بکرے، چھری اور کیدو

wisi babaہم الائی میں تھے۔ زلزلے کے بہت مہینوں بعد متاثرین کی حالت کا جائزہ لینے گئے تھے۔ ریکارڈنگ کے لئے اپنا سامان کندھوں پر اٹھائے جا رہے تھے تو سامنے سے وہ دونوں بھائی آ رہے تھے۔ دو ٹانگوں والا بڑا بھائی ہمیں دیکھ کر پھدک کر سائیڈ پر ہوا تو اس کے چار ٹانگوں والے بھائی نے بھی یہی حرکت کی۔
ایک لڑکا تھا ساتھ اس کے ایک پہاڑی بکرا تھا۔ انکی اس چھلانگ میں ایک ردھم تھا۔ دونوں ایک سے ہی لگ رہے تھے۔ ایک ہی طرح ہمیں دیکھ رہے تھے۔ ایک ساتھ جیسے کوئی نیند سے جاگتا ویسے جاگے ہمیں نظرانداز کرتے ہوئے آگے روانہ ہو گئے۔ ہماری ٹیم کام سے لگ گئی میں سائیڈ پر بیٹھ کر ان بھائیوں کو جاتا دیکھنے لگا کہ کچھ خاص تھا ان میں۔
چھوٹی سی جگہ تھی جہاں وہ دونوں رواں دواں تھے بہت جلدی مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ گھوم کر پھر ہماری طرف ہی آ رہے ہیں کیونکہ انہیں راستوں کا اندازہ نہیں ہے۔ میں اٹھ کے ان کی طرف گیا۔ مجھے اچانک سامنے دیکھ کر لڑکے نے ایک بریک لگائی۔ ساتھ ہی بکرے نے بھی بریک مار دی۔
لڑکے سے پوچھا، کہاں جانا ہے ؟ تو اس نے کہا بنک جا رہا ہوں ۔اسے کہا اس بھائی یعنی بکرے کو بھی ساتھ ہی لے جا رہے ہو ؟ کہنے لگا ہاں۔ یہ کہتے ہی وہ روانہ ہو گیا۔ ساتھ ہی بکرا بھی چل پڑا۔ بکرا اپنے دو ٹانگوں والے بھائی سے دو گرام زیادہ سیانا محسوس ہو رہا تھا۔
بغیر کسی رسی کے بکرا نہایت تابعداری بلکہ پھرتی سے اپنے بکروال کا ساتھ دے رہا تھا۔ لڑکا رکتا تو بکرا بھی رک جاتا۔ لڑکا سر کھجانے لگتا تو بکرا بڑی محبت سے لڑکے کو دیکھتا۔ سامنے سے خاتون کو آتا دیکھ کر لڑکا چھلانگ لگا کر ایک پتھر پر چڑھ گیا۔ ساتھ ہی اس نے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ بکرے نے اس کا پورا ساتھ دیا دونوں بھائی منہ ول دریا شریف کئے کھڑے رہے۔ جب ان کو لگا کہ اتنے وقت میں خواتین کا قافلہ گزر گیا ہو گا تو واپس روانہ ہوئے ۔ ایک موڑ مڑ کر نظروں سے اوجھل ہو گئے۔
استاد محترم نے میری ریکارڈنگ سے عدم دلچسپی دیکھ کر میری مٹھی مٹھی عزت افزائی کر دی۔ اس کو نظر انداز کر کے انہیں بکرا برادران کا قصہ سنایا تو انہوں نے کہا تم یہاں لطیفے ڈھونڈنے آئے ہو۔ ساتھ ہی بتایا کہ وہ آ رہی ہے تمھاری ٹچ بٹناں دی جوڑی۔ بکرا برادران کو آتے دیکھ کر دل چاہا کہ ملا جائے تو ان کے پاس چلا گیا۔
بکروال سے پوچھا کہ ہو گیا کام۔ تو وہ بولا ، ہاں بنک گیا تھا ۔ کام نہیں ہوا ۔ مجھے تین بکرے اور لانے ہوں گے ، وہ لینے جا رہاہوں۔ ہیں !بنک والوں نے بکرے کیا کرنے ہیں؟ بکروال نے کہا ، مجھے امداد کا چیک لینا ہے ۔ سرکاری پچیس ہزار کا اکاو¿نٹ کھولنے کے لئے پانچ ہزار جمع کرنے ہیں۔ میرے پاس پیسے نہیں ہیں بکرے ہی ہیں۔ چار بکرے لگیں گے۔
وہ مجھے گم صم کھڑا چھوڑ کر پہاڑ پر چڑھ گیا ۔ میں یہی سوچتا رہا کہ ہم امداد بھی کتنی مینگنیاں ڈال کر دیتے ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ کتنے پیارے تعلق ہماری کاغذی کارروائیوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ہم تو انسانوں کے تعلق میں کیدو بن جاتے ہیں تو بکرے بیچاروں کے لئے تو ہمارے محاوروں میں بھی چھری ہی آتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *