اللہ کی مرضی

shani (2)

(اس عہد کے ملتان نے چار شاعروں کے ہنر اور ان کی باہم بے مثال دوستی سے نام پایا ہے۔ ملتان کے ان عناصر اربعہ میں سے ایک نوازش علی ندیم ہیں۔ گزشتہ ہفتے 28 اکتوبر کی شام نوازش علی ندیم کو ایک ناقابل تلافی صدمے سے گزرنا پڑا۔ ان کے جواں سال صاحب زادے ایک حادثے میں انتقال کر گئے۔ اس سانحے سے نوازش علی ندیم کے ہر دوست اور مداح کو شدید صدمہ پہنچا ہے۔ ’دنیا پاکستان‘ کے ممتاز لکھاری رضی الدین رضی نے جملہ احباب کے جذبات کو بیان کرنے کوشش کی ہے .... مدیر)

جو کہنا چاہتا تھا، کہہ نہیں سکا۔ جو لکھنا چاہتا ہوں، معلوم نہیں لکھ بھی پاﺅں گا یا نہیں ؟بہت زعم ہے نا ہمیں کہ ہمیں اظہار کا سلیقہ آتا ہے۔ بدھ کی شب یہ زعم بھی ختم ہو گیا۔ نشتر ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں زخموں سے چور شانی تھا اور اس کے سرہانے نوازش علی ندیم تھا ۔ایک باپ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے شانی اپنے یوسف ثانی کی جدائی کا لمحہ دیکھ رہا تھا۔ کیا ہوا؟ اور کیسے ہوا؟ یہ بتانے کا یارا نہیں۔ بس یہی وہ لمحہ تھا جس نے لفظوں کی بے معنویت کو آشکار کیا۔ اسی لمحے معلوم ہوا کہ ”حوصلہ کرو“ اور ”صبر کرو“ کتنے بے معنی اور کھوکھلے لفظ ہیں ۔
سٹریچر.... ایمبولینس.... ماتم.... بین.... گریہ.... جنازہ.... قبر .... اور پھر وہی ایک لفظ ’اللہ کی مرضی ‘۔ شاکر ہو یا قمر رضا شہزاد، ہم سب مجرموں کی طرح خاموش کھڑے تھے ۔ جیسے نوازش کے لعل کو اس سے ہم نے چھینا ہو۔ ہم اس سے نظریں بھی نہیں ملا رہے تھے کہ مبادا وہ ہم سے ہی کوئی سوال کر بیٹھے۔ کہیں وہ ہم سے ہی یہ نہ پوچھ بیٹھے کہ مجھے کس جرم کی سزا دی گئی۔ نوازش کو ہم نے ہمیشہ سے بہت صابر و شاکر پایا۔ وہ بہت اعلیٰ پائے کا شاعر ہے لیکن اپنے ہم عصروں اور ہم جیسوں کی طرح کبھی تقدیم وتاخیرپر نہیں جھگڑتا۔ ہم نے اسے کبھی کسی بھی معاملے پر دوستوں سے کوئی شکوہ کرتے نہیں دیکھا لیکن اس روز اس کی نم آنکھوں میں بہت سے شکوے تھے۔ اور اسی لئے ہم اس سے نظریں نہیں ملاتے تھے۔ لوگ تعزیت کے لئے آتے تھے اور حسب معمول کوئی بے معنی دلاسہ دے کر چلے جاتے تھے۔ اور ہم مجرموں کی طرح خاموش تھے۔ کتنی بے معنی بات ہے کسی جوان موت پر اس کی ماں یا باپ کو یہ کہنا کہ’ حوصلہ کرو۔ یہی اللہ کو منظور تھا‘ لیکن سب یہی بے معنی باتیں کرتے تھے اور نوازش کی آنکھوں میں بس ایک ہی سوال تھا کہ ’اور کتنا حوصلہ کروں‘ اور پھر کسی نے آکر یہ بھی کہہ دیا کہ’اللہ کے ہر کام میں بہتری ہوتی ہے‘۔ نوازش کی آنکھوں پھر وہی سوال اور پھر وہی شکوہ ۔ وہ تو خدا پر کامل یقین رکھتا ہے۔ یہ بھی نہیں پوچھ سکتا کہ جوان بیٹے کی موت میں اللہ کی مرضی کیوں ہوتی ہے اور اس میں آخر بہتری کیا ہے؟شکوے تو بہت ہیں لیکن جواب شکوہ ندارد....

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *