دانش یا محض ٹوئٹرکا ٹرینڈ

zafarullah Khanلفظ کی حرمت لکھنے والے پر قرض ہے۔سوچا تھا خاموش رہیں گے مگرشور اتنا ہے کہ اظہارکا بوجھ ناقابل برداشت ہوا جاتا ہے۔ چالیس چینلوں پر بولتی پانچ سو چالیس زبانیں اور پچاس اخباروں میں پانچ سو لکھنے والے طلاق طلاق کھیل رہے ہیں۔ایسے ایسے مفروضے لائے گئے کہ عقل دنگ رہ گئی۔اتنی گری ہوئی سطح کی باتیںکی گئیں جتنی محلے کی رشتے تلاش کرنے والی مائی بھی نہیں کرتی۔ کروڑوں روپے ادا کئے گئے۔ پہلی بیوی نے شادی ختم ہونے تک بچوں سے ملنے سے منع کر رکھا تھا۔ ایجنسیوں نے رپورٹ دی کہ زہر دے کر پارٹی پر قبضہ کرنے کا پروگرام ہے۔ ہاتھا پائی ہوئی۔ مار کٹائی ہوئی۔ اگر جمائما ناراض تھی تو ریحام نے عمران کے بچوں سے ملاقات کیوں کی؟ چلیں ٹی وی تو ریٹنگ اور کمائی کے لئے اپنی ساری حدود بھول گیا۔ ان کو یہ بتانا کہ ان کی حدود کیا ہیں ، چادر اور چاردیواری کا تقدس کیا ہے ،اب میڈیا کی آزادی پر حملہ ہے۔یہاں ’ کتا والی سرکار‘ اپنے دس آوارہ کتوں کے ساتھ لائیو شو ز میں نظر آتا ہے۔ پیڈ ایکٹرزکو پیسے دے کر پارکوں میں بٹھایا جاتا ہے اور پھر اخلاقی پولیس ہاتھ میں کیمرہ اور مائیک تھام کر چھاپہ مارتی ہے۔ مذہبی انٹرٹینمنٹ سے لے کر سیاسی انٹر ٹینمنٹ تک ہر وہ چیز دکھائی جاتی ہے جو بکتی ہے۔میڈیا کی آزادی کے نام پر اب کسی دن کیمرہ آپ کے بیڈ روم میں گھس کر آپ سے نکاح نامہ طلب کر سکتا ہے مگر لکھنے والے کو کیا ہو گیا؟
ہم نے اس ملک میں ایک بہتر سماج کا خواب دیکھا تھا۔سوچا تھا جمہوریت کا تسلسل یا تو آمروں کی مہم جوئی کے خواب کم کر دے گا یا پھر سیاستدان ہی ہوش کے ناخن لے کر ’ڈیلیور‘ کرنا شروع کر دیں گے مگر یہ خواب ابھی تک خواب ہی ہے۔سیاست دان ابھی تک الزام تراشی اور بہتان بازی سے باز نہ آ سکے۔جتنی کیچڑ ہمارے سیاست دان ایک دوسرے پر اچھالتے ہیں شاید ہی کہیں ایسا ہوتا ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہم فاطمہ جناح کے ساتھ کیاکیا۔بے نظیر بھٹو کے لئے جو بازاری زبان پارلیمنٹ کے فلور پر استعمال کی گئی ایک شریف آدمی بے تکلف دوستوں کی محفل میں ایسی زبان کا متحمل نہیں ہو سکتا۔محترمہ بے نظیر بھٹو کا بیان ریکارڈ پر ہے کہ 1988 کے الیکشن کی تاریخ یہ جاننے کے بعد رکھی گئی کہ ان کے ہاں بچے کی پیدائش کب متوقع ہے۔جتنی گالیاں ولی خان کو دی گئیں شاید ہی کسی کو دی گئی ہوں۔ آج بھی فیصل آباد کے چوک میں ایک شخص کھڑا ہو کر اپنی ہی پارٹی کے وزیر پر قتل کے الزامات لگا رہا ہے۔اس گندے کھیل میں استثنیٰ کسی کو حاصل نہیں ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ سیاسی شعور گھنگرو باندھے سر بازار برہنہ رقص کر رہا ہے۔
امید کی کوئی کرن اگر تھی تو سماج کے سوچتے دماغ، لکھتے ہاتھ اور بولتی زبان تھی۔دانشورسماج کا معالج ہوتا ہے۔قلم کار اور تجزیہ کارمعاشرے کو مستقبل کی تصویر دکھاتاہے، ماضی کی غلطیاں بتاتاہے، حال کا ادراک دیتاہے۔سوچ کو تدبر کی بیڑیاں پہنانی پڑتی ہیں۔قلم میں روشنائی کے ساتھ خون پسینہ شامل کرنا پڑتا ہے۔اپنی پسند اور ذاتیات کا گلا گھونٹنا پڑتا ہے۔لفظ کی حرمت قرض ہے۔
ایئر ٹائم کا Slot دیانتداری کا منصب ہے۔ اخبار کا صفحہ امانت ہے۔ کالم جگہ بھرنے اور ریس میں شرکت کا نام ہوتا تو گیبریل گارشیا کا Farewell Letter آج تک زندہ نہ ہوتا۔ ایلی سینڈرز کا
The Stranger بس ایک کالم ہی تو تھا مگر دنیا نے ایلی کو اسی ایک کالم سے جانا۔ابوالکلام آزاد نے صدیق مکرم کو چند خطوط ہی لکھے تھے مگر غبار خاطر جیسا شاہکار چھوڑ گیا۔ صرف لکھنا نہیں ہوتا اپنے لکھے کو بیتنا بھی پڑتا ہے۔ اس سے ذیادہ دکھ ایک لکھنے والے کے لئے کیا ہو سکتا ہے کہ اسے اپنے ہی الفاظ پر شرمندگی اٹھانی پڑے۔
دیانتداری سے دیکھیے توواقعہ بہت چھوٹا ہے۔عمران خان اس ملک کا ایک سیاستدان ہے جس نے شادی کی اور طلاق ہو گئی مگر مانو لکھتے ہاتھوں اور بولتی زبانوں کو آگ لگ گئی ہو۔ دیواروں سے کان لگا کر گھر کی خبر رکھنے میں مصروف ہیں۔ ان دانشوروں کا فہم و ادراک اس سے آگے نہ بڑھ پایا کہ بیڈ کے دائیں طرف کون سوتا ہے اور بائیں طرف کون۔ کچن میںبرتن کون مانجھتا ہے اور روٹی کون پکاتا ہے۔پشاوری چپل خاتون نے خوبصورت پہنے تھے یا مرد نے۔عمران خان کیسے کھاناکھاتا ہے۔جمائما کیسی اردو بولتی تھی۔شادی کی شیروانی کہاں سے بنی۔ نکاح کب ہوا۔ کس نے پڑھایا۔ آنکھ مٹکا کب سے چل رہا تھا۔ جن کی عمریں صحافت میں کھپ گئیں وہ اس بات پر بغلیں بجا رہے ہیں کہ شادی کی خبر پہلے ہم نے دی یا طلاق کی ڈگڈگی پہلے کس نے بجائی۔سنتے تھے پیلی صحافت بھی ایک چیز کا نام ہے۔ چشم رسا نے دیکھ لیا کہ جس خبر کو صفحہ نمبر بارہ پر سنگل کالم میں لگانے کے لئے ایڈیٹر ہزار بار سوچتا تھا اب وہ خبر فرنٹ پیچ پر قاری کا منہ چڑاتی ہے۔
جن لوگوں کا اصرار ہے کہ ایک سیاست دان کی نجی زندگی اس وقت نجی زندگی نہیں رہتی جب وہ عوامی زندگی میں داخل ہوتا ہے ان سے پوچھنا چاہیے کہ ایک کالم نگار، ایک اینکر بھی عوامی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس کی رائے اور تحریر سے عوام متاثر ہوتی ہے تو کیا ان کی نجی زندگی بھی پبلک پراپرٹی قرار دی جائے گی؟ اس ارسطو سے پوچھنا چاہیے کہ نشہ اگر سیاست دان پر اثر انداز ہو سکتا ہے تو تحریر اور تقریر پر بھی ہو سکتا ہے۔ کیا یونیورسٹی اور کالج کے گیٹ پر چوکیدار کی ذمہ داری لگائی جائے کہ وہ ہر پروفیسر کا منہ سونگھے کہ کہیں اس کے منہ سے شراب کے بھبکے تو نہیں اٹھ رہے کیونکہ وہ بھی عوام کے بچوں کی تربیت پر مامور ہے۔ ہمیں کہیں تو ایک لکیر کھینچنی پڑے گی۔ کہیں تو یہ بتانا پڑے گا کہ کونسا موضوع جس پر بولنا عوام کا کام نہیں ہے۔چلیں عوام کو نہ روکیں لیکن خود تو ہوش کے ناخن لیجیے۔سوشل میڈیا کے لونڈے لپاڑے اگر ٹوئٹر پر ٹرینڈ
میں طلاق طلاق کھیل رہے ہیں تو آپ بھی اسی ٹرینڈ کا کلمہ پڑھ کر جو بکتا ہے وہ لکھیں گے؟
دانشور قوم کی تربیت کرتا ہے۔ کم نگاہوں کو بلند نگاہی سے سرفراز کرتا ہے۔ہم بدقسمت قوم ہیں۔جھوٹ ، خود پسندی،تشدد اور مامور من اللہ کا فلسفہ ریاست کی سطح پر قوم بچوں کو پڑھایا جا رہا ہے۔ معاشرہ بدترین تقسیم کا شکار ہو چکا ہے۔ مذہبی عدم برداشت قتل و غارت گری پراتر آئی۔ لسانی تفریق نے علیحدگی کے نعروں کو جنم دیا ہے۔ جمہوریت کے نرخرے پر اب بھی طاقت کا بوٹ پڑا ہوا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر رل رہے ہیں۔ میگا پراجیکٹس کی کہانیاں طشت از بام ہیں۔ تعلیم کا وعدہ صرف وعدہ ہے۔ کھانے کو روٹی نہیں۔ پینے کو پانی نہیں۔ پہننے کو کپڑا نہیں۔ ذہنی افلاس معاشرے کی خمیر میں رچ بس گئی۔ کہیں باپ بیٹی کو قتل کر رہا ہے اور کہیں سوتیلی بیٹی سے شادی کر رہا ہے۔ آپ کا قلم مگر مسالے دار شگوفے چھوڑ رہا ہے۔
کوئی کچھ بھی کرے مگرچادر اور چاردیواری کا تقدس آپ پر فرض ہے۔ آپ فکر کے امین ہیں۔ فکری مباحث پڑھیے اور قوم کو جہالت سے نکالنے کی کوشش کیجیے۔قوم کے مذہبی بیانیے سے تشدد نکالنے پر اپنے قلم کو آمادہ کیجیے۔ قوم کے معاشی بدحالی پر حکمرانوں کو آئینہ دکھائیے۔ یہ مشکل ہے تو عمران خان کی سیاست پر تنقید کیجیے۔ ان کی خیبر پختون خوا میں گورننس پر تنقید کیجیے۔ وہ پیارا ہے تو زرداری اور نواز شریف کی پارٹی میں آمرانہ رویوں پر لکھیے۔ سیاست کوئلوں کا کاروبار لگے توسیف الملوک کی داستان رقم کیجیے۔ مونا لیزا کی مسکراہٹ تخلیق کیجیے۔ بروٹس کی بے وفائی کا نوحہ لکھیے۔ دست قدرت کو بے اثر کر دے۔ مجھ کو قسمت سے بے خبر کر دے۔ میرے سورج کو باخبر کر دے۔ میرے مکان کو اب گھر کر دے۔
آپ کا قلم قوم کا ضمیر ہے۔ قوم کے ضمیر کو دوسروں کی خواب گاہوں میں جھانکنے والا تماش بین نہ بنائیں۔

دانش یا محض ٹوئٹرکا ٹرینڈ” پر بصرے

  • نومبر 1, 2015 at 7:36 AM
    Permalink

    آپکا کالم بہت خوبصورت مگر بہت دیر کی مہرباں آ تے آ تے
    میرے پاس ستر کی دہائی کی اخباریں اور میگزین پڑے ہیں ایک نظر ڈالتی ہوں تو خوشنود خان ، خلیل ملک سے مجیب الرحمن شامی ،ارشاد الحق سے عبد القادر جیسوں کی تحریریں اور ذولفقار علی بھٹو ، مصطفی کھر ، ممتاز بھٹو ، جے اے رحیم وغیرہ پر ان " شریف دانشوروں " کے قلم سے کردار کشی کا زہر اگلتے دیکھتی ہوں اور پھر آپکی تحریر پر مسکراتی ہوں کہ جن لوگوں نے اپنی بنیادوں میں نفرت ، حقارت ،دشمنی اور کردار کشی کے بیچ بوۓ انکے لگاۓ زیھریلے پودوں سے آپ مصفا پھول پھل مانگ رہے ہیں ؟؟؟

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *