نجات دہندہ سے مظلومیت تک

babar sattarہم عجیب لوگ ہیں۔ 1999ء میں پرویز مشرف کو نجات دہندہ سمجھ کر خوش آمدید کہا۔ انہوں نے وہ کیا جو اکثر صاحب اقتدار کرتے ہیں، یعنی خود پروری۔2007ء میں ہم اس وقت قانون کی بالادستی اور جمہوریت کے نام پر ان کے خلاف ہوگئے جب انہوں نے چیف جسٹس کو ان کے عہدے سے ہٹا دیاتھا۔ 2009ء تک وہ نجات دہندہ سے بد معاش بن گئے تھے۔ جب انہوں نے دوسری بار فوجی بغاوت کروانے کی کوشش کی تو ہم نے اس کو ایسا کرنے نہیں دیا اور آخرکار ہم سب بشمول فوج ان کو بوجھ سمجھنے لگے تو وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے۔
پھر اپریل 2013ء میں وہ واپس آنے کا فیصلہ کیا اور تاریخ میں پہلی بار ایک فوجی بغاوت کرنے والا ہمارے درمیان موجود تھا جن کے آئین کے ساتھ تخریب کاریوں کو پارلیمنٹ نے قبول کیا اور نہ ہی عدالت نے ان کی حمایت کی۔لیکن جونہی مشرف کو ایک عام شہری اور سیاستدان کی طرح(فارم ہاؤس جیل اور ملٹری سکیورٹی کے علاوہ ) عدالت کے سامنے پیش کیا گیاتو ان اقدامات کو عدالتی کاروائی کے بجائے انتقامی کاروائی سمجھا جانے لگا۔اور اب وہ ایک مجرم نہیں بلکہ ایک مظلوم شخص ہیں اور سیاستدان ، جج اور شدت پسند ان کے خون کے پیاسے ہیں۔
جب مشرف صاحب اقتدار تھے تو ہم اس بات پر گفتگو کر رہے تھے کہ قومیں کس طرح اپنے غداروں اور جابروں کو عبرت کا نشان بناتے ہیں۔ کس طر ح انگلینڈ میں اولیور کرامویل کو پکڑ کر پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ میرا کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ مشرف کو ان کے کیے کی سزا کے طور پر پھانسی دی جائے لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ ہم ایک مکروہ ذہن والے لوگ ہیں ہم اصولوں کے بجائے جذبات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔
مشرف کے بنیادی جرائم یہ نہیں ہیں کہ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو جھونک دیا، ہمارے ہوائی اڈے امریکہ کے حوالے کیے ، منافقت کامظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں روشن خیالی کا درس دیتے رہے اور ملک کو ملاؤں کے رحم کرم پر چھوڑ دیا۔ان کو اس لیے بھی سزا نہیں دی جانی چاہیے کو ہمیں ان کے پالیسیوں سے اختلاف ہے اور نہ ہی اس لیے کہ انہوں نے بگٹی کو قتل کیا اور لال مسجد میں اپریشن کا حکم دیا۔ مشرف کا بنیادی جرم یہ ہے کہ ان کی حکومت ہی غیر قانونی تھی۔ اس کے پاس کوئی جواز نہیں تھا کہ وہ ملک پر فوجی طاقت کے زور پر حکومت کرے۔انہوں نے منتخب حکومت کو برطرف کیا آئین کی تنسیخ کی۔لیکن ہم پھر بھی مشرف پر مقدمہ ان کے ان اقدامات کی بنیاد پر چلانے کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ ہمیں اس پات پر شک ہے کہ آئین مقدس ہے یا نہیں ؟
اب بغاوت کا مقدمہ ایک عجیب صورحال اختیا رکر چکا ہے۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر بغاوت کا مقدمہ چلانا ہے تو 1999ء سے شروع کیوں نہیں کیا جا تا2007ء سے کیوں؟ہم کیوں ایک ایسی بات پر زور دے رہے ہیں جو کہ نا ممکن ہے حالانکہ مسئلے کا آسان حل ہمارے سامنے موجود ہے۔1999ء کے اقدامات قانونی طور پر پیچیدہ ہیں ۔ اس وقت مشرف کے اقدامات کو سپریم کورٹ نے قانونی حیثیت دی تھی اور بعد میں پارلیمنٹ نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کی توثیق کی۔جبکہ اس کے مقابلے میں2007ء کو نہ پارلیمنٹ نے مشرف کی حمایت کی اور نہ ہی عدلیہ نے ان کے اقدامات کو قانونی حیثیت دی۔ سندھ ہائی کورٹ نے تو مشرف کو باغی قرار دے کر ان کے خلاف دفعہ چھ کے تحت مقدمہ چلانے کا حکم دیا تھا ۔اگر مقدمہ 2007ء سے شروع کرنے کی حمایت کرنے والوں کی بات پر غور کیا جائے تو یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ متعدد قتل کے مجرم پر اس لیے مقدمہ نہیں چلا سکتے کیونکہ اس نے جو پہلا قتل کیا تھا اس وقت مقدمہ کیوں نہیں چلایا۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جب مشرف نے 1999ء میں جب اقتدارپر قبضہ کیا تو پورے ملک میں اس کے خلاف کوئی خاص رد عمل سامنے نہیں آیا لہذا اگر وہ مجرم ہے تو ہم سب شریک جرم ہیں اگر مقدمہ چلانا ہے تو صرف مجرم پر ہی کیوں ؟ ان پر کیوں نہیں جو شریک جرم تھے؟ اب جو لوگ 2007ء کے اقدامات پر مقدمے کی مخالفت کرتے ہیں تو کہیں وہ بھی شریک جرم تو نہیں بن رہے ہیں۔
نواز شریف کو یہ مسئلہ درپیش ہے کہ اگر وہ مقدمہ 1999ء سے شروع کرنا چاہیں تو ہم کہیں گے کہ وہ بدلہ رہے ہیں۔اور کچھ لوگ یہ بھی تو کہہ سکتے ہیں کہ وہ خود ایک آمر کے پیداوار ہیں تو وہ کسی دوسرے آمر پر کیسے مقدمہ چلا سکتے ہیں؟ اس طرح بات 1977میں چلی جائے گی۔پھر ہوتے ہوتے 1958ء بھی اس میں شامل ہوجائے گی اور اس سارے بحث و مباحثے میں ہم یہ بات بھو ل جائیں گے کہ ایک آمر کو عدالت کے کٹہرے میں لانا چاہیے کیونکہ ملک کا آئین یہ کہتا ہے۔
یہ بات غلط ہے کہ ہم مشرف پر قانون کے تحت مقدمہ چلانے کے حق میں نہیں ہیں بلکہ اس لیے مقدمہ چلایا جا رہا ہے کہ تیسری بار وزیر اعظم بننے والے نواز شریف اپنا بدلہ لے رہے ہیں اور چیف جسٹس بھی مشرف کے عتاب کا شکار ہو چکے ہیں اس لیے وہ اپنا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔کچھ لوگ یہاں تک کہتے ہیں کہ ہم کیسے اپنے فوجی جنرل پر مقدمہ چلا سکتے ہیں جن کے بغیر اس ملک کا کوئی محافظ ہی نہیں ہے۔اس سارے بحث میں پڑ جانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم مشرف پر مقدمہ چلانا نہیں چاہتے کیونکہ ہم آئین کو مقدس نہیں مانتے۔
جمہوریت اور ریاست کی ناکامی کا جو بہانہ آمر بناتے ہیں وہی بہانہ تحریک طالبا ن بھی بناتے ہیں ۔جو آمر کرتے آئے ہیں اور جو طالبان کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ۔جب قانون کی بالادست قائم ہو جائے تو یہ سب راہ راست پر آجائیں گے۔
اب یہاں کوئی شریک جرم نہیں ہے بلکہ سب اپنے وجود کو بر قرار رکھنے کی کوشش میں ہیں۔اور ہم میں سے اکثر مصلحت کا شکار ہیں۔ اگر ہم اس لیے آئین کی حفاظت سے انکار کریں کیونکہ ہم مشرف سے زیادہ نواز شریف اور چیف جسٹس سے نفرت کرتے ہیں تو آنے والے وقتوں میں ہم شاید پاکستان کی حفاظت بھی نہیں کر پائیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *