مودی کا انڈیا: پاکستان کے لیے ایک موقع

Ayaz-Amir     نریندر مودی وہ بہترین ”چیز“ ہیں جو پاکستان انڈیا میں دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ انڈیا کو جنرل ضیا دور کے پاکستان جیسا بنا رہے ہیںتو کیا اس سے زیادہ پاکستان کی کوئی اور خیر خواہی ہوسکتی ہے؟لبرل ازم پر حملہ، آزادی ِ اظہار پر پابندی، عقائد کی بنا پر لوگوں کا قتل ، نفرت اور تنگ نظری اپنے عروج پر، مذہبی انتہا پسندی کے منہ زور ہوتے ہوئے جذبات،اور مذہب کی سیاست میں داخل اندازی، ایسے معاملات ہیں جنہیں پاکستان کے ساتھ جوڑا جاتا تھا، جبکہ بھارتی دوست اس بات پر بے حد ناز اں رہتے کہ اُن کا ملک،’شائنگ انڈیا‘(دیومالائی داستانوں اور تشہیرزدہ تخیلات میں رچا بسا ملک)اُن تاریک ہیولوں سے پاک ہے جو پاکستان میں منڈلاتے دکھائی دیتے ہیں۔ جائے حیرت نہیں کہ پاکستانیوںسے بات کرتے وقت بھارتیوں کا لہجہ احساس برتری، طمانیت اورپرغرور رویے کی غمازی کرتا تھا۔
اور جہاں تک دنیا کا تعلق ہے تو اسے پیہم احساس دلایا جاتا کہ انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ خیال کیا جاتا کہ انڈیا ترقی کی شراہ پر گامزن ، جبکہ پاکستان مذہبی انتہا پسندی اور ہر قسم کے تشدد کی آماجگاہ ہے۔ یہ سب کچھ بہت تکلیف دہ تھا، لیکن اس کا کوئی علاج دکھائی نہ دیتا کیونکہ پاکستان میں کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ پیش آجاتا کوئی غریب اور لاچار شہری توہین کے الزام کی زد میں آجاتا، کسی مسیحی بستی پر حملہ ہوجاتا، کسی کو عقیدے کے نام پر گولی ماردی جاتی، کوئی دھشت گردی کا واقعہ شہریوں کی جان لیتااور عالمی خبروں میں پاکستان کا امیج ایک ایسے ملک کے طور دکھائی دیتا جس میں ایسے مسائل کے سوا کچھ نہیں۔لیکن نریندر مودی کی انتخابات میں کامیابی نے جیسے ہندوبنیاد پرستی( کہ انڈیا ایک ہندوقوم ہے) کے باردو کے ڈھیر پر جلتی ہوئی ماچس پھینک دی، اور سرحد کے آرپار انتہاپسندی کی مساوات تبدیل ہونے لگی۔ جس دوران پاکستان رفتہ رفتہ بنیاد پرستی کی دلدل سے قدم باہر نکالتے ہوئے مذہبی انتہا پسندی، جو اس کا سب سے بڑا مسلہ ¿ تھا، سے دور ہونے لگا، انڈیا اس دلدل میں دھنسنے لگا۔
ایک ہندوستانی صحافی ، سونیا فلیرو(Sonia Faleiro) نیویارک ٹائمز میں لکھتی ہیں”آج کے انڈیا میں سیکولر لبرلزکو ایک چیلنج درپیش ہے کہ وہ زندہ کیسے رہیں۔ اگست میں ایک 77 سالہ دانشور، ایم ایم کلبرجی، جو ہندوبت پرستی کے بے دھڑک ناقد تھے، کو اُن کے گھر کے دروازے پر گولی مار کرہلاک کردیا گیا۔ فروری میں ایک کمیونسٹ لیڈر، گوئند پنساری کو ممبئی میں ہلاک کردیا گیا۔ 2013 میں ایک کارکن، نریند دھابولکر(Narendra Dhabolkar)کو مذہبی توہم پرستی کے خلاف حرف ِشکایت زبان پر لانے کی پاداش میں قتل کر دیا گیا۔ “ابھی حال ہی میںاترپردیش کے ایک گاﺅں میں ایک مسلمان کو گائے کا گوشت کھانے کے شبے میں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناکر ہلاک کردیا گیا۔ ہندوستانی لکھاریوں کے آفرین کہ اُنھوں نے اپنے ایوارڈز واپس کرنے شروع کردیے ، اور ایک مشہور اداکارہ شرمیلا ٹیگور نے خبردار کیا کہ انڈیا میں شعلہ زن انتہا پسندی کا حالیہ ماحول 1975-77 میں اندرا گاندھی کی طرف سے لگائی گئی ایمرجنسی اور 1992 میں بابری مسجدکے انہدام سے پہلے بننے والے ماحول کی یاددلاتا ہے۔ تاہم ایسی آوازیں صدابصحرا ہیں، مجموعی طور پر ملک میں عدم برداشت اور خوف کا راج ہے۔ وزیر ِاعظم مودی خود خاموش ہیں، بالکل جس طرح وہ اپنی وزارت ِاعلیٰ کے دور میں گجرات میں ہونے والے مسلم کش فسادات کے وقت مہر بلب تھے۔ کچھ افرا د کا خیال تھا کہ وزیر ِ اعظم بننے کے بعد وہ ایک مختلف شخص دکھائی دیں گے، لیکن انڈیا میں رونما ہونے والے واقعات بتاتے ہیں کہ وہ ذرّہ برابر بھی تبدیل نہیں ہوئے۔ دراصل وہ جوانی سے ہی ہندوانتہا پسندانہ نظریات رکھنے والی تنظیم ، راشٹریہ سوامی سیوک سنہا(آر ایس ایس) کے سرگرم رکن تھے۔ ہندوتوا نظریہ نازی ازم کی طرح ، بلکہ آپ اسے مقامی یا دیسی نازی ازم کہہ سکتے ہیں۔ اس کی بنیاداس متعصبانہ تصور پر ہے کہ انڈیا ہندوقوم کا دیس ہے اور اس میں مسلمانوں یا دیگر عقائد رکھنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
اس مکدرہوتے ہوئے ماحول میں پاکستان کے لیے موقع بالکل واضح ہے۔ بہت دیر سے پاکستان کو تنگ نظری اور انتہا پسندی کے گڑھ کے طور پر دیکھا اوردنیا کے سامنے پیش کیاگیااوراس کی مذمت کی گئی۔لیکن اب انڈیا اس سطح پرگرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستان کے جو بھی حالات تھے، اب اس نے مذہبی انتہا پسندی کے ناگوں کے سرکاٹنا شروع کردیے ہیں۔ چنانچہ اس وقت ہندوستان کو پہنچنے والا نقصان پاکستان کے لیے سود مند ثابت ہوگا، لیکن یہ فائدہ اُسی صورت میں اہم اور دیر پاہوسکتا ہے جب پاکستان اپنے ذہن کے دریچے وا کرتے ہوئے لبرل ازم اور روشن خیالی کی طرف قدم بڑھائے گا۔ایک بات تو طے کہ پاکستان میں بنیادپرستی کی چڑھتی ہوئی لہر کا رخ موڑ ا جاچکا، اسلحہ بردار ملاّ، جو یہاں اپنی مرضی کی اسلامی امارت قائم کرنا چاہتے تھے، کی طاقت کو شدید زک پہنچ چکی ، لیکن اب حاصل ہونے والی کامیابی کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ محفوظ بھی بنانا ہوگا۔
سرکاری شعبہ جات بے پناہ بدعنوانی کی لپیٹ میں ہیں، اس کا بھی کچھ کیا جانا چاہیے۔ روز مرہ زندگی میں اہم سروسز، جیسا کہ انتظامیہ، پولیس، عدالتی نظام وغیرہ کوبہتر بنانا ہوگا۔ کیا ہم صحت کی سہولیات پر کافی رقم خرچ کررہے ہیں؟کیا ابھی وقت نہیں آیا جب ہم تمام ملک کے لیے یکساں نظام ِ تعلیم تشکیل دیں، ملک بھر میں یکساں نصاب ہو اور مطالعہ پاکستان جیسے مضامین کی جگہ طلبہ کو پڑھنے کے کچھ بہتر مواد مہیا کیا جائے؟ہمارے تصورات، نظریات، گفتگو اور چیزوں کو دیکھنے اور پرکھنے کا انداز جدید اور منطقی ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنی دقیانوسی سوچ سے جان چھڑانی ہوگی۔ اگر انڈیا دقیانوسیت کی زنجیروںسے اپنے پاﺅں جکڑنے پر تلا ہو ہے تو ہمیں اس کی تقلید کی ضرورت نہیں۔ ہم نے پہلے ہی اپنے قومی بیانیے کو دقیانوسیت کااسیرکیا ہوتھا، اب اسے جھٹک کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں تحقیق اور جستجو کو اپنی تعلیم کی روح ِرواں بنانا ہوگا، لیکن پہلے ہمیں تحقیق کے بیج کاشت کرنے کے لیے اپنے ذہن کی کھیتی کو تیار کرنا ہوگا۔
مغربی ممالک لادین نہیں، ان میں سے زیادہ تر مسیحیت کو اپنائے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ہمارا عقیدہ اسلام ہے ، اور اس ملک میں اکثریت کایہی مذہب ہے۔ اس سے پہلے مغرب نے مذہبی تصورات سے پیدا ہونے والے مسائل کا مزہ چکھا ہے، چنانچہ وہ مذہب کی نمائش کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ہمیں بھی ہمہ وقت مذہب کا دکھاوا کرنے سے اجتناب کرنا ہوگا۔ کلاشنکوف سے کہیں زیادہ خطرناک، وہ واحد آلہ جس نے ہمارے ہاں لہو میں ڈوبی ہوئی مذہبی عصبیت کے زہرناک بیج بوئے، وہ لاﺅڈسپیکرہے۔ اس پر مزید کنٹرول کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ توہین کے قوانین کا غلط استعمال بھی روکنا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے سلمان تاثیر کے قاتل، ممتاز قادری کی اپیل کو رد کرکے ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے توہین کے ایشو پر نظر ثانی کا موقع فراہم کردیا ہے۔
اس دوران ہمیں ایک بات اپنے ذہن میں بٹھا لینی چاہے کہ ہمیں انڈیا کے ساتھ میزائلوں اور بمبوں میں مقابلہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ہم میزائل، ٹینک اور ایٹم بم خود بناچکے ہیں، بس یہی ہمارے لیے کافی ، بلکہ سچ پوچھیں تو زائد از ضرورت ہیں۔ ہمارے پاس ایک مضبوط فوج ، کاری فضائیہ اور مستعدبحریہ موجودہے۔ اب ہمیں سکولوں اور کالجوں ، ریسرچ اور علم کے فروغ کی ضرورت ہے۔ ہمیں خود پراعتماد ہونا چاہیے ، ہمیں بھارت اور بھارتی دھمکی کی باتیں کرنے کی ضرورت نہیں۔اس وقت ہمیں روایتی یا غیر روایتی ہتھیاروں نہیں بلکہ برداشت، روشن خیالی، حقیقت پسندی، فہم و ادراک اور تعلیم(اور گر ہوسکے تو موسیقی اور فن ) کی دوڑ میں انڈیا سے آگے نکلنا ہوگا۔
ہمارے بقراط سوچتے تھے کہ تحریک ِطالبان پاکستان کے خلاف کارروائی، کراچی کے مسائل کا حل اور انتہا پسندی کو لگام ڈالنا ناممکن ہے، لیکن اب وہ نہایت کامیابی غلط ثابت ہوچکے ۔ پاکستان نے اس لوہے کے اخروٹ کو توڑ ڈالا ہے۔ کیا اب پاکستانی ایک قدم اور آگے بڑھا کر ممنوع قراردی گئی اشیا کے حوالے سے قدرے حقیقت پسندانہ رویہ اختیارکرتے ہوئے منافقت کا پردہ چاک کرنے کے لیے تیار ہیں؟قانونی طور پر کچھ مشروبات کا استعمال منع، لیکن حقیقت اس کے برعکس ۔ ہر بڑے شہر میں ممنوعا مشروب کاکوئی بھی مشہور برانڈ ایک فون کال پرحاضر۔ چنانچہ قانون اور حقائق کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ چاروں طرف چھائی ہوئی منافقت کی دھند کو کم کیا جائے سکے۔ آپ یہ بات پسند کریں یا نہ کریں، ممنوعہ مشروبات کا وسیع پیمانے پر استعمال ہمارے معاشرے کا ایک حصہ ہے۔اس پر قانونی پابندی نے نہ صرف پاکستان کو ایک دقیانوسی ملک کے طور پر پیش کیا ہے بلکہ مجرمانہ سرگرمیوں کو بھی بڑھادیاہے۔ اس حوالے سے ہمارا ماڈل سعودی عرب نہیں، دوبئی ہونا چاہیے۔ مختصر یہ کہ نرنیدرمودی پاکستان کے لیے ایک آسمانی تحفہ ثابت ہورہے ہیں۔ اُن کے ہوتے ہوئے ہندوتاوا مضبوط ہوتا جائے گا، اور اگراس دوران ہم اپنی داخلی کمزوریوں پر قابوپاتے ہوئے برداشت اور روشن خیالی کو فروغ دے سکے تو ہمیں کسی سے خوف نہیں رہے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *