کاغذ کا گھوڑا

A_U_Qasmi_convertedمجھے وفور علم نے جاہل بنا دیا ہے دراصل مجھے روزانہ چھپے ہوئے دو تین ہزار صفحات مصنفین کی طرف سے موصول ہوتے ہیں۔ چنانچہ اتنی مقدار میں علم ہضم نہ کرسکوں تو جاہل رہ جاتا ہوں اور اگر پڑھنے میں کامیاب ہو جائوں تو جہالت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ تاہم یہ معاملہ سب کتابوں کے ساتھ نہیں ہے۔ کچھ کتابیں ان سے ہٹ کر بھی ہیں۔ گزشتہ ہفتے مجھے عکسی مفتی کی کتاب ’’کاغذ کا گھوڑا‘‘ موصول ہوئی تو ایک دفعہ پھر مجھ پہ وہ کپکپی طاری ہوگئی جو ڈاک میں موصول ہونے والی کتابوں کے ڈھیر دیکھ کر ہوتی ہے۔ میں عکسی مفتی کو بہت عرصے سے جانتا ہوں، ناروے کی سفارت کے دوران مجھے یہ اعزاز بھی حاصل ہوا ہے کہ وہ ایک آدھ دن میرے غریب خانے پر بھی ٹھہرے تھے جو سمندر کے کنارے ایک پہاڑی پر واقع تھا۔ اس طرح کے گھروں میں رہنے والے سبھی لوگ اپنے گھروں کو غریب خانہ ہی کہتے ہیں۔ چنانچہ اگر میں نے بھی اپنے اس گھر کو غریب خانہ کہہ دیا تو اس سے کسی کو خواہ مخواہ ناراض ہونے کی کوشش نہیں کرنا چاہئے۔ تفنن بطرف عکسی کی کتاب دیکھ کر مجھے تسلی ہوئی۔ اس کی وجہ ممتاز مفتی تھے جن کا یہ بیٹا ہے۔ میں نے سوچا کہ عکسی مفتی نے اگربری کتاب بھی لکھی ہوگی تو زیادہ سے زیادہ کتنی بری ہوگی اور مجھے خوشی ہوئی کہ عکسی نے باپ کے نام پر بٹہ نہیں لگنے دیا، یہ کتاب ناول کی طرح دلچسپ ہے، ناول میں حقیقت بھی ہوتی ہے، منصف اپنی مرضی کے مطابق کرداروں کو اچھا یا برا بنا کر بھی پیش کرتا ہے تو یہ سب ’’خوبیاں‘‘ عکسی مفتی کی کتاب میں بھی موجود ہیں۔ تحریر انتہائی خوبصورت اور انداز بیان نہایت دلکش، اس کا کریڈٹ محترمہ سحر سجاد کو ہی جاتا ہے جو مفتی صاحب کی شاگرد ہیں کہ مفتی صاحب واقعات بیان کرتے چلے گئے اور وہ لکھتی رہیں۔
میرے قارئین ممکن ہے عکسی صاحب کے کسی ایک آدھ عشق سے واقف ہوں، مگر جس کے عشق میں انہوں نے گریبان چاک کر کے صحرائوں اور جنگلوں کی خاک چھانی وہ عشق اپنی مٹی سے عشق ہے۔ اس وقت لوک ورثہ کا جو کام نظر آتا ہے، وہ سب عکسی مفتی اور ان کے ساتھیوں کا ’’کیا دھرا‘‘ ہے۔ لوک گیتوں کو جمع کرنا، رسوم و رواج پر تحقیق کرنا، پرانے برتنوں اور ملبوسات کی تلاش، بابوں کے پاس گھنٹوں بیٹھ کر ان کی باتیں سننا اور لوک دانائی کو مرتب کرنا، یہ سب کچھ عکسی مفتی کی زندگی کا حاصل ہے۔ لوک ورثہ کی وسعتوں میں گم میرا دوست مظہر الاسلام بھی ’’عشق حقیقی اور عشق مجازی‘‘ میں کمال حاصل کر چکا ہے۔ مجھے امید ہے آپ میرے اس جملے سے عشق حقیقی اور عشق مجازی کے نئے معانی سے روشناس ہوئے ہوں گے۔
اور ہاں یہ جو کتاب کا نام ’’کاغذ کا گھوڑا‘‘ ہے تو عکسی مفتی نے یہ نام بیورو کریسی کو دیا ہے جو اصل کام کو فائلوں کے ڈھیر کے نیچے کہیں دبا دیتی ہے اس ضمن میں عکسی صاحب نے بعض نہایت دلچسپ واقعات بھی بیان کئے ہیں۔ جن میں سے کچھ ایسے بھی ہیں کہ ان پر یقین کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ البتہ دل میں غصہ اورچہرے پر مسکراہٹ ضرور آتی ہے۔ عکسی مفتی کے متعلق شنید ہے کہ وہ بہت سخت گیر آفیسر رہے ہیں لیکن انہیں جن لوگوں سے واسطہ پڑتا رہا ہے ان میں سے اثر تو بے وقوف بلکہ پاگل بھی لگتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے ثقافتی اداروں کے سربراہ رہے ہیں۔ ایک آدھ مقام پر عکسی مفتی اتنے طیش میں نظر آتے ہیں کہ اپنا غصہ کسی اور ہی انداز سے اتارتے ہیں۔ مثلاً وہ اصغر بٹ سے سخت ناراض ہیں جنہوں نے انہیں گریڈ انیس سے گریڈ اٹھارہ میں ڈیموٹ کردیاتھا، چنانچہ ان کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اصغر بٹ جو رضیہ بٹ کے شوہر ہیں ..... عکسی صاحب، اصغر بٹ کی اہلیہ ناول نگار نثار عزیز بٹ ہیں۔ جنہیں اس سال مجلس فروغ اردو ادب قطر کی طرف سے کمال فن ایوارڈ دیا گیا ہے اور اردو دنیا میں اس ایوارڈ کی قدر و قیمت بہت زیادہ ہے ۔ عکسی مفتی فن کے دلدادہ ہیں۔ چنانچہ انہوں نے جگہ جگہ پاکستان میں فنکاروں کی ناقدری، غربت اور افلاس کا ذکر کیا ہے۔ میرے خیال میں یہ بے قدری پرانے وقتوں میں تھی۔ اب تو ہمارے صف اول کے فنکاربورژوا زندگی گزارتے ہیں، البتہ بعض کلاسیکل سنگرز اور عام میوزیشنز آج بھی برے حال میں ہیں ۔ یہاں عکسی صاحب کے ایک سہو کا ذکر بھی ضروری ہے کہ یہ انسانی جان کا مسئلہ ہے۔ عکسی نے لکھا ہے کہ استاد فتح علی خان غربت اور افلاس کے ہاتھوں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر فوت ہو چکے ہیں۔ فتح علی خان دو ہیں۔ ایک استاد فتح علی خان جن کا تعلق پٹیالہ گھرانے سے اور دوسرے استاد فتح علی خان حیدرآبادی جن کا تعلق گوالیار گھرانے سے ہے۔ الحمداللہ اب یہ دونوں قابل فخر فنکار عکسی صاحب کے اس جملے سے پہلے تو زندہ تھے۔ اپنی وفات کا پڑھ کر نہ فوت ہوگئے ہوں۔ پٹیالہ گھرانے کے استاد فتح علی خان کو تو الحمرا آرٹس کونسل نے گزشتہ برس اپنے ہاں مدعو کیا تھا اور ان کی کچھ خدمت بھی کی تھی اور جہاں تک استاد فتح علی خان حیدرآبادی کا تعلق ہے میری معلومات کے مطابق بحمداللہ وہ بھی حیات ہیں۔ فنکار اگر بہت حساس ہوتے ہیں چنانچہ ان دونوں کے بارے میں پتہ کر ہی لینا چاہئے۔ اور ہاں ایک استاد فتح علی خان بھی تھے جو قوال تھے اور نصرت فتح علی خان کے والد تھے۔ یہ سب استاد معقول زندگی گزارتے رہے۔ عکسی صاحب نے ستار نوازمحمد شریف خاں کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ دمہ اور دق کی وجہ سے فوت ہوگئے جو درست ہے۔ ان کا بیٹااشرف عرف پونچھ والے ٹونی آج کل یورپ یا امریکہ میں ہے اور کروڑوں میں کھیلتا ہے۔ عکسی مفتی صاحب کو اپنے اس بیان پر بھی مزید تحقیق کرنی چاہئے کہ آج اگر کسی پاکستانی کو ستار میں دلچسپی ہے تو اس کو تار نہیں پورے کا پورا ستار ہندوستان سے منگوانا پڑتا ہے ستار کے حوالے سے میری گزارش یہ ہے کہ پوری دنیا میں ستار کا کدو صرف ہندوستان کے ایک گائوں میرج میں ملتا ہے اور جہاں تک تار کا تعلق ہے یہ سٹین لیس سٹیل کی ہوتی ہے جس میں بہترین کاربن مواد ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ زیادہ تر مغرب ہی سے امپورٹ ہوتی ہے۔
میں مفتی صاحب سے اس جسارت پر معافی کا خواستگار ہوں کیونکہ میں انہیں ثقافت سے وابستہ شعبوں کا استادالاساتذہ سمجھتا ہوں۔ میرے نزدیک یہ ایک اعلیٰ درجے کی کتاب ہے۔ نہایت دلچسپ، چشم کشا اور عبرت انگیر۔ ہمارے ثقافتی ادارے نالائق اورنااہل بیورو کریسی کے ہاتھوں جس طرح تباہ ہوئے یہ ان کی موت کا مرثیہ ہے اور یہ واحد مرثیہ ہے جس میں جگہ جگہ انسان مسکرانے پر بھی مجبور ہوجاتا ہے۔ میں اس واقعہ کی تفصیل بیان کرنا چاہتا تھا جو ایک ثقافتی دفتر کے لئے سیڑھی کی ضرورت پڑنے پر عکسی نے اپنے مخصوص انداز میں بیان کی۔ ایک سیڑھی کی منظوری کے لئے بیورو کریسی کی خط و کتابت سے ’’کاغذکا گھوڑا‘‘ تیار ہوا اور آخری فیصلہ یہ تھا کہ یہ بازار سے کرائے پر حاصل کر لی جائے۔آخر میں اس کتاب میں سے ایک خوبصورت جملہ یہ دراصل نصیحت ہے جو ممتاز مفتی نے اپنے بیٹے عکسی مفتی کو کی تھی۔ ’’عکسی زندگی میں ایک بات سے بچنا، کسی ہم وطن سے مذہب اور ثقافت پر بحث نہ کرنا، اس کا کبھی کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا!‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *