میلان کنڈیرا کا ناول: بقائے دوام

anwersen1میلان کنڈیرا کا ناول امورٹیلیٹی (Immortality) شروع سے آخر تک ایسے جنسی تعلقات اور جذبات سے بھرا ہے کہ بچوں کو تو کیا نابالغ بڑوں کو سوچ سمجھ کر پڑھنا چاہیے، اسے گھروں میں نہیں لے جانا چاہیے، لے ہی جائیں تو سنبھال کر رکھنا چاہیے کہ ہر ایک کے ہاتھ نہ پڑ جائے، ہر چند کہ اسے جنسی ناول نہیں کہا جا سکتا۔ دماغ کی دہی بنا دینے والے فلسفیانہ، سماجی اور ادبی تجزیوں سے مونہا منہ بھرے اس ناول میں بے پناہ دلکشی اور قاری کو باندھے رکھنے کی صلاحیت ہے۔ یہ ناول موجودہ ضخامت کا نصف بھی ہو سکتا تھا اور کئی گنا اور بھی۔ اب آپ کو کوئی راجہ یاد آئے یا تیلی، بات تو کرنی ہی ہے۔
سب سے پہلے تو مجھے یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ میں میلان کنڈیرا کو کبھی بھی باقاعدگی سے نہیں پڑھ سکا اور ایک کنڈیرا ہی کیا۔ اردو میں پڑھنے کو ترجیح دینے والے بہت سے لوگوں کی طرح کنڈیرا سے میرا پہلا تعارف سہ ماہی ‘آج’ کے اس شمارے سے ہوا تھا جس میں ایک حصہ ا±س کی تحریروں کے لیے مخصوص کیا گیا تھا۔ یہ تراجم تھے جو محمد عمر میمن ، آصف فرخی اور اجمل کمال سمیت کئی لوگوں نے کیے تھے۔ میں یہ نام حافظے کے زور پر لکھ رہا ہوں اور میرا حافظہ کچھ ایسا قابل اعتبار نہیں ہے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ میں نے یہ تراجم پڑھے تھے۔ہاں فیشن کے طور کنڈیرا کا نام ضرور یاد کر لیا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ا±س کے ناول‘وجود کی ناقابلِ برداشت لطافت’ پر بننے والی فلم دیکھی اور جب تک ناول نہیں پڑھا ذہن میں جولین بنوشے (تیریزا) اور لینیا اولن (سبینا) ہی چھائی رہیں۔ خاص طور سے وہ منظر جس میں

TO GO WITH AFP STORY BY SOPHIE PONS This handout picture released by French publishing house Gallimard shows Czech-born writer Milan Kundera on February 19, 2009 in Brno, a Moravian city, 200 kms from Prague. Czech-born writer Milan Kundera, 80, turned his back on his homeland once again when he failed to show up at a major conference on his work this weekend, May-30-31, 2009, in his southern home city of Brno- and said he's a 'French writer'. AFP PHOTO/HO/GALLIMARD/ NO SALES/NO ARCHIVE/RESTRICTED TO EDITORIAL USE

تیریزا، سبینا کی برہنہ تصویریں اتار رہی ہے۔ حالانکہ ناول ان وقوعوں کوسیاسی تناظر میں یہ دکھانے کے لیے استعمال کرتا ہے کہ وجود کی لطافت کیا ہوتی ہے اور کیسی نزاکت سے ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ بالکل جیسے ہم کسی تتلی کو عارف لوہار کے چمٹے سے نہیں انگلیوں کی پوروں سے سے ہی پکڑ سکتے ہیں۔ یعنی . . . نازک ہے بہت کام....
کنڈیرا کیا دنیا کا کوئی بھی ادیب اور شاعر اب تک نہ تو غیر سیاسی ہوا ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ سیاست انسان اور اس کی زبان میں گندھا ہوا ایسارشتہ ہے جو انسان کے ساتھ شروع ہوا ہے اور انسان کے خاتمے پر ہی ختم ہوگا۔ کنڈیرا کی طرح جو ناول نگار روایتی اور سطح پر، وقت کے کسی بھی انداز سے دستبردار ہوکر اپنا کوئی الگ انداز اپنانے کی کوشش کرتے ہیں انھیں دوسرے لبھاو¿ استعمال کرنے ہوتے ہیں۔ کنڈیرا بالعموم جنسی سطح کو استعمال کرتا ہے۔
میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے کنڈیرا کے دو ناول پڑھے ہیں۔ ‘وجود کی ناقابل برداشت لطافت’ اور ‘بقائے دوام’ امورٹیلیٹی۔ ’بقائے دوام‘ کو اردو میں ارشد وحید نے ’منتقل‘ کیا ہے۔ ارشد وحید اس سے پہلے نہ صرف خود ایک ناول‘گمان’ لکھ چکے ہیںبلکہ گبرئیل گارشیا مارکیز کے ناول ‘وبا کے دنوں میں محبت’ کو بھی اردو میں .... کر چکے ہیں۔ یہاں میں ترجمہ جان بوجھ کر نہیں کہہ رہا۔ ترجموں کی بات یہ ہے کہ خود کنڈیرا اپنے ناولوں کے فرانسیسی تراجم سے مطمئن نہیں ہے۔ اس کا یہ عدم اطمینان تب شروع ہوا 12049569_10153040443047186_3652177962203628666_nجب وہ جلاوطن ہو کر فرانس رہنے لگا اور اتنی فرانسیسی سیکھ لی کہ اپنے ناولوں کی فرانسیسی شکلوں کا جائزہ لے سکے۔ اب انگریزی ترجموں کے بارے میں تو ہمیں تبھی علم ہو گا جب وہ انگریزی بھی سیکھ لے گا۔ تو، ہم صرف اتنا ہی کر سکتے ہیں جو کچھ ہمیں اردو میں مل رہا ہے ا±سی کو اصل مانیں اور دیکھیں کہ اس کے ذریعے ہم تک کیا منتقل ہوتا ہے۔ جو لوگ یہ صلاحیت رکھتے ہوں کہ کسی کام کو اردو میں اور زیادہ بہتر انداز سے پیش کر سکتے ہوں، ان پر نہ تو کبھی کوئی پابندی رہی ہے اور نہ رہے گی۔ انگریزی ہی میں کئی کئی ترجموں کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ اس لیے ارشد وحید کا ‘بقائے دوام’ امورٹیلیٹی کی ایک کامیاب شکل ہے۔
جیسے ’وجود کی ناقابل برداشت لطافت‘ میں کنڈیرا کی تفتیش بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں وجود کی لطافت ہے، اسی طرح ’بقائے دوام‘ میں اس کی تفتیش اس دوام کی بقا کے بارے میں ہے،جس کی خواہش ایک عام انسان سے گوئٹے (گوئتھے) جیسے شاعر تک میں موجود ہوتی ہے۔ ’بقائے دوام‘ میں کنڈیرا نے دکھایا ہے کہ مرنے کے بعد بھی جینے اور کبھی ختم نہ ہونے کی خواہش انسانوں میں کس کس طرح اپنا اظہار کرتی ہے، ان سے کیا کیا کراتی ہے۔ جب ایک انسان گوئٹے جیسا تخلیق کار بن جاتا ہے اور ا±سے احساس بھی ہو جاتا ہے کہ وہ تاریخ میں داخل ہو چکا ہے، دوام پا چکا ہے تو وہ فخر و غرور سے بھرا ، دوام کے یقین سے سرشار اور بظاہر ایسے کہ جیسے ا±سے یہ احساس ہی نہ کہ ا±س کے آس پاس اور ارد گرد جو لوگ ہیں ، وہ کیا کر رہے ہیں، کیوں کر رہے ہیں۔ وہ چوکس بے نیازی میں ان کے ہر عمل سے ایک نئی لذت کشید کرتا ہے۔ اسے محبت اور لگاو¿ کے مظاہروں کے پیچھے کارفرما دوام کی کارفرمائی دکھائی دے یا نہ دے، لیکن وہ موجود رہتی ہے۔ آپ بھی چاہیں تو اس کا مشاہدہ کر لیں۔
ذرا ادبی، فلمی ، سماجی اور سیاسی تقریبوں میں تصویریں کھنچوانے والوں اور ان تصویروں کو سوشل میڈیا پر لگانے والوں کے بارے میں سوچیں، یہ اور اس جیسی تمام کارروائیاں کس جذبے کا اظہار کرتی ہیں؟ سیاستدانوں سے فنون لطیفہ تک کے تمام شعبوں میں کام کرنے والوں تک کون ہے جسے دولت و آسائش کے ساتھ ساتھ بقائے دوام کی خواہش نہیں ہوتی؟
اس ناول کے مرکزی کردار ایگنس، لارا اور پال ہیں۔ اول کو سات حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر حصے متعدد چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہیں۔ پہلا حصہ: چہرہ، میں بنیادیMilanKundera1 کرداروں کی تجسیم کی گئی ہے۔ دوسرا حصہ: بقائے دوام، میں بوڑھے گوئٹے سے نوجوان بیٹینہ کے تعلقات ہیں۔ تیسرا حصہ: ایگنس اور لورا کی لڑائی۔ اس حصے میں کنڈیرا نے ذیلی حصوں کے عنوانات بھی رکھے ہیں۔ چوتھا حصہ: جذبات پرست لوگ، اس میں گوئٹے اور ہیمنگ وے کی بعد از مرگ دوستی ہے۔ پانچواں حصہ: موقع، اس حصے میں مرکزی کردار ایگنس کی حادثاتی موت ہوتی ہے اور پرفیسر ایوینارس سے مصنف کی اہم گفتگو ہے۔ چھٹا حصہ: ڈائل، اس میں ایک نیا کردار روبنز، آتا ہے اور جاتا ہے اول سے اس باب کا اتنا ہی تعلق ہے کہ دوسری بہت سی عورتوں کی طرح اس کے ایگنس سے بھی تعلقات رہے تھے، لیکن ایگنس سے جنسی تعلقات تب شروع ہوئے جب اس کی شادی پال سے ہو چکی تھی۔ ساتواں حصہ: جشن، یہ حصہ اسی کلب کے حوالے سے ہے جس میں مصنف کو ایگنس کا خیال آیا لیکن اس میں ایگنس کا تصور دینے والا اشارہ اس کی بہن لورا سے رونما ہوتا ہے جو ایگنس کے شوہر پال کی بیوی بن چکی ہے۔
ناول کی ابتدا میں لگتا ہے مرکزی کردار ایگنس ہے، لیکن ایسا ہے نہیں۔ ایگنس ایک خیال ہے، سوئمنگ پول میں ایک بوڑھی عورت نوجوان لائف گارڈ سے تیراکی کے سبق لینے کے بعد باہر جانے کے لیے پول کے کنارے چلتی ہوئی لائف گارڈ کے قریب سے تین چار قدم آگے جا کر چہرہ گھماتی ہے، مسکرا کر ہاتھ ہلاتی ہے۔ اس واقعے کو مصنف ایک ایسی عمارت کی چھت سے دیکھ رہا جہاں سے سارے پیرس کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ کہتا ہے : اس لمحے مجھے اپنے دل میں درد کی ایک لہر 12063303_10153040443042186_89047498534982990_nمحسوس ہوئی، اس کا بازو ایک مسحور کن روانی سے اٹھا تھا، اس کی مسکراہٹ اور اشارہ بیس سالہ لڑکی کا تھا،ایسا جیسے وہ شوخ رنگوں کی ایک گیند چنچل انداز سے اپنے عاشق کی طرف اچھال رہی ہو۔ اس کی مسکراہٹ اور اشارے میں حسن اور وقار تھا۔ اگرچہ وہ اس بات سے واقف تھی کہ اب وہ حسین نہیں رہی لیکن اس لمحے کے لیے اس نے اس بات کو فراموش کر دیا۔ وقت سے آزاد اس کے حسن کا جوہر لمحے بھر کو اس اشارے میں بے نقاب ہوا اور مجھے خیرہ کر گیا، میں ایک اجنبی احساس سے بھر گیا۔ ایک لفظ ‘ایگنس’ میرے ذہن میں درآیا۔ میں ایگنس نام کی کسی عورت سے کبھی شناسا نہیں رہا۔ یہی ایگنس شروع میں ناول کا مرکزی کردار لگتا ہے۔ لیکن آگے چلتے ہیں تو بیٹینہ آ جاتی ہے۔ بیٹینہ گوئٹے کا قرب حاصل کرنا چاہتی ہے، وہ اس قرب کے معنی جانتی ہے، گوئٹے جانتا ہے کہ وہ کیا چاہتی ہے، وہ مزاحمت کرتا ہے لیکن اس کی ترکیب کا فائدہ بھی اٹھاتا ہے، اسے شفقت سے گود میں بیٹھنے دیتا ہے، اسے چھاتی کھول کر دکھانے کے لیے کہتا ہے، جب وہ چھاتی کھولتی ہے تو چھو کربھی دیکھتا ہے۔ یہاں لگتا ہے کہ ناول کا مرکز بیٹینہ ہے۔
کنڈیرا اپنے ناولوں میں کہانی کا مرکز تبدیل کرتا جاتا ہے، اسی لیے اس کے ناولوں کے نام زیادہ اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔ یہ بھی کہانی ہی ہے۔ کہانی کا نیا انداز، جو جاتک کہانیوں اور داستانِ امیر حمزہ سے نیّر مسعود تک، کہانی کی ہر شکل سے مختلف ہے۔ واقعات ہوتے ہیں جیسے ایگنس کے حوالے سے ابھی بیان ہوا ہے۔ ضروری نہیں جو ہو رہا ، جیسا ہو رہا ہے، ویسا ہی محسوس بھی کیا جا رہا ہو۔ ویسا ہی دیکھا بھی جا رہا ہو۔ اس تصور سے واقعات اور ان میں شامل لوگوں اور انھیں دیکھنے والوں کے بارے میں کوئی رائے حتمی نہیں ہو سکتی۔ معنی کسی ایک تشریح کے پابند نہیں ہو سکتے اور کوئی تشریح آخری تشریح نہیں ہو سکتی۔ ابھی تک ہم معنی میں جہتوں تک رہتے تھے، لامعنی سے معنی تک رسائی حاصل کرنے کی سعی کرتے تھے۔ اب ہر فرد کی ہر لمحے میں ، تلازماتی تشریح کے معنی درمعنی کا مرحلہ ہے۔ اس بات کو متن کی تفہیم تک ہی محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ لفظ میں تحرک کی عضویاتی حدود کسی نہ کسی حد پر دم لینے کا تقاضا کرتی محسوس ہوتی ہیں۔ جب آپ ناول پڑھیں تو اس پر بھی توجہ دیجیے گا: خیرہ کردینے والے ، وقت سے آزاد حسن کے جوہر کی بے نقابی سے دل میں درد کو تحریک کیوں ملی؟ راوی کو بھر دینے والا اجنبی احساس کیا تھا؟ یہ اس ناول کا اسلوب بھی ہے، اور یہ مجھ تک اسی اردو متن ہی سے پہنچ رہا ہے، جو ارشد وحید نے تیار کیا ہے۔
بقائے دوام ، چیک زبان میں کنڈیرا کا آخری ناول ہے۔ کم از کم اب تک۔ اب وہ فرانسیسی میں لکھتا ہے۔

(FILES) This picture taken in Prague on October 14, 1973 shows Czech writer Milan Kundera. Czech writer Milan Kundera in 1950 snitched on former pilot Miroslav Dvoracek who spent 14 years in communist prisons as a result, the weekly Respekt writes in its latest issue due out on October 13, 2008. Kundera, one of the best-known contemporary Czech writers and a French citizen since 1981, left former Czechoslovakia in 1975 to settle in France. (FILM) AFP PHOTO (Photo credit should read -/AFP/Getty Images)

میلان کنڈیرا اس ناول میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ انسان: مرد اور عورتیں چاہتے ہیں کہ مرنے کے بعد زندہ رہیں۔ ان کا نام رہے اور اس کے لیے وہ جانے انجانے میں ہر طرح کے حربے اور کوششیں کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ گوئٹے اور ہیمنگ وے جیسے ادیبوں اور شاعروں کو مرنے کے بعد بھی اپنی کتابوں کی فکر رہتی ہے۔ کیوں؟ کیا یہ بقائے دوام ہے؟ یہی ہے تو ایگنس، لورا، اس کی بیٹی بریجٹ اور پروفیسر ایوینارس، روبنز اور روبنز ملنے والی تمام عورتیں یا لڑکیاں ، ان میں بقائے دوام کی کارفرمائی کہاں ہے؟ نہیں ہے تو وہ ناول کا حصہ کیوں ہیں؟
بقائے دوام، روانی سے ایک نشست میں پڑھا جانے والا ناول نہیں ہے۔ اس میں اکثر جملے اور پیرا گراف روکتے اور غور کرنے پر اکساتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ اس کا جوہر کہانی یا کرداروں کی مجموعی زندگیوں میں نہیں بلکہ واقعات، ان کی ماہیت اور پس منظر میں موجود محرک میں ہوتا ہے۔ کرافٹ اور ساخت کے اعتبار سے ناول پر بہت سے اور سوال اٹھائے جا سکتے ہیں لیکن یہاں اس کا موقع نہیں ہے۔ یہ ناول 1988 میں لکھا گیا، 1990 میں اس کا فرانسیسی ترجمہ شایع ہوا، موجودہ ترجمے کے بارے میں کچھ آپ کو ابتدا میں بتایا تھا ، ناول ’ وبا کے دنوں میں محبت‘ کے مقابلے میں کنڈیرا کا یہ ناول زیادہ پیچیدہ ہے۔ پھر کنڈیرا جس طرح جنسی بیان کو استعمال کرتے ہیں، اس کا امکان اردو میں پیدا کر دینا ہی میرے نزدیک ترجمے کا قابلِ تعریف وصف قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو یہ ترجمہ زیادہ رواں ہے اور زیادہ دسترس کو ظاہر کرتا ہے۔ 357 صفحات کے اس ناول کو جمہوری پبلی کیشنز، لاہور نے شایع کیا ہے اور عمدہ شایع کیا ہے، قیمت مناسب سے کچھ زیادہ ہے۔ پروف ریڈنگ نے ناول اور مترجم کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

میلان کنڈیرا کا ناول: بقائے دوام” پر بصرے

    • اکتوبر 28, 2015 at 6:41 AM
      Permalink

      محترم جناب انور سن رائے صاحب
      آپ نے جس خوردبینی اور گہرائی سے“میلان کنڈیرا کے ناول: بقائے دوام” پر تبصرہ رقم کیا ہے اور اپنی تحریر میں ’’ بین السطور‘‘ جو کچھ کہہ دیا ہے ۔ اس کے بعد اس ناول کے بارے میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت تو نہیں الؓتہ ممکن ہے کوئی اور مبصر اسے کسی اور نگاہ سے دیکھے تو تو کوئی نیا پہلو سامنے آئے ۔ پچھلے دنوں یہاں کوپن ہیگن میں ڈینش ادیبون خی ایک بیٹھک میں بھی اسی ناول کو موضوع گفتگو بنایا گیا اور کم و بیش یہی باتیں کہی گئیں جن کا آپ نے ذکرکیا ہے ۔ کمال اتفاق ہے! میں آپ کی مبصرانہ اہلیت کی داد دیتا ہوں ۔ آپ نے آخر میں
      یہ لکھ کر کہ ’’پروف ریڈنگ نے ناول اور مترجم کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی‘‘ ، اردو زبان میں یہ ناول پڑھنے والوں سے کہیں زیادہ اس ناول کے پبلشر کو خوب انتباہ کیا ہے ۔ مبارک ہو، یہی جرأت رندانہ ہے! والسلام ۔ خیر اندیش ، نصر ملک ۔ کوپن ہیگن

      Reply
  • اکتوبر 30, 2015 at 10:13 PM
    Permalink

    اس قدر جامع اور مکمل تبصرے کے لیے انور سِن رائے صاحب کا بے حد شکریہ...البتہ جمہوری پبلیکیشنز کی طرف سے ایک وضاحت یہاں ضروری ہے...
    ادارہ جمہوری پبلیکیشنز دنیا کے کئی بڑے ادیبوں اور مصنفین کے تراجم اردو میں شائع کر چکا ہے جن کی فہرست ادارے کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہے. جمہوری پبلیکیشنز سے شائع شدہ تراجم کی صحت اور ان کے مستند ہونے کی گواہی ان کتابوں کے قارئین دے سکتے ہیں.
    البتہ زیر تبصرہ ناول ...بقائے دوام... کی پروف ریڈنگ اور ایڈیٹنگ کی تمام تر ذمہ داری ناول کے مترجم نے اپنے ذمے لی تھی اور ادارہ جمہوری پبلیکیشنز کو مترجم کی طرف سے اس ناول میں کسی ایک لفظ کی بھی تصیح یا تبدیلی کی اجازت حاصل نہ تھی.
    ایک بار پھر شکریہ
    جمہوری پبلیکیشنز ٹیم
    [email protected]

    Reply
  • اکتوبر 31, 2015 at 11:42 AM
    Permalink

    اس قدر جامع اور مکمل تبصرے کے لیے انور سِن رائے صاحب کا بے حد شکریہ...البتہ جمہوری پبلیکیشنز کی طرف سے ایک وضاحت یہاں ضروری ہے...
    ادارہ جمہوری پبلیکیشنز دنیا کے کئی بڑے ادیبوں اور مصنفین کے تراجم اردو میں شائع کر چکا ہے جن کی فہرست ادارے کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہے. جمہوری پبلیکیشنز سے شائع شدہ تراجم کی صحت اور ان کے مستند ہونے کی گواہی ان کتابوں کے قارئین دے سکتے ہیں.
    البتہ زیر تبصرہ ناول ...بقائے دوام... کی پروف ریڈنگ اور ایڈیٹنگ کی تمام تر ذمہ داری ناول کے مترجم نے اپنے ذمے لی تھی اور ادارہ جمہوری پبلیکیشنز کو مترجم کی طرف سے اس ناول میں کسی ایک لفظ کی بھی تصیح یا تبدیلی کی اجازت حاصل نہ تھی.
    ایک بار پھر شکریہ
    جمہوری پبلیکیشنز ٹیم
    [email protected]

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *