خود حفاظتی یا موت کا پیغام

syed Mujahid Aliپاکستان نے عالمی کمیونٹی سے کہا ہے کہ جوہری ہتھیاروں پر کنٹرول کے لئے دباﺅ ڈالنے کی بجائے، بھارت کے ساتھ اس کے تنازعات ختم کروانے اور اس خطے میں ان حالات کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی جائے جن کی وجہ سے پاکستان کو خود حفاظتی کے نقطہ نظر سے ایٹمی ہتھیار بنانے اور محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ بیان سیکرٹری امور خارجہ اعزاز چوہدری نے اسلام آباد میں ” دفاع، خود حفاظتی اور استحکام “ کے موضوع پر منعقد ہونے والے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے دیا ہے۔ ایک بیورو کریٹ کے ذریعے سامنے آنے والے اس مو¿قف کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہوتا ہے کہ اس میں سیاسی ضرورتوں کی آمیزش ہو گی یا یہ عوام کو خوش کرنے کے لئے دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس ملک میں خارجہ امور کے سیکرٹری کا یہ بیان ایک لحاظ سے ان اندیشوں ، قیافوں اور اندازوں کی تصدیق کرتا ہے کہ پاکستان نے خوشاب میں چوتھا ایٹمی ری ایکٹر تیار کر لیا ہے اور اس یہ دنیا بھر میں تیزی سے ایٹمی ہتھیار بنانے والا ملک بن چکا ہے۔ اس افشائے حقیقت کے بعد عام پاکستانی اور ملک کے بااثر طبقوں کو یہ غور کرنا ہو گا کہ ایٹمی ہتھیار کس حد تک کسی ملک کی حفاظت کر سکتے ہیں۔
سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری اسلام آباد میں سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز CISS اور انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز IISS لندن کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ایک سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کا دو ٹوک اور واضح مو¿قف تھا کہ عالمی طاقتوں کو پاکستان پر دباﺅ ڈالنے کی پالیسی ترک کر دینی چاہئے کیونکہ جوہری ہتھیار پاکستان کی حفاظت کے نقطہ نظر سے بے حد ضروری ہیں۔ انہوں نے تفصیل سے بھارت کے جارحانہ رویہ پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ بھارت پاکستان کے خلاف جنگجویانہ پالیسی رکھتا ہے۔ اس نے کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرئن DOCTRINE START COLD کے علاوہ پیشگی حملہ STRATEGY PROACTIVE کا اعلان کر رکھا ہے۔ یہ طرز عمل خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔ ان پالیسیوں کا مقصد صرف پاکستان کو نشانہ بنانا ہے۔ ایسے خطرناک اور ناقابل اعتبار ہمسایہ ملک کے مقابلہ میں پاکستان کے جوہری اثاثے ہماری حفاظت کا ذریعہ ہیں۔ اس ڈیٹرنس DETERRENCE کے بغیر پاکستان اپنی حفاظت نہیں کر سکتا۔ تاہم جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے باوجود پاکستان کی پالیسی ذمہ داری اور تحمل کے اصولوں پر استوار ہے۔
پاکستان بلاشبہ حجم اور وسائل کے اعتبار سے بھارت سے بہت چھوٹا ہے۔ اس کی کنونشنل CONVENTIONAL جنگ کی صلاحیت بھی اسی طرح بھارت کے مقابلے میں محدود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی طرف سے ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد پاکستان نے بھی یہ صلاحیت حاصل کرنے کا اعلان کیا۔ دونوں ملکوں کے جوہری طاقت بن جانے کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ خطے میں امن اور استحکام کے لئے مو¿ثر پیش رفت ہو سکے گی۔ عام طور سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایٹم بم اتنا خطرناک اور حیات کش ہتھیار ہے کہ اس کی موجودگی میں دشمن سے جنگ کا خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا۔ امریکہ اور سوویت یونین نے سرد جنگ کے 40 برس کے دوران تصادم کے متعدد مواقع سے بچنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن بالآخر امریکہ اور روس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایٹمی ہتھیار حفاظت کی بجائے صرف تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسی لئے امریکہ، روس ، برطانیہ اور فرانس مسلسل ایٹمی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں اور اس سلسلہ میں شدید اختلافات اور مقابلہ بازی کے باوجود ایک دوسرے سے تعاون بھی کرتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت اس کے برعکس دنیا بھر میں ایٹمی ہتھیاروں کی تباہ کاری سے بچاو¿ کی عالمی تحریک کا حصہ بننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ان دونوں ملکوں نے یورینیم افزودگی کے علاوہ جوہری ہتھیار استعمال کرنے والے متعدد میزائل سسٹم بھی تیار کئے ہیں۔ بھارت نے مسلسل یہ مو¿قف اختیار کیا ہے کہ اسے اپنے سے بڑے ملک چین سے خطرہ ہے۔ لیکن اس کی تیاری اور جارحیت کا اصل نشانہ پاکستان ہی ہوتا ہے۔ 2005 میں امریکہ نے بھارت کے ساتھ سویلین نیوکلیئر معاہدہ کیا تھا جس کے بعد اسے عالمی سطح پر جوہری صلاحیت اور مواد کی تجارت کا حق حاصل ہو گیا تھا۔ پاکستان خواہش کے باوجود امریکہ کو اس قسم کے معاہدے کے لئے آمادہ نہیں کر سکا تھا۔
اس دوران پاکستان نے اپنی ایٹمی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے۔ عالمی ماہرین کے خیال ہے کہ اس کے پاس اتنی مقدار میں افزودہ یورینیم موجود ہے جو آئندہ پانچ برس کے دوران ایک سو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لئے کافی ہے۔ ان ماہرین کا یہ خیال بھی ہے کہ پاکستان ہر سال 5 سے 10 نئے ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس وقت پاکستان دنیا بھر میں تیزی سے ایٹمی ہتھیار بنانے والا ملک ہے اور بعض امریکی ماہرین کے مطابق پاکستان ایٹمی صلاحیت میں فرانس کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ امریکہ کے علاوہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاﺅ کو روکنے کے لئے کام کرنے والے ان تنظیموں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بھارت سے خود حفاظتی کے نقطہ نظر سے اتنے زیادہ ہتھیاروں کی ضرورت نہیں ہو سکتی۔ اس کے علاوہ ملک میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران فرو غ پانے والے جہادی گروہوں کی وجہ سے یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ پاکستان کے ہتھیار یا افزودہ یورینیم غیر ذمہ دار دہشت گرد گروہوں کے ہاتھ آ سکتے ہیں، جو اسے ڈرٹی بم بنانے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔
ان اندیشوں کے باوجود امریکہ پاکستان کی اس یقین دہانی پر بھروسہ کرتا ہے کہ اس نے نیو کلیئر ہتھیاروں کی حفاظت کا معقول اور مو¿ثر انتظام کیا ہو¿ا ہے۔ وہائٹ ہاﺅ س کی طرف سے ان انتظامات پر اطمینان کا اظہار بھی ہوتا رہتا ہے۔ لیکن بھارت کی طرف سے کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرئن جیسی پالیسیوں کے جواب میں پاکستان نے محدود ٹارگٹ والے موبائل ایٹمی ہتھیار بنائے ہیں۔ پاکستان ان ہتھیاروں کو خود حفاظتی یا ڈیٹرنس کا حصہ سمجھتا ہے جبکہ امریکہ اور دیگر ممالک کو اندیشہ ہے کہ اس قسم کے ہتھیاروں سے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاﺅ میں سنگین اضافہ ہو گا اور ان کی موجودگی میں محدود ایٹمی جنگ کا خطرہ زیادہ ہو گیا ہے۔
اسی تناظر میں وزیراعظم نواز شریف کے حالیہ دورہ امریکہ کے موقع پر پاکستان کو سول نیوکلیئر معاہدے کی پیشکش کی گئی تھی۔ البتہ پاکستان نے اس سے منسلک شرائط کی وجہ سے فی الوقت اسے مسترد کر دیا ہے۔ اس قسم کا معاہدہ ہونے کی صورت میں جوہری آلات و صلاحیت کا کاروبار کرنے والے ممالک کا گروہ پاکستان کو ایک باقاعدہ قابل اعتبار ایٹمی ملک تسلیم کر لے گا۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے ان ملکوں سے ایٹمی صلاحیت و مواد بھی حاصل کر سکے گا۔ پاکستان کا سرکاری مو¿قف ہے کہ یہ معاہدہ کرنے کے لئے کوئی شرائط قبول نہیں کی جا سکتیں۔ اب سیکرٹری خارجہ کے بیان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دنیا بھر میں ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاﺅ کے خلاف مضبوط ہوتی ہوئی رائے عامہ کے باوجود پاکستان ایٹمی صلاحیت میں اضافہ کرنے پر اصرار کر رہا ہے۔
پاکستان کا یہ موقف عالمی طاقتوں اور اینٹی نیوکلیئر ماہرین کو یہ باور کرنے پر مجبور کر رہا ہے کہ کسی ناگہانی سانحہ کی صورت میں پاکستان ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ خاص طور سے ملک کے سیاسی لیڈروں کی طرف سے اس حوالے سے غیر ذمہ دارانہ بیانات کی روشنی میں یہ خطرہ اور اندیشہ دوچند ہو چکا ہے۔ کئی ماہرین متنبہ کر رہے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں محدود ایٹمی جنگ کا خطرہ ہے۔ یہ خطرہ صرف دوسرے ملکوں کے لئے ہی تشویش کا سبب نہیں ہونا چاہئے۔ یہ پاکستان میں آباد 20 کروڑ عوام کی زندگی اور مستقبل کے حوالے سے بھی بے حد اہم اندیشہ ہے۔ اس لئے ملک میں ایٹمی ہتھیاروں کی ضرورت اور اہمیت کے سوال پر کھلے دل سے بحث کرنے اور کوئی ذمہ دارانہ اور عالمی سطح پر قابل قبول رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
المیہ یہ ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے پاکستان کے عوام کو یک طرفہ اطلاعات فراہم کی جاتی ہیں اور یہ تاثر عام کیا گیا ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں امریکی مو¿قف دراصل پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔ یہ تصویر کا ایک پہلو ہے۔ ضروری ہے کہ اس حوالے سے دیگر پہلوﺅں پر بھی گفتگو کی جائے اور یہ جاننے کی کوشش ہو کہ کیا واقعی یہ موقف درست ہے کہ جوہری ہتھیار ایک موثر ڈیٹرنٹ DETERRENT ہیں۔ یا یہ بھی ایک بے بنیاد تصور ہے۔
جوہری ہتھیار تباہی اور موت کے پیامبر ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں انہیں قومی وقار اور سالمیت کا لازمی حصہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ایٹمی ہتھیاروں کو ترک کر کے یا انہیں محدود کر کے بھی ذمہ دارانہ پالیسیوں کے ذریعے کسی بھی بڑے دشمن کو خطرے سے بچا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں رائے عامہ کو اس غلط فہمی سے نکالنے کی ضرورت ہے کہ جوہری ہتھیار ہماری بقا کا واحد راستہ ہیں۔ یہ قومی حفاظت کے نقطہ نظر سے ایک موقف ضرور ہے لیکن عالمی ماہرین اب اس تصور کو مسترد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایٹمی ہتھیاروں کو اب جنگ کے سدباب کا موثر ذریعہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان اور بھارت کی مثال سب کے سامنے ہے جو ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی میں بھی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے سے باز نہیں آتے۔
ان حالات میں بحث کرنے ، نئے پہلوﺅ ں سے صورتحال کو سمجھنے اور موت کے پیامبر ہتھیار کو حیات آور قرار دینے کے نظریہ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *