لاہور کی مارکیٹنگ

yasir pirzadaاسٹریٹ فورڈ برطانیہ کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے ،برمنگھم شہر سے اس کا فاصلہ پینتیس کلو میٹر ہے اور آبادی فقط پچیس ہزار ہے مگر اس چیونٹی جتنے ٹاؤن میں سال بھر تقریبا پچاس لاکھ سیاح آتے ہیں اور وجہ یہ ہے کہ یہ قصبہ شیکسپئر کی جائے پیدائش ہے ۔1993میں مجھے یہاں جانے کا اتفاق ہوا ، میں نے وہ مکان بھی دیکھا جسے شیکسپئر کی پیدائش کا فخر حاصل ہے ، آج بھی مجھے یاد ہے کہ پورے قصبے میں سیاحوں کی ٹولیاں گھوم رہی تھیں ، جگہ جگہ ان کی دلچسپی کا سامان سجا تھا ، سووینئیر شاپس تو ایسی جگہوں پر عام بات ہے ، پورے قصبے میں شیکسپئر کی برانڈنگ کی گئی تھی ، یوں لگتا تھا جیسے شیکسپئریہاںتازہ تازہ بلدیاتی انتخاب جیتا ہو۔ اسٹریٹ فورڈ میں کئی تھیٹرہیں جن میں رائل شیکسپئر تھیٹر سب سے مشہور ہے ، اس کے علاوہ یہاں دنیا جہاں کے برانڈز ، کافی شاپس ، ریستوران ، کیفے اور سپرا سٹورز کی بڑی چینز بھی موجود ہیں۔ گوروں نے شیکسپئر کا مکان تو محفوظ کر ہی رکھا ہے مگر اس کے علاوہ وہ مکان بھی شیکسپئر جنم بھومی ٹرسٹ نے حاصل کرکے سیاحوں کے لئے کھول رکھاہے جہاں شیکسپئر کا سسرال رہا کرتا تھااور جو اسٹریٹ فورڈ سے محض ڈیڑھ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے ۔
اب آپ اسٹریٹ فورڈ سے بس میں بیٹھیں اور برمنگھم آجائیں ، وہاں سے فلائٹ پکڑیں اور جنوبی ایشیا کے شہر لاہورمیں لینڈ کریں ۔یہ وہ شہر ہے جہاں ہزاروں سال پہلے عظیم شاعر والمیکی نے ہندو رزمیہ نظم ’’رامائن ‘ ‘ لکھی تھی۔ روایت ہے کہ اس رزمیہ میں حاملہ سیتا کو دوسری مرتبہ دیس سے نکالے جانے کے دوران راوی کے کنارے علاقے میں رہائش پذیر بتایا گیا جہاں صدیوں سے راوی بہتا چلا آرہا تھا، کہتے ہیں کہ سیتا کے بیٹے ’’لوہ ‘ ‘ یا ’’ لاہو ‘ ‘ نے اسی ٹیلے پر پرورش پائی جو بعد ازاں لاہور کے نام سے موسوم ہوا۔ لاہور میں دریائے راوی کے کنارے ہندوؤں کے مقدس شاستر ’’رگ وید ‘ ‘ کے بعض حصے رقم کئے گئے ، گویا یہ لاہور شہر تھا جہاں ہندو مت کی ترویج ہوئی اور یہ مذہب پروان چڑھا ،ہندوؤں کے لیے یہ شہر اسی طرح مقدس ہونا چاہیے جیسے مسیحیوں کے لئے ویٹیکن سٹی مگر ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر سے شاذو نادر ہی کوئی ہندو لاہور میں اس غرض سے سیاحت کے لئے آتا ہو۔چندر گپت موریا اور اس کا پوتا اشوک بادشاہ دونوں لاہور کے رہائشی تھے اور ان کے ادوار میں بدھ اور جین مذہب کو عروج حاصل ہوا ۔سکھ مذہب کے بانی گرونانک دریائے راوی کے کنارے لاہور کے نزدیک شرقپور کے علاقے تلونڈی میں پیدا ہوئے تھے ، خالصہ راج کا دارالحکومت بھی لاہور ہی تھا ، یوں سکھوں کو لاہور سے جو وابستگی ہو سکتی ہے اس کا اندازہ لگانے کے لئے کسی جوتشی کی ضرورت تو نہیں البتہ اس بات کے لئے کسی عامل سے ضرور پوچھنا چاہئے کہ لاہور جیسا شہر جو دنیا کے قدیم مذاہب کے پیشواؤں کا مرکز نگاہ رہا ، وہاں ان مذاہب کے پیروکار سیاحت کی غرض سے کیوں نہیں آتے؟ یورپ کے کسی شہر میں اگر کسی سینٹ نے کسی سرائے میں رات بھی گزاری تھی تو وہ اسے محفوظ کر کے چھوٹا موٹا ویٹیکن بنا دیتے ہیں اور سیاحوں سے لاکھوں ڈالر اینٹھ لیتے ہیں ،اور ایک ہم ہیں کہ ہندو مت ، بدھ مت ، جین مت اور سکھ مذہب کی تاریخ دل میں لئے بیٹھے ہیں اور کوئی پوچھتا نہیں ۔
اسی لاہور میں ایک جگہ ایسی بھی ہے جس کی کشش سے پوری دنیا کے کم از کم مسلمان سیاحوں کو اپنی طرف ضرور کھینچا جا سکتا ہے اور وہ ہے داتا دربار ۔حصرت علی ہجویری ؒکے دربار پر ان کا شجرہ نسب لکھا ہے جو یوں پڑھا جا سکتا ہے :’’یہاں مدفون ہیں شیخ علی بن سیّد عثمان ، بن سیّد علی، بن سیّد عبد الرحمٰن، بن سیّد عبد اللہ، بن سیّد ابوالحسن، بن سیّد حسن، بن سیّد زید شہید، بن امام حسین، بن علی مرتضیٰ۔ ‘ ‘جس کا مطلب ہے کہ شیخ مخدوم گنج بخش ہجویری لاہوری، رسول اللہ ﷺ سے صرف آٹھ پشت پر ہیں۔علی ہجویری ؒ431ہجری میں لاہور تشریف لائے اور بھاٹی دروازے کے عین بیرون مٹی گارے سے بنے ہوئے ایک گھر میں رہائش اختیار کی ۔ان دنوں زیادہ تر آبادی ہندوؤں اور جین مت کے ماننے والوں پر مشتمل تھی، روایت ہے کہ اس وقت ایک ہندو جادوگر لاہور کی آبادی کا مذہبی پیشوا بنا بیٹھا تھا مگر آپ کی آمد کے بعد بھاگ گیا، اس کے بعد بے شمار لوگ جن میں زیادہ تر ہندو تھے علی ہجویری ؒکے پاس حاضری دینا شروع ہوئے اور آپ سے دعا کرواتے ، تب آپ نے اسی شہر میں رہنے کا فیصلہ کیا۔داتا دربار وہ جگہ ہے جہاں خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ اور پاکپتن والے خواجہ فرید الدین گنج شکر ؒجیسے ولی اللہ نے عبادت کرنے اور چلہ کاٹنے میں وقت صرف کیا ہے۔آج بھی یہ مزار چوبیس گھنٹے زائرین اور عقیدت مندوں سے بھرا رہتا ہے ، یہاں ہر وقت لنگر لگا رہتا ہے ، لوگ خدا کی راہ میں دیگیں چڑھاتے ہیں ، بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہیں ، اپنی مرادیں مانگتے ہیں مگریہ بھی کڑوا سچ ہے کہ اس کے ارد گرد کا علاقہ جیب کتروں ، ٹھگوں اور افیمچیوں کی آماجگاہ ہے ، دربار کے اندر جانے کا راستہ بد نظمی کا عظیم شاہکار ہے ، اگر کوئی شریف آدمی اپنے بیوی بچوں کو لاہور شہر میں رہتے ہوئے بھی داتا دربار دکھانے کا پروگرام بنائے تو اسے سو دفعہ سوچنا پڑے گا کہ کیسے وہ اس مشن کو پائے تکمیل تک پہنچائے، غیر ملکی سیاحوں کی تو بات ہی جانے دیں۔استنبول میں واقع نیلی مسجد یقینا بے حد شاندار ہے لیکن داتا دربار کی تاریخ کے مقابلے میں مدھم پڑتی ہے مگر یہ اور بات ہے کہ Blue Mosqueدیکھنے پوری دنیا سے جتنے سیاح آتے ہیں اتنے غالبا پورے پاکستان میں نہیں آتے۔
یہ بات لاہور کی نہیں ، بات ہمارے مزاج کی ہے۔ سیاحت وہ انڈسٹری ہے جس سے دنیا کے بیشتر ممالک اپنی پوری معیشت چلا رہے ہیں ، مگر ہمارے جی ڈی پی میں اس کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے ، اور اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سر فہرست تین ہیں ،عدم تحفظ کا احساس، ٹرانسپورٹ اور ہوٹل نیٹ ورک کا فقدان اور غیر ملکی سیاحوں کی ضروریات کا پورا نہ ہونا۔ لیکن ان عوامل کے ہوتے ہوئے بھی بہت سے ایسے کام ہیں جو کئے جا سکتے ہیں مگر اس پر کسی کی کوئی توجہ نہیں ، مثلا ایک ڈھنگ کی ویب سائٹ اس ملک میں نہیں جس کی مدد سے آپ پی ٹی ڈی سی کا ہوٹل ہی بک کروا سکیں یا کوئی ٹور مرتب کر سکیں۔ حال ہی میں البتہ کے پی حکومت نے تمام سرکاری گیسٹ ہاؤسز کو عوام کے لئے کھولنے کا فیصلہ کیاہے جو مستحسن اقدام ہے ، اسی طرح اندرون لاہور کی سیر کے لئے گائیڈ بھی آن لائن بک کروائے جا سکتے ہیں ، مگر یہ سب کچھ اس potentialکے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے جو ہمارے پاس موجود ہے۔اب سنا ہے کہ See Lahoreبسیں پنجاب حکومت نے چلانے کا فیصلہ کیاہے اور جلد ہی وہ سڑکوں پر نظر آئیں گی، زبردست بات ہے ، اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ گزشتہ چند برسوں میں لاہور میں جو ترقی ہوئی ہے اس سے لاہور پاکستان کا وہ شہر ابھر کر سامنے آیا ہے جسے آپ دنیا میں سیاحت کے لئےمارکیٹ کر سکتے ہیں ، مگر ساتھ ہی یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ اورنج لائن منصوبے کی زد میں لاہور کی تاریخی جی پی او کی عمارت ، چوبرجی کی یادگار ، دائی انگاں کا مزار اور شالیمار باغ آئیں گے جنہیں اس منصوبے کے نتیجے میں نقصان پہنچے گا ۔اگر یہ بات درست ہے تو وزیر اعلیٰ پنجاب کو فوری طور پر اس کا نوٹس لینا چاہیے کیونکہ اس قسم کی تاریخی جگہیں توکسی بھی شہر کے ماتھے کا جھومر ہوتی ہیں ، اگر انہیں مسمار کرکے اورنج لائن بچھانی ہے تو ایسی اورنج لائن کم از کم لاہور کے شہریوں کو قبول نہیں کرنی چاہیے۔اور اگر یہ خبر غلط ہے تو اب تک اس کی تردید کیوں نہیں آئی ! شاید اس لئے کہ اس قسم کی وضاحتیں جاری کرناحکومت میں اب کسی کا کام نہیں۔ ڈی جی پی آر کو چاہیے کہ صدیوں پرانی پبلک ریلیشننگ کی حکمت عملی کو اب ترک کرے جس میں ڈی جی پی آر کا کام صرف یہ ہے کہ وہ تصویر صفحہ اول پر شائع کروائے جس میں خادم اعلیٰ کے سر پر کوئی بوڑھی عورت ہاتھ پھیرکردعائیں دیتی نظر آتی ہے !دنیا اب اس بوڑھی تصویر سے بہت آگے جا چکی ہے۔
نوٹ: اس کالم میں لاہور سے متعلق تاریخی حقائق عبدلحمید شیخ کی کتاب ’’قصے لاہور کے ‘ ‘ سے اخذ کئے گئے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *