عمل اور ردِعمل

ایچ یو گھمن

H U Ghummanقیاس آرائیاں،بد گما نی ،بد نیتی،لعن و طن،منفی تنقید ،تعصب،تنگ نظری،پراگندہ خیالی،نفرت،گالی گلو چ،با ہمی محا ذ آرائی ،غفلت شعاری،عا قبت نا ا ندیشی،اقر با پر ور ی،عدم برداشت،بے راہ روی،نما ئش ودکھلا وا ،فحا شی و عریانی ،اخلا قی و ملی اقدارکی پا ما لی اور بے یقینی ایسی بیما ر یا ں اور عنا صر ہیں جن میں پو ر ی قو م آب و تا ب اور اِن تما م عنا صر سے وفا داری کے تمام تقا ضے احسن اندا ز سے نبھاتے ہو ئے گرفتا ر ہو چکی ہے۔یہ ہما را قو می اور ملی رویہ ہے اور دنیا ئے عا لم میں ہما ری پہچا ن اور تعا ر ف بن چکا ہے اور ہم ان تمام عنا صر سے نجا ت پا نے کیلئے عملی تدا بیر اور کو شش کرنے کی بجا ئے بے یقینی کی اس کفیت پر پہنچ چکے ہیں اور ہر خا ص و عا م کی زبا نِ زد عا م پر الفا ظ کی یہی آوازیں کا نو ں کی سما عت بنتی ہیں کہ یہ چیزیں کبھی ٹھیک نہیں ہو سکتیں اور ہر شخص ان کو درست کرنا تو دور کی بات ہے ا س خیا ل سے بھی میلو ں دور دکھا ئی دیتا ہے کہ یہ کبھی ٹھیک ہو نے پا ئے گی۔اور گو یا ایسا لگتا ہے کہ اِس بے یقینی کو پو ری قوم نے کلی ایما ن کا درجہ دے دیا ہے کہ یہ ممکنا ت میں سے ہی نہیں اور اس نا کا می و بر با دی کا احسا س ہی ختم ہو چکا ہے۔
واءے ناکا می متاع کا ر وا ں جا تا رہا
کا ر وا ں کے دل سے احسا س زیا ں جا تا رہا
اب ہم اس سے تھوڑا سا آگے برھتے ہیں۔ سا ئنس کا ایک بنیا دی ا±صول ہے کہ ہر عمل کا ایک ردِ عمل ہوتا ہے چو نکہ یہ تما م عوا مل اور عنا صر ہما رے مجمو عی ا عما ل بن چکے ہیں تو فطر ی طور پر ان کے ردِ عمل بھی سا منے آئے گا اور پو ری قو م مجمو عی طور پر ان ا عما ل کی وجہ سے دہشت گر دی،قتل و غا رت گری،فر قہ وار یت ،بد امنی،کر پشن،لو ٹ ما ر ،راہ زنی،چو ری،بھتہ خوری،لا قا نو نیت،جبرو استحصا ل، ظلم و بر بریت،غنڈہ گردی،صو با ئی و لسا نی تعصبا ت ،مذہبی فسا دا ت،بم دھما کوں جیسے خطر نا ک مصا ئب و مشکلا ت کا خمیا ز ہ بھگت رہی ہے۔قو م یکجا اور اتحا دو اتفا ق کو اپنا نے کی بجا ئے مختلف گروہو ں اور دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے ۔ اس طرح پاکستان جو اسلام کا قلعہ ہے، ترقی یا فتہ مما لک تو دور کی با ت ہے تر قی پذیر مما لک کی صف میں اپنی حیثیت کھو رہا ہے اور اگر سب ایسا ہی چلتا رہا تو اللہ نہ کرے حیثیت کھو چکا ہو گا۔ آج ضر ورت اس امر کی ہے کہ ہم ان مسا ئل کو حل کر نے کیلئے عملی تدا بیر کا اہتما م کریں۔ یہا ں ایک با ت قا بل ذ کر ہے کہ عملی تدا بیر کی سمت متعین کرنا بہت ضرو ری ہے۔ اس کیلئے ہمیں سا ری قوت عمل کو ٹھیک کرنے میں لگا نی ہو گی یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جس طرح کی اعما ل ہو ں گے ا±سی طرح کے ردِعمل سا منے آتے ہیں لہذا ہمیں اپنے اعما ل پر توجہ دینی ہوگیااور ان کو بہترین حکمت عملی سے ٹھیک کرنا ہوگا۔اگر یہی کام کر نے میں ہم کا میاب ہو جا ئیں تو ردِ عمل خود بخود ٹھیک ہو جا ئیں گے۔لیکن ہما ری سو سا ئٹی اور ملک میں اس سے الٹ کا م ہو تا ہے سا را زور عمل کی بجا ئے ردِعمل پر لگا یا جا تا ہے جس سے کو ئی مثبت اثرات مرتب نہیں ہوتے اور یہ کا م آج سے نہی پچھلے ارسٹھ برس سے کیا جا رہا ہے اور اگر ہم مزید ایک سو برس بھی ردعمل کو ٹھیک کرنے میں لا کھوں ،کروڑوں کا وشیں بھی کریں خا طر خوا ہ نتا ئج سا منے نہیں آئیں گے۔ اب سوال پیدا ہو تا ہے کہ عمل کو کیسے ٹھیک کیا جا ئے تو اس کے لئے ہمیں دو کا م کرنے ہوں گے۔
میں انفرا دیت کے حوا لے سے یہ دو کا م بیا ن کر رہا ہو ں اجتما عی طور پر اور حکو متی سطح پر ان اعما ل کو ٹھیک کرنے کیلئے مختلف حکمت عملی بنا نی ہوں گی۔ خیر ان دو کامو ں میں پہلا کا م تو یہ ہے کہ ہر شخص کو اپنے اندر سے بے یقینی کو ختم کرنا ہو گااور یقین کی اس کیفیت پر پہنچنا ہوگاکہ یہ سب عنا صر ٹھیک ہو سکتے ہیں دو سرا ہر شخص کو قومی و ملی اور اجتما عیت کی سوچ کو اپنا تے ہوئیاپنے اندر سے یہ چیزیں ختم کر کے رضا ئے ا لہی کو اپنا مقصو د بنا نا ہوگا۔عشق رسو ل کو اپنا ایمان قرار دینا ہوگا۔ قرآن مجید کو اپنا منہاج سمجھنا ہو گا۔ فروغ علم کو اپنا عزم اور زندگی کا مقصد بنا نا ہو گا۔ قلم کو اپنا اسلحہ ،خدمت کو اپنا شعار، امن کو اپنی خواہش،تعمیروطن کو اپنا پروگرام،اور ہدف کی شکل دینا ہو گی۔ حسن اخلاق کو اپنا عمل اور مسا وات کو دعوت بنا کر اٹھنا ہوگا۔اگر ہم ان چیزوں پر عمل کریں تو پھر رد،عمل کچھ یوں ہو گااور ایسی سو سا ئٹی وجود میں آئے گی جس میں شرا فت و صدا قت،طا عت و تقویٰ ،امن و سکون ،عصمت و حیا،عبا دت کا ذوق،توا ضع و انکسا ر، سجدہ ریزی، ہدا یت، عمل و صا لحیت،تہذیب و ثقا فت،زندگی میں مقصدیت، انصاف، بر داشت، صداقت، شجاعت، سخا وت کی حا مل قو تو ں اور طا قتوں والا معاشرہ وجو د میں آئے گا۔اگر
ہم آج سے ہی ایسا کرنا شر و ع کر دیں تو وہ وقت دور نہیں کہ دنیا کی اما مت کا کام ہم سے ہی لیا جائے گا۔اور ملکِ پا کستان حقیقی معنوں میں اسلام کے قلعے کے طور پر سا منے آئے گااور ترقی پذیر تو کچھ بھی نہیں، ترقی یافتہ مما لک کی صفِ اول میں ہوگا۔پو ر ی دنیا میں ہم ہی رول ما ڈل ہوں گے اور دنیا کو لیڈ بھی ہم کر یں گے اور اگر ایسا نہ کیا گیاتو بہت دیر ہو جائے گیاور یہ مسا ئل تو کیا ان سے بھی بڑے مصائب و آلام میں دھنس جا ئیں گے کوی ہما را پرسا نِ حال نہ ہوگااور
ہماری داستان تک بھی نہ ہوگی دا ستا نو ں میں

عمل اور ردِعمل” پر بصرے

  • اکتوبر 28, 2015 at 4:43 AM
    Permalink

    تین خوفناک جنگی ڈاکٹرائینز! تحریر: سلمان رحمانی
    پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جسکی سب سے بڑی ایکٹیو جنگی سرحد ہے جو کہ 3600 کلو میٹر ہے اور بدقسمتی سے پاکستان ہی دنیا کا واحد ملک ہے جو بیک وقت تین خوفناک جنگی ڈاکٹرائینز کی زد میں ہے جس کے بارے میں بہت تھوڑے لوگ جانتے ہیں۔
    پہلے نمبر پر کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین (Cold Start doctrine) ہے جو انڈین جنگی حکمت عملی ہے جسکے لیے انڈیا کی کل فوج کی 7 کمانڈز میں سے چھ پاکستانی سرحد پر ڈپلوئیڈ ہو چکی ہیں یہ انڈیا کی تقریبا 80 فیصد سے زیادہ فوج بنتی ہے اور اس ڈاکٹرائین کے لیے انڈین فوج کی مشقیں ، فوجی نقل و حمل کے لیے سڑکوں ،پلوں اور ریلوں لائنوں کی تعمیر اور اسلحے کے بہت بڑے بڑے ڈپو نہایت تیز رفتاری سے بنائے جا رہے ہیں اس ڈاکٹرائن کے تحت صوبہ سندھ میں جہاں انڈیا کو جغرفیائی گہرائی حاصل ہے وہ تیزی سے داخل ہوکر سندھ کو پاکستان سے کاٹتے ہوئے بلوچستان گوادر کی طرف بڑھیں گی اور مقامی طور پر انکو سندھ میں جسقم اور بلوچستان میں بی ایل اے کی مدد حاصل ہوگی ۔ پاکستان کو اصل اور سب سے بڑا خطرہ اسی سے ہے اور پاک آرمی انڈین فوج کی اسی نقل و حرکت کو مانیٹر کرتے ہوئے اپنی جوابی حکمت عملی تیار کر رہی ہے ۔ آپ نے سنا ہوگا پاکستان آرمی کی "عظم نو "مشقوں کے بارے میں جو پچھلے کچھ سال سے باقاعدگی سے جاری ہیں ۔ یہ انڈیا کی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین کا جواب تیار کیا جا رہا ہے جسکے تحت پاک آرمی جارحانہ دفاع کی تیاری کر رہی ہے ۔ گو کہ اس معاملے میں طاقت کا توازن بری طرح ہمارے خلاف ہے انڈیا کی کم از کم دس لاکھ فوج کے مقابلے میں ہماری صرف دو سے ڈھائی لاکھ فوج دستیاب ہے باقی امریکن" ایف پاک " ڈاکٹرائین کی زد میں ہے ۔
    امریکن ایف پیک ڈاکٹرائن Amrican F-pak doctrine) باراک اوباما ایڈمنسٹریشن کی جنگی حکمت عملی ہے پاکستان کے خلاف جس کے تحت افغان جنگ کو بتدریج پاکستان کے اندر لے کر جانا ہے اور پاکستان میں پاک آرمی کے خلاف گوریلا جنگ شروع کروانی ہے درحقیقت یہی وہ ڈاکٹرائن کے جس کے تحت اس وقت پاکستان کی کم از کم دو لاکھ فوج حالت جنگ میں ہے اور اب تک ہم کم از کم اپنے 20 ہزار فوجی گنوا چکے ہیں جو پاکستان کی انڈیا کے ساتھ لڑی جانی والی تینوں جنگوں میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے ۔ اس جنگ کے لیے امریکہ اور انڈیا کا آپس میں آپریشنل اتحاد ہے اور اسرائیل کی تیکنیکی مدد حاصل ہے ۔ اسکے لیے کرم اور ہنگو میں شیعہ سنی فسادات کروائے گئے اور وادی سوات میں نفاذ شریعت کے نام پر ایسے گروہ کو مسلط کیا گیا جنہوں نے وہاں عوام پر مظالم ڈھائے اور فساد برپا کیا جس کے لیے مجبورا پہلی بار پاک فوج کو انکے خلاف ان وادیوں میں داخل ہونا پڑا ۔ پاک فوج نے عملی طور پر انکو پیچھے دھکیل دیا لیکن نظریاتی طور پر ابھی بھی انکو بہت سے حلقوں کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے جسکی وجہ سے عوام اپنی آرمی کے ساتھ اس طرح نہیں کھڑی جیسا ہونا چاہئے اور اسکی وجہ تیسری جنگی ڈاکٹرائن ہے جس کے ذریعے امریکہ اور اسکے اتحادی پاک آرمی پر حملہ آور ہیں اسکو فورتھ جنرزیشن وار کہا جاتا ہے
    فورتھ جنریشن وار (Fourth-generation warfare) ایک نہایت خطرناک جنگی حکمت عملی ہے جسکے تحت ملک کی افواج اور عوام میں مختلف طریقوں سے دوری پیدا کی جاتی ہے مرکزی حکومتوں کو کمزور کیا جاتا ہے صوبائیت کو ہوا دے جاتی ہے ، لسانی اور مسلکی فسادات کروائے جاتے ہیں اور عوام میں مختلف طریقوں سے مایوسی اور ذہنی خلفشار پھیلایا جاتا ہے ۔اسکے ذریعے کسی ملک کا میڈیا خریدا جاتا ہے اور اسکے ذریعے ملک میں خلفشار ، انارکی اور بے یقینی کی کیفیت پیدا کی جاتی ہے ۔ فورتھ جنریشن وار کی مدد سے امریکہ نے پہلے یوگوسلاویہ ، عراق اور لیبیا کا حشر کر دیا اب اس جنگی حکمت عملی کو پاکستان اور سریا پر آزمایا جا رہا ہے اور بدقسمتی سے انہیں اس میں کافی کامیابی حاصل ہو چکی ہے ۔ پاکستان کے خلاف فورتھ جنریشن وار کے لیے بھی امریکہ ، انڈیا اور اسرائیل اتحادی ہیں باراک اوباما نے اپنے منہ سے کہا تھا کہ وہ پاکستانی میڈیا میں 50 ملین ڈالر سالانہ خرچ کریں گے آج تک کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ کس مقصد کے لیے اور کن کو یہ رقوم ادا کی جائنگی جبکہ انڈیا کا پاکستانی میڈیا پر اثرورسوخ دیکھا جا سکتا ہے ۔ پاکستان کی ساری قوم اس امریکن فورتھ جنریشن وار کی زد میں ہے ۔
    یہ واحد جنگ ہوتی ہے جسکا جواب آرمی نہیں دے سکتی آرمی اس صلاحیت سے محروم ہوتی ہے چونکہ پاک آرمی کو امریکن ایف پاک ڈاکٹرائن کے مقابلے پر نہ عدالتوں کی مدد حاصل ہے نہ سول حکومتوں کی نہ ہی میڈیا کی اسلئے باوجود بے شمار قربانیاں دینے کے اس جنگ کو اب تک ختم نہیں کیا جا سکا ہے اور اسکو مکمل طور پر جیتا بھی نہیں جا سکتا جب تک پوری قوم مل کر اس امریکن فورتھ جنریشن وار کا جواب نہیں دیتی ۔ فورتھ جنریشن وار بنیادی طور پر ڈس انفارمیشن وار ہوتی ہے اور اسکا جواب سول حکومتیں اور میڈیا کے محب وطن عناصر دیتے ہیں ۔ پاکستان میں لڑی جانے والی اس جنگ میں سول حکومتوں سے کوئی امید نہیں اسلئے عوام میں سے ہر شخص کو خود اس جنگ میں عملی طور پر حصہ لینا ہوگا ۔
    اس حملے کا سادہ جواب یہی ہے کہ عوام ۔''ہر اس چیز کو رد کر دے جو پاکستان ، نظریہ پاکستان اور دفاع پاکستان یا قومی سلامتی کے اداروں پر حملہ آور ہو" ۔
    حسبی اللہ، لاا لہ ا لا ہو، علیہ توکلت وہو رب العرش العظیم۔

    Reply
  • اکتوبر 29, 2015 at 10:14 PM
    Permalink

    منطق کے لحا ظ سے عمدہ اور لاجواب تحریر ۔۔۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *