ایک نئے دور کا آغاز

Najam Sethiوزیراعظم نوازشریف نے جنرل راحیل شریف جو کہ تیسرے نمبر پر تھے، کو آرمی چیف تعینات کرنے کے لئے سنیارٹی کے اصول کے بجائے صوابدیدی اختیار کو استعمال کیا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ آخری وقت تک اس اہم عہدے کے لئے کی جانے والی تعیناتی کا اعلان کیوں موخر رکھا گیا تھا۔ اس سے پہلے ہم دیکھ چکے ہیں کہ جنرل ایوب خان سنیارٹی کے حوالے سے پانچویں، جنرل موسیٰ خان اور جنرل یحییٰ خاں تیسرے، جنرل گل حسن دوسرے، جنرل ضیاالحق آٹھویں ، جنرل آصف نواز دوسرے، جنرل وحید کاکڑ پانچویں، جنرل پرویز مشرف تیسرے اور جنرل اشفاق کیانی دوسرے نمبر پر تھے جب ان کو آرمی چیف بنایا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں سینارٹی کے اصول کو صرف ایک مرتبہ استعمال کیا گیا ہے جب 1995ء میں فاروق لغاری صدر اور بے نظیر بھٹو وزیراعظم تھیں تو جنرل جہانگیر کرامت کو سنیارٹی کے حوالے سے آرمی چیف بنایا گیا۔ جنرل ٹکا خان اور جنرل اسلم بیگ بھی سینئر تھے لیکن ان کی تعیناتی غیر معمولی حالات میں اُس وقت عمل میں آئی جب ایک آرمی چیف کو برطرف کر دیا گیا اور دوسرے کی طیارے کے حادثے میں ہلاکت ہو گئی۔ اس وقت فوج میں جنرل ہارون اسلم سینئر ترین تھے لیکن ان کو بعض وجوہات کی بنا پر آرمی چیف کے عہدے کے لئے نظر انداز کر دیا گیا۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ نواز شریف 1999ء کے شب خون کی یادیں فراموش نہیں کر پائے ہیں... اُس وقت بریگیڈئیر ہارون ڈی ایم او تھے اور اُنھوں نے بارہ اکتوبر کو وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے بہت سے وزراء کو گرفتار کیا تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان کا تعلق بھی جنرل مشرف کی طرح ایس ایس جی سے تھا اور مسٹر شریف کا ’’کمانڈوز‘‘ کے بارے میں تجربہ اچھا نہیں رہا ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ جنرل کیانی نے جنرل ہارون کے بجائے جنرل راشد محمود کی سفارش کی تھی۔ دوسری طرف جنرل راحیل شریف کو پی ایم ایل (ن) کے سابق صدر رفیق تارڑ کی حمایت حاصل تھی کیونکہ راحیل شریف اُن کے ساتھ ملٹری سیکرٹری کے طور پر فرائض انجام دے چکے تھے۔ اس کے علاوہ جنرل شریف حکمران جماعت کے ساتھ وابستگی رکھنے والے قادر بلوچ، جو اس وقت قبائلی علاقوں کے امور کے وزیر ہیں، کے ساتھ بطور چیف آف اسٹاف بھی کام کرچکے ہیں۔ نئے آرمی چیف کے نام کا اعلان اُسی دن کیا گیا جس دن چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کے لئے جسٹس تصدق حسین جیلانی کے نام کا اعلان کیا گیا جو بارہ دسمبر 2013ء کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ یہ ایک ہم پیشرفت ہے کیونکہ نوازشریف نے ماضی کی تمام تلخ یادوں کو بیک جنبش ِ قلم محو کرتے ہوئے ایک نئے دور کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ بات کہی جاتی ہے کہ ملک کے اہم ترین عہدوں پر تعینات کئے جانے والے یہ دونوں اصحاب اپنے پیشروئوں کے برعکس بے جا مداخلت اور بیان بازی کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ یہ ایک اچھی بات ہے کیونکہ اب صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف یا چیف جسٹس، آرمی چیف اور وزیراعظم پر مشتمل روایتی ٹرائیکا کا دور ختم ہوا چاہتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس سول حکومت کے پاس انتظامی اور حکومتی ناکامی کے لئے کوئی بہانہ نہیں ہوگا۔ اس سے پہلے حکومتیں اپنی انتظامی ناکامی پر طاقتور اداروں کو ذمہ دار ٹھہراتی رہی ہیں کہ اُنہیں کام نہیں کرنے دیا جارہا ۔
اس وقت قومی ایجنڈا بہت واضح ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان کو واپس پٹڑی پر ڈالنا ہے۔ اس کے لئے سہ جہتی حکمت ِ عملی، نہ کہ مداخلت، کی ضرورت ہے۔ داخلی محاذپر اُنھوں نے معیشت کو درست اور انتہا پسندی کو ختم کرنا ہے۔ علاقائی طور اُنہوں نے بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات معمول کی سطح پر لاتے ہوئے ملکی مفاد کا خیال رکھنا ہے۔ بین الاقوامی محاذ پر اُنھوں نے پاکستان کی تنہائی کوختم کرتے ہوئے اس کا ایک ناکام ریاست کے طور پر ابھرنے والے تاثر کو زائل کرنا ہے۔ ان امور میں وزیراعظم کو آرمی چیف اور چیف جسٹس کی معاونت درکار ہوگی۔ نئے چیف جسٹس کو چاہئے کہ جمہوریت کی تقویت کے لئے آئینی معاملات کی بہتری کے لئے کام کریں اور ایسے معاملات سے احتراز کریں، جیسا کہ سابقہ دور میں دیکھنے میں آیا، جن سے اعلیٰ عدلیہ اور ایگزیکٹو کے درمیان محاذ آرائی کا تاثر ملے۔ اس کے علاوہ مقبول عام عدلیہ کا ابھرنے والا تاثر بھی زائل ہونا چاہئے۔ اس کے لئے نئے چیف صاحب کو چاہئے کہ وہ پس ِ منظر میں رہ کر مضبوط اور ٹھوس آئینی بنیادوں پر کام کریں۔ اس کے علاوہ یہ جج صاحبان کا کام نہیں ہے کہ ایک ’’پولیس مین ‘‘کی طرح ملک کو چلاتے ہوئے بدعنوانی اور نظم و نسق میں خرابیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ نہ ہی ان کو یہ دعویٰ کرنا چاہئے کہ وہ مالی امور، جیسا کہ نج کاری کے معاملات وغیرہ، پیشہ ور ماہرین سے زیادہ جانتے ہیں۔ ان حالات میں خوش آئند بات یہ ہے جسٹس تصدیق جیلانی کی طرف سے حال ہی میں آنے والا ایک فیصلہ ایگزیکٹو کے آئینی اختیار میں عدلیہ کی بے جا مداخلت کی نفی کرتا ہے۔
جنر ل راحیل کے حوالے سے بھی کچھ اچھی خبریں ہیں کہ وہ ایک پیشہ ور سپاہی ہیں ۔ ان کا تعلق شب خون کے ماہر ’’کمانڈوز‘‘ یا خفیہ اداروں، جن کے بارے میں سابق وزیراعظم نے ’’ریاست کے اندر ریاست‘‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی، سے نہیں ہے۔ جب وہ فوج کے تربیتی ادارے Training and Evaluation کے ہیڈ تھے تو اُنھوں نے دہشت گردوں کے لئے ریاست کے ’’اندرونی دشمن‘‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی۔ اس سے پہلے پاکستان صرف بیرونی خطرے (بھارت) پر توجہ مرکوز کئے ہوئے تھا اور اس خطرے سے نمٹنے کے لئے ہمارے سابقہ دفاعی ماہرین نے افغانستان میں اسٹرٹیجک گہرائی تلاش کرنے کی کوشش کی تھی لیکن موجودہ حالات بتاتے ہیں کہ وہ کوشش فائدہ مند ہونے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہوئی۔
صدر آصف زرداری کی حکومت کو دفاعی اداروں کی انا اور عدلیہ کی فعالیت نے ہلاکر رکھ دیا تھا۔اُس کشمکش کا نقصان صرف پاکستان کو ہوا۔ اب حالات مختلف ہیں کیونکہ یہ دونوں طاقتور ریاستی ادارے وزیراعظم کے ہاتھ مضبوط کرنے پر آمادہ ہیں تاکہ پاکستان ان نامساعد حالات کے گرداب سے باہر نکل سکے۔ اس کا مطلب ہے کہ جنرل شریف علاقائی طاقتوں اور ہمسایوں کے لئے صلح جو جبکہ تحریک ِ طالبان پاکستان کے لئے فولادی مُکا ثابت ہوں گے۔ اسی طرح نئے چیف جسٹس آف پاکستان اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ان کے پیشرو کی طرف سے بے جا مداخلت کی وجہ سے اکثر اوقات ملک میں آئینی جمود پیدا ہونے کا تاثر ملتا تھا تاہم اب دونوں چیف صاحبان جانتے ہیں کہ پاکستان اس روایت کے تسلسل کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔ امید ہے کہ پاکستان میں ایک نئے دور کا آغاز ہونے جارہا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *