اردو ہے جس کا نام....

anees ahmadیہ تو سبھی جانتے ہیں کہ ” اردو “ ترکی زبان کا لفظ ہے۔
اس حوالے سے ترکی ، اردو زبان کی ماں ٹھہری اور ترکی اسکا گھر۔ برسوں بعد یہ بچی دنیا بھر میں پھیلی اپنی آل اولاد کے ساتھ چند روزقبل جب اپنی ماں سے ملنے آبائی گھر پہنچی تو ماں نے جس محبت سے اسے اپنی آغوش میں لیا وہ دیدنی تھا۔ جی ہاں ! ہم بات کر رہے ہیں اس سمپوزیم کی ، جو ترکی میں اردو پڑھائے جانے کے سو سال مکمل ہونے پر استنبول یونیورسٹی نے استنبول کی بلدیہ عظمیٰ کے تعاون سے یہاں منعقد کیا۔
اسکا عنوان تھا: ”ترکی اور جنوبی ایشیا کے مسلمان۔نیا تناظر۔ماضی اور حال کے آئینے میں“۔
مہمان تھے دنیا بھر سے اردو کے سکالر ، شاعر ، ادیب اور محقق۔ اور میزبان تھے جو اپنی طرز کے بس ایک ہی ہیں ، پروفیسرڈاکٹر خلیل طوقار، صدر شعبہ اردو استنبول یونیورسٹی۔
ڈاکٹر خلیل طوقار اب کسی تعارف کے محتاج نہیں رہے۔ اب تک تیس کتابیں تحریر کر چکے ہیں جبکہ مختلف موضوعات پر انکے تحقیقی مقالوں کی تعداد دو سو سے زائد ہے۔ سو اب کسی کواس بات پر حیرت نہیں ہونی چاہئیے کہ یہ اردو کو اپنی محبوبہ اور دنیا انہیں اردو کا عاشق قرار دیتی ہے۔ استنبول کا یہ سمپوزیم ” طوقار۔ اردو“ عشق کا برملا اظہار تھا جسکی سند ، حکومت پاکستان کا وہ یادگاری ڈاک ٹکٹ ہے جو اس موقع پر جاری کیا گیا۔
استنبول یونیورسٹی میں اردو کی باقاعدہ تدریس کا آغاز یونیورسٹی کی فیکلٹی آف آرٹس ” دارالفنون “ کے شعبہ ادبیات میں 1915میں ہوا تھا جس کے روح رواں ہندوستان سے آنے والے خیری برادر ان تھے۔آج یہاں اعلیٰ سطح پر اردو کی تعلیم اور ریسرچ کی سہولت میسر ہے جس سے ترک طالبعلموں کی ایک بڑی تعداد استفادہ کر رہی ہے۔
یہ سمپوزیم اگرچہ ترکی میں اردو کی تدریس کے سو سال مکمل ہونے پر منعقد کیا گیا، تاہم اسکا دائرہ صرف اردو زبان کی تعلیم تک محدود کرنے کی بجائے ، ترکی اور اردو کے حوالے سے ہمہ گیر موضوعات کا انتخاب کیا گیا جو بڑی مثبت بات ہے۔ برصغیر سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ یہاں ہمیں روس، ترکی اور ایران سے آنے والے سکالروں کی شستہ اردو بھی سننے کو ملی جس سے جی باغ باغ ہو گیا۔یہ سب اپنے اپنے ملکوں میں اردو کی ترویج کے لیئے جی جان سے کوشاں ہیں اور بے حد تعریف کے مستحق۔
جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ، مندوبین کی اکثریت کا تعلق برصغیر پاک و ہند سے تھاجو دنیا کے مختلف ملکوں میں آباد ہیں۔اور پھر جہاں اپنے لوگ اتنی بڑی تعدادمیں جمع ہو جائیں ، وہاں وہی کچھ ہوتا ہے جو یہاں ہوا۔یعنی مشاعرے۔
کبھی کبھی تو ہمیں واقعی حیرت ہوتی ہے کہ قدرت نے برصغیر کے اہل دانش کو اتنی شاعرانہ صلاحیتوں سے کیونکر نواز دیا کہ انکے ذہنوں میں شاعری ہر وقت کھولتی اور کسی ہانڈی میں جمع ہونے والی بھاپ کی طرح سیٹیاں بجاتی باہر نکلنے کو بیتاب رہتی ہے۔ کبھی بچپن میں ہم ریلوے سٹیشن پر کالے انجنوں کی شنٹنگ دیکھا کرتے تھے۔ ان کے پہلو سے دھوئیں کے مرغولے نکلتے۔ انجن دھاڑتا ، اوردھوئیں کے بادل کسی دیو کے منہ سے نکلنے والی بھاپ کی طرح چمنی سے اوپر آسمان کی جانب اٹھنے لگتے۔ سچ پوچھیئے تو پورے سمپوزیم کے دوران ہمارے یہ با کمال شاعر شنٹنگ کرتے ہی دکھائی دیئے۔ جہاں موقع ملتا ، انکے لبوں سے سیٹیاں بجاتی غزلیں، نظمیں اور نجانے کیا کچھ برآمد ہونے لگتا۔ ایسے میں چھوٹے بڑے انجنوں کی تمیز مٹ جاتی۔ بلکہ چھوٹے انجن کچھ زیادہ ہی بیتاب اور بپھرے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔
جس ہوٹل میں مہمانوں کو ٹھرایا گیا، کانفرنس ہال سے چند منٹ کی دوری پر تھا۔ بہت آرام دہ اور تمام ضروری سہولیات سے آراستہ۔لابی کے ساتھ ہی ایک جانب بار، یعنی میخانہ اور دوسری جانب کیفے تھا، جہاں شام کو خوب گہما گہمی رہتی اور اسکی فضائیں رات گئے تک شعرو سخن سے گونجتی رہتی تھیں۔ آغاز ، لابی سے ہوتا، جہاں ترتیب سے رکھی بھاری کرسیوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر دائرہ سا بنا لیا جاتا ، اور پھر لمحوں بعد ہی یہ دائرہ ، حلقہ ارباب ذوق میں تبدیل ہو جاتا۔ کرسیوں کی تعداد چونکہ محدود تھی ، لہٰذاہ جنہیں یہاں جگہہ نہ ملتی وہ ایسا ہی ایک دائرہ بار میں بنا لیتے اور اپنا مشاعرہ الگ سے برپا کرنے لگتے۔اور پھر جیسے ہی ترنم سے پڑھنے والے پہلی تان بلند کرتے، ہوٹل کے دوسرے مہمان، جنکا اردو سے کوئی تعلق نہ تھا، سروں کو جھٹکتے چھٹنے لگتے۔ پہلی رات جب ہمارے شعرا نے بار پر قبضہ کیا توبلند قامت بارٹینڈر ، یعنی ساقی بہت خوش ہو¿ا کہ آج ساقی گری کی شرم رکھنے کا موقع ملے گا۔ پہلی ایک دو غزلوں تک تو اسکے پر امید ہاتھ مہارت سے آبگینوں کو چمکاتے رہے، جیسا کہ بارٹینڈر خود کو مصروف رکھنے کے لئے کرتے رہتے ہیں۔ لیکن جب بادہ و ساغر کی بات کرنے والوں کی جانب سے کوئی آرڈر ملنے کی بجائے تحسین و آفریں اور ترنم کے ارتعاش سے کاو¿نٹر پر رکھے ساغر و مینا چھنچھنانے لگے ، تو وہ ہاتھ میں پکڑا جھاڑن ہوا میں اچھالتا نجانے کہاں غائب ہو گیا۔ اگلے روز بھی دکھائی نہیں دیا اگرچہ ساغر و مینا ویسے ہی طاقوں میں سجے رکھے تھے۔
اب ہوتا یہ تھا کہ لابی کے حلقے میں بیٹھا کوئی شاعر یا شاعرہ جب اپنا کلام سنا لیتے توکسی بہانے اٹھ کر بار کے حلقے میں جا بیٹھتے اور وہاں سنانے لگتے۔ بار والے بھی یہی کرتے۔ گویا ” ادھر کے لوگ بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں“ کی سی صورتحال تھی۔ اس دوران ہم جیسے کم ذوق ، جو گپ شپ کی غرض سے لابی میں آکر بیٹھے ہوتے ، رضا کار سامعین بنے رہتے اور ہمیں دونوں کی سننا پڑتی۔
بات اگر شعر تک ہی محدود رہتی، تو بھی گوارا تھا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ بیشتر شعرا ، بیک وقت دانشور ، محقق، ماہر لسانیات اور نقاد بھی تھے۔ سو ، داد کے ساتھ چلتے چلتے اسی زمین میں چند اشعار اپنے بھی سنا دیتے۔ ایک دانشور شاعر تو شعر سنانے کے ساتھ ہی ساتھ اپنی ان گوناں گوں خدمات کا ذکر بھی تفصیل سے کرتے رہتے جووہ اردو کے ترویج لئے انجام دے چکے ہیں۔ ان کا بیان جب طویل ہوجاتا تواگلا شعر پڑھنے کے انتظارمیں بیٹھا شاعربے چین ہونے لگتا کہ اسکی باری سے پہلے کہیں باقی لوگ اٹھ کر چلے ہی نہ جائیں۔ گھاک شاعر اسکا توڑ یوں کرتے کہ ایک غزل ختم ہوتے ہی یہ کہہ کر دوسری شروع کر دیتے کہ ” ایک تازہ غزل کے دو شعر۔ پھر مقطع پڑھتے ہوئے اجازت چاہوں گا “ اور یوں وہ پوری غزل سنا دیتے۔
ہوٹل والے دو دن تو لابی میں ہونے والے یہ ہنگامہ خیز مشاعرے برداشت کرتے رہے۔ جب انکی ہمت جواب دے گئی تو بیسمنٹ میں ایک کانفرنس ہال پیش کر دیا کہ ”حضور چاہیں تو رات بھر یہاں اردو کی خدمت کیجئے۔ ہمیں بہت خوشی ہوگی۔“ سو تیسری رات سے مشاعرے بیسمنٹ میں ہونے لگے، اور جونہی رات کے کھانے سے لوٹتے، مشاعرے کا اعلان ہو جاتا اور سبھی شعرا، رضا کار سامعین کو حراست میں لیئے بیسمنٹ کی جانب لپکتے۔
طوطیان پاک و ہند کا جوش غزل خوانی ایسے عروج پر تھا کہ ہوٹل کی عمارت میں سمٹ کر رہ جانے کی بجائے باہر بھی چھلکنے لگتا۔تب جو جس کے قابو آتا وہ اظہار اپنایت کی آڑ میں اس کے کاندھے کو اپنی گرفت میں لئے کھڑے کھڑے فٹ پاتھ پر ہی اپنی تازہ نظم سنادیتا۔ساتھ ہی رات کو بیسمنٹ مشاعرے میں تازہ غزل سنانے کی نوید بھی دے دیتا۔
کانفرنس کے دوران معمولات کچھ یوں تھے کہ ناشتے کے بعد کانفرنس ہال جانا ہوتا جو ہوٹل سے چند منٹ کی دوری پر تھا۔لنچ کے لئے کانفرنس ہال سے ایک بہت خوبصورت تاریخی عمارت میں بنائے گئے ریستوران۔پھر واپس کانفرنس ہال۔اجلاس کے اختتام پر ہوٹل۔وہاں سے رات کے کھانے کے لئے پھر اسی ریستوران اور واپسی۔
مہمانوں کی ضروریات کا خیال رکھنے کے لئے طوقار صاحب کے ہنس مکھ طلبا و طالبات کی ایک پوری ٹیم موجود رہتی تھی جن کی زمہ داریوں میں مہمانوں کو کانفرنس ہال اور ریستوران لانا لیجانا بھی شامل تھا۔ چند منٹ کا یہ فاصلہ طے کروانے میں ان بیچارے طلبا و طالبات کو جس کرب سے گزرنا پڑتا ، اس کا بیان مشکل ہے۔ پر مجال ہے ان کے چہرے پر کبھی شکن تک آئی ہو۔
مہمان لابی میں جمع ہوتے۔ انہیں چلنے کے لئے کہا جاتا تو یہ ایک دوسرے کو شعر سنانے لگتے۔ باہر نکلتے تو کچھ وہیں فٹ پاتھ پر ہی کھڑے ہو کر گپ شپ کرنے لگتے، کچھ راستہ سمجھے بغیر آگے نکل جاتے۔کوئی اپنی بیاض کمرے میں بھول آیا ہوتا، جسے لینے وہ واپس کمرے میں چلا جاتا۔ جو انتظار نہ کر سکتے، اٹکل سے راستہ تلاش کرنے لگتے اور اکثر بھول جاتے، حالانکہ راستہ بالکل سیدھا اور آسان تھا۔
اب یہ بیچارے طلبا و طالبات گڈریوں کی طرح اپنی کھوئی بھیڑوں کو تلاش کرتے آگے پیچھے دوڑنے لگتے۔ پیچھے رہ جانے والوں کو آگے لے کر آتے، تو آگے والے کہیں اور نکل جاتے۔ انہیں اکٹھا کرتے تو درمیان والے کسی اہم مسئلے پر بحث کرتے کرتے غلط موڑ مڑ جاتے۔ الغرض چند منٹ کا یہ مختصر سا فاصلہ تقریباً ایک گھنٹے میں طے ہوتا۔ ہاں اس دوران ہمیں استنبول یونیورسٹی میں اردو پڑھنے والے ان نوجوان لڑکے لڑکیوں کی پختہ ہوتی اردو خوب سننے کو ملتی ،جو ساری کلفت بھلا دیتی۔یہاں نوجوان ڈاکٹر راشد کا ذکر کرنا بھی بہت ضروری ہے جو استنبول یونیورسٹی میں اردو پڑھاتے ہیں۔ مہمان داری کی بڑی ذمہ داری انہی پر تھی جسے انہوں نے انتہائی خوش اسلوبی اور خوش دلی سے نبھایا جس پر وہ ڈھیروں داد کے مستحق ہیں۔
اتنی بڑی کانفرنس کا اہتمام کرنا کوئی بچوں کا کھیل تو ہے نہیں۔ڈاکٹر خلیل طوقار اس میں ایسے مصروف ہوئے کہ علیل ہو گئے۔سمپوزیم کے آخری روز ان کی اور باقی منتظمین کی یقینا? یہی خواہش ہوگی کہ اختتامی اجلاس کے بعد انہیں کچھ آرام کرنے کا موقع ملے۔ لیکن کہاں صاحب!
ہمارے شعرائ کرام نے آڈیٹوریم کے اوقات کا خیال کئے بغیر، اختتامی تقریب سے قبل ہی یہ مطالبہ داغ دیا تھا کہ وہ اجلاس کے بعد یہاں مشاعرہ کرنا چاہتے ہیں۔طوقار صاحب نے کچھ پس و پیش کی، اوقات کا خیال دلایا۔لیکن کہاں۔ شاعر خواتین و حضرات بضد تھے کہ مشاعرہ کر کے رہیں گے۔سو وقت بچانے کے لئے چائے کی تقریب منسوخ کرتے ہوئے مشاعرہ ہوا۔پر جن کم ذوقوں کو چائے کی طلب ہو رہی تھی وہ کہاں بیٹھنے والے تھے۔
پھر جیسے ہی مشاعرے کا اعلان ہوا، ہال خالی ہونے لگا۔جو لوگ سٹیج پر بیٹھے تھے، وہ معززین تو بیٹھے رہے۔ شعراءاگلی نشستوں پر براجمان تھے اور کچھ ہم جیسے سامعین۔
شعرا ئے کرام وقفے وقفے سے گردنیں گھما کر پیچھے دیکھ لیتے کہ ” ابھی کتنے بیٹھے ہیں۔“ اور پھر ہر مرتبہ انہیں جب ایک اور نشست خالی دکھائی دیتی تو ان کے دل دھک سے رہ جاتے۔اندیشہ ہائے دور دراز رکھنے والے شاعر معاملے کی نزاکت کو سمجھ چکے تھے، سو حفظ مراتب کی پرواہ کئے بغیر پہلے پڑھنے کی ضد کرنے لگے۔ایسے شعرا ءبھی جو کبھی پہلے پڑھوا لئے جانے پر ناراض ہو جاتے ہیں ، جونیئر شعراءکو دھکیلتے ہوئے سٹیج پر آتے اور پہلے پڑھنے کا شرف حاصل کرتے کہ ہال تو تیزی سے خالی ہو رہا تھا۔ اور پھر اسی پر بس نہیں۔جونہی پڑھ چکتے ، کسی بہانے خود بھی ہال سے نکل جاتے۔ترنم سے پڑھنے والے اس رفتار سے پڑھ رہے تھے کہ انکی آواز گرامافون پر چلنے والے کسی پرانے ریکارڈ کی طرح چابی دیئے جانے پر باریک سے باریک تر ہوتی چلی جا رہی تھی، اور ہال تھاکہ خالی ہوئے جاتا تھا۔جو شاعر ابھی تک باری کے انتظار میں تھے، شاید اس خیال سے خود کو تسلیاں دے رہے تھے کہ ” کوئی بات نہیں بچو ! رات کو بیسمنٹ کا مشاعرہ بھی تو پڑھنا ہے۔ دیکھ لیں گے۔“
اب چائے کی طلب ہم پر حاوی ہو چکی تھی۔ سو ہم چپکے سے باہر نکل آئے اور ساتھ میں اس شریف آدمی کو بھی لیتے آئے جو ابھی تک مروت میں بیٹھا تھا۔
جاتے جاتے ہم نے ہال پر نظر ڈالی تو سترہ شاعر اور تین باذوق سامعین ابھی تک وہاں بیٹھے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *