ۔ منظر یہ تھا کہ ایک نیکر پہنے ایک روسی دو ٹینکوں سے فائر کروا رہا تھا۔
سڑک کے ساتھ دریا تھا اس کے پار ایک چٹان کے پیچھے دو مفلوک الحال قسم کے مجاہد تھے جن کا کچھ بگاڑنے سے یہ گولہ باری ناکام رہی بلکہ ہمیں یہ لگا کہ وہ گولے اٹھا کر بھاگے تھے کباڑی کی دکان کی طرف۔ ساجد کا یہ کہنا تھا کہ ساری بس ہماری مرمت کرنے کو تیار ہو گئی تھی لیکن اس کا اندازہ اور پروا کئے بغیر ہم نے تالیاں بجائیں کہ ہمیں بھاگنے کا وہ منظر اچھا لگا تھا۔
تالیاں بجانے پر ہم پکڑے گئے تھے کہ باہر کھڑے ایک فوجی نے دیکھ لیا تھا۔ بس والوں نے پتہ نہیں کیا منت زاری کر کے ہمیں گرفتار ہونے سے بچایا تھا۔ کابل میں دھول مٹی ہو کر ہم اب جلال آباد میں ہوٹل کی چھٹ پر لیٹے گزرے واقعات یاد کر رہے تھے۔ ہم دونوں ساجد اور میں اپنے تیسرے ہم جماعت نواز کا سوچ رہے تھے جو اپنے ابا سے مار کھانے سے بچنے کے لئے کابل سے واپسی پر راستے میں اتر کر واپس چلا گیا تھا کہ مار کھانے سے بہتر ہے کہ جہاد کیا جائے۔
اسی کی باتیں کررہے تھے ہم دونوں اور میں ساجد سے پوچھ رہا تھا کہ کیا نواز واپس آئے گا (وہ واپس پہنچ گیا تھا ہمارے ساتھ ہی یہ الگ کہانی ہے پھر سہی)۔ ساجد بولا اس کو چھوڑ کل طورخم پار کرنے کا غم کرو تمھارے ہاتھوں پھر پکڑے جائیں گے۔ تم ٹوپی تک انسانوں کی طرح سر پر نہیں رکھتے۔ میں تمھاری ٹوپی ٹھیک کرتا رہتا ہوں اسی کے ہاتھوں ہم بار بار پکڑے جاتے ہیں۔
طورخم پہنچے تو آخری گیٹ پر افغان اہلکار نے روک لیا وجہ وہی ٹوپی تھی جو ایک بار پھر ہاتھ میں پکڑ رکھی تھی میں نے۔ کم زئے اے یعنی کہاں کے ہو ؟ ساجد نے فوراً بتایا لواڑگی (لنڈی کوتل) ۔ میں نے بھی لواڑگی دہرا دیا۔ افغان سپاہی نے شنواری کے منہ پر ہاتھ رکھا اور پوچھا لواڑگی کے کم زئے یعنی لواڑگی میں کہاں کے ہو۔ شنواری نے اپنے منہ سے سپاہی کا ہاتھ ہٹا کر بولا پیرو خیل۔ میں نے اطمینان سے جواب دیا آدم خیل۔ دونوں جگہوں کے درمیاں اسی کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔
ہم پکڑے گئے۔ جب ہم کو لے جایا جا رہا تھا تو شنواری انہیں پوری رفتار سے بتا رہا تھا یہ فلاں ملک کا بیٹا ہے، پنجاب میں پیدا ہوا اس لئے اس کا رنگ کالا ہے ۔ افغانی حوالدار بوال کہ رنگ خو بہ دواڑو اس شین شی یعنی رنگ تو اب دونوں کا ہی نیلا ہو جائے گا۔
اس کے بعد جو کچھ ہوا اس کو میں نے دس سال معجزہ سمجھا اور بیس سال لطیفہ ۔ ہمیں گرفتار کرتے وقت تین سپاہیوں میں سے ایک افغان رکا اور اس نے میرے والد کا نام لے کر جو ہم نے ہی بولا تھا پوچھا تم اس ملک کے بیٹے ہو ۔ جواب میں ہاں سن کر بولا تم وہ ہو جو پنجاب میں پیدا ہوئے اسی لئے تمھارا رنگ کالا ہے۔
تمھیں میں نے اپنے ہاتھوں میں کھلایا ہے کمبخت تم کو اب تک نہ پشتو آئی اور نہ ٹوپی لینی آئی۔ گھر جا کر ملک صاحب کو سلام کہنا میرا، مدت ہو گئی۔ میں ان سے ملنے آو¿ں گا۔ افغان اہلکاروں کے ساتھ ہم دونوں بھی شک میں پڑ گئے ۔ اپنے میلے میں بچھڑے تازہ تازہ دریافت شدہ چچا کو دیکھ کر۔
ابھی حیران ہی ہو رہے تھے کہ اس نے ہاتھ میں پکڑے کوک کے کین ہمیں دیئے اور بولا کہ یہ پی لو۔ اب جاو¿ ۔ ہمیں بہت کام ہے ، پھر ملیں گے۔ افغان حوالدار اپنے سپاہی کو دیکھ رہا تھا تو وہ بولا کہ زہ اے پے جنم میں اسے جانتا ہوں۔ ہم پاکستان واپس اس یقین کے ساتھ داخل ہوئے کہ یہ معجزہ تھا۔ یہی معجزہ بعد میں مدت تک بطور لطیفہ سنایا کرتا تھا میں کہ کس طرح ایک سپاہی کو غلط فہمی ہوئی اور ہم بچ گئے۔
اک شکریہ جو ادھار ہی رہے گا کہ اس مہربان انسان کی شکل تک یاد نہیں ۔ وہ افغان جس کی انسانیت کو جنگ نے آلودہ نہیں کیا تھا ۔ ابھی اس کا دیا سبق آج کئی دہائیاں گزرنے کے بعد سمجھا ہوں تو بس اتنا کہ انسانیت معجزے سے بڑی ہوتی ہے ۔ یہ اگر باقی ہو، بھلے جھوٹی ہو، جھوم کر آتی ہے کہ کوئی زندگی منا لے۔

معجزے سے بڑی انسانیت” پر ایک تبصرہ

  • اکتوبر 25, 2015 at 6:52 PM
    Permalink

    گولہ اٹھا کر وہ کباڑی کی دکان کی جانب نہیں بھاگے تھے بلکہ گولہ اٹھانے پر ہمارے ساتھی نے انہیں کباڑی بولا تھا ۔ ایک تصحیح ۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *