خان لالہ آپ یاد رہیں گے

lala-1391685790-8004ہمارا ایک دوست گھر میں لڑ کر اپنے والد کے دوست وفاقی وزیر افضل خان کے پاس چلا گیا تھا۔ خان لالہ نے اپنے پرانے دوست کے بیٹے کو اپنے ساتھ تب تک کئی مہینے رکھا جب تک اسے خود منا کر گھر واپس نہ چھوڑ آئے۔ اپنے دوست کو تسلی انہوں نے پہلے ہی دے دی تھی کہ اپنے چچا کے پاس آیا ہے تو فکر نہ کرو ساتھ ڈانٹا بھی تھا کہ تم کو پتہ ہی نہیں کہ جوان بچوں کو کیسے سمجھاتے ہیں۔
باچہ خان کے تربیت یافتہ لوگوں میں ایک خاص قسم کی انسان دوستی پائی جاتی ہے۔ جب سیاسی شخصیات کے انٹرویو کرنے شروع کئے تو میں نوارد ہونے کے باوجود افضل خان لالہ کی اہمیت سے تھوڑا سا واقف تھا۔ اپنے ایک دوست کو کئی دن راضی کرتا رہا کہ خان لالہ سے انٹرویو کرا دے۔ وہ تیار نہ ہوتا تھا وجہ وہ میری جہالت بتاتا تھا۔ ایک دن وہ افضل خان لالہ کو اچانک ہمارے دفتر لے آیا انٹرویو کے لئے۔
انٹرویو کے لئے ہرگز کوئی تیاری نہ تھی۔ افراتفری میں جب انٹرویو شروع ہوا تو پشتو کی بجائے اردو میں سوال شروع کئے خان لالہ نے کہا کہ تم تو پشتو بول رہے تھے۔ ابھی کیا ہوا ؟ انہیں بتایا کہ سوال اردو میں ہونگے کہ آپ کو بچنے کا کوئی موقع نہیں دینا چاہتا۔ انٹرویو یادگار رہا کہ بہت کچھ سیکھا۔ بار بار احساس ہوا کہ مقابل ایک بڑاآدمی ہے۔ خان لالہ کو بہت تنگ بھی کیا جسے انہوں نے انجوائے کیا۔ بات چیت ختم ہوئی تو انہوں نے گلے لگا کر کہا کہ تم اس فیلڈ میں رہنا۔
ڈیورنڈ لائین پر ایک کانفرنس جو خان لالہ نے ہی کرائی تھی اس میں شرکت کا موقع ملا۔ کافی عرصہ گزر جانے کے بعد ہر گز امید نہ تھی کہ انہیں یاد ہو گا۔ وہ ملے تو انہوں نے پوچھا کہ اب بھی انٹرویو دورنگا ہی کرتے ہو۔ خان لالہ کے گر کر زخمی ہونے کا ایک واقعہ بھی ہے شاید من گھڑت ہی ہو لیکن جماعت اسلامی کا وفد ان کی عیادت کے لئے گیا اور جو مکالمہ ہوا، وہ خاص ہے۔ سنایا تو جا سکتا ہے، لکھنے کا یارا نہیں۔
خان لالہ پختون تاریخ جدوجہد سے واقف ایک زندہ کردار تھے۔ باچہ خان کے ساتھی بھی رہے۔ ولی خان کی اے این پی سے انہوں نے راستے جدا کئے۔ پارلیمنٹ تک پہنچ کر دکھایا۔ وفاقی وزیر بھی رہے لیکن وہ اپنی ساخت میں ایک پختون قوم پرست تھے۔ اے این پی میں واپس آ گئے تھے۔
سوات جب طالبان زدہ ہو گیا تو خان لالہ نے تب بھی سوات میں اپنا آبائی علاقہ گھر چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ آرمی چیف نے انہیں لانے کو ہیلی کاپٹر تک بھیجا لیکن ان کا کہنا تھا تو بس اتنا کہ میں بھی چلا گیا تو کھڑا کون رہے گا۔ ان کی دکانیں اور باغات جلا کر شدت پسندوں نے انہیں معاشی طور پر پوری طرح کنگال کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے پورے قد سے کھڑے رہے۔ ایسے وقت میں جب اے این پی کے قائد اسفندیار خود کش دھماکے کے بعد اسلام آباد منتقل ہو گئے تھے جس نے قوم پرستوں کے مورال پر اثر ڈالا تھا، خان لالہ کی استقامت قابل فخر تھی۔
سوات سے ہمارے دوست گلہ کیا کرتے تھے کہ افضل خان لالہ نے شدت پسندوں کے خلاف بندوق نہیں اٹھائی جب ان پر حملے ہوئے تب بھی یہی کہا کہ یہ بھی میرے بچے ہیں۔ جنگ کے دوران توازن قائم رکھنا اعلی اخلاقی قدروں کا مظاہرہ کرنا، اپنے موقف پر اصرار اور زیادتی سے گریز .... یہ سب خان لالہ کی شخصیت کردار کا حصہ تھا۔
وہ نہیں رہے لیکن انہیں بھلایا نہ جا سکے گا وہ بار بار یاد آئیں گے کہ ان جیسا دور دور تک نہیں۔

خان لالہ آپ یاد رہیں گے” پر بصرے

  • نومبر 1, 2015 at 8:21 PM
    Permalink

    شاندار . بہت عمدگی سے خان لالا کی شخصیت کا سکیچ کھینچا. ویل ڈن وسی بابا.

    Reply
  • نومبر 2, 2015 at 6:06 PM
    Permalink

    would you plz share that interview?

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *