عمران خان شاہ ایڈورڈ بن پائے نہ مارٹن لوتھر

Bilal Ghauriجو اپنا گھر خوش اسلوبی سے نہیں چلا سکا وہ ملک کیا خاک چلا سکے گا۔یہ ہے وہ انتہائی بودی دلیل جو عمران اور ریحام کی علیحدگی کے بعد دی جا رہی ہے۔آپ کو عمران خان کے طرز سیاست سے اختلافات ہون گے ،مجھے بھی ہیں مگر تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ،کس کس سیاسی رہنما کی عائلی زندگی ناکام نہیں ہوئی ؟زندگی ناقابل تقسیم اکائی نہیں،ہو سکتا ہے جو شخص شوہر کی حیثیت سے ناکام ہوا، وہ معاشرے اور سماج کے لیئے کامیاب ترین انسان ثابت ہو۔قائد اعظم سے ذوالفقار علی بھٹو تک کسے ازدواجی زندگی کی ناہمواریاں برداشت نہیں کرنا پڑیں؟بزرگوں سے سنتے آئے ہیں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے کسی نہ کسی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن عملاً مشاہدہ یہ ہے کہ کامیابی کے پیچھے کسی خاتون کا ہاتھ ہو نہ ہو‘ ناکامی کے پیچھے ضرور کسی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔یا یوں کہ لیجئے کہ ہرکامیاب مرد کے پیچھے بھلے ایک عورت کا ہاتھ ہو لیکن ناکام مرد کے پیچھے یقینا کئی خواتین کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ان دنوں عمران خان اوریحام خان کی شادی نا کام ہونے پر تبصروں اوتجزیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔اور مجھے لگ بھگ دوسال قبل لکھا گیا اپنا ایک کالم یاد آ رہا ہے۔ میں نے25اگست 2013ءکو”تحریک انصاف کا شاہ ایڈورڈ“ کے عنوان سے شائع ہونے والے اس کالم میں لکھا تھا”عمران خان نے سیاسی خوابوں کی تکمیل کے لئے اپنی شریک حیات جمائما خان کی رفاقت کو قربان کر دیا لیکن اب یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ سیاست پر محبت کو فوقیت دینے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ انہیں پریشانیوں اور ناکامیوں میں گھرا دیکھ کر مجھے برطانوی بادشاہ ایڈورڈ ہشتم یاد آتا ہے جس نے ایک قاتل حسینہ کی خاطر بادشاہت کو ٹھوکر مار دی تھی۔ شاہ جارج پنجم اور کوئین میری کا بڑا بیٹا ایڈورڈ ایک امریکی خاتون پر فریفتہ ہو گیا حالانکہ وہ خاتون پہلے سے شادی شدہ تھی۔ باپ نے سرزنش کی ، ماں نے سمجھایا کہ شاہی خاندان سے بے دخل کر دیئے جاو¿ گے،تاج و تخت چھن جائے گا ،ہم رسوا ہو جائیں گے مگر شہزادے نے سب کچھ چھوڑ دینے کا تہیہ کر لیا۔ شاہی خاندان میں کشمکش کا سلسلہ جاری تھا کہ 1936ءکو شاہ جارج پنجم اچانک دارِ فانی سے کوچ کر گئے اور یوں ایڈورڈ ہشتم کے سر پر بادشاہت کا تاج سجا دیا گیا۔ امریکی خاتون Wallis simpson اپنے ایک شوہر سے طلاق لے چکی تھی اور اب دوسرے شوہر سے علیحدگی کی خواہاں تھی۔ جب بادشاہ و قت نے اس خاتون سے شادی کی خواہش ظاہر کی تو اقتدار کے ایوانوں میں بھونچال آ گیا اور دستوری بحران پیدا ہو گیا۔ برطانوی وزیراعظم اور کابینہ کا خیال تھا کہ شاہی قوانین کے تحت شاہ ایڈورڈ کو یہ شادی کرنے کی اجازت نہیں۔ برطانوی شہری آخر ایک ایسی غیر ملکی خاتون کو ملکہ کے طور پر کیسے قبول کرلیں جو پہلے ہی دو شادیاں کر چکی ہے۔ شاہ ایڈورڈ نے پیشکش کی کہ ان کی محبوبہ شادی کرنے کے بعد ملکہ کا ٹائٹل نہیں لیں گی اور ان کے بطن سے پیدا ہونے والے بچے بھی شاہی خاندان کا حصہ تصور نہیں ہونگے مگر اس پیشکش کو بھی رد کر دیا گیا ۔دیگر پیچیدگیوں کے علاوہ ایک بڑی الجھن یہ بھی تھی کہ بادشاہ وقت چرچ آف انگلینڈ کا سربراہ بھی ہوتا تھا اور اس وقت تک چرچ آف انگلینڈ کے تحت ایسی مطلقہ خواتین کو شادی کی اجازت نہیں تھی جن کے سابقہ شوہر زندہ ہوں۔ 6 دسمبر 1936ءکو شاہ ایڈورڈ نے وزیراعظم Stanly Baldwin سے بکنگھم پیلس میں ملاقات کی اور وزیراعظم نے ان کے سامنے تین آپشن رکھے:
(1) برطانوی کابینہ کی مرضی سے شادی کرنے کو تیار ہو جائیں۔ (2) شادی کا اِرادہ ہی ترک کر دیں اور زندگی بھر کنوارے رہیں۔ (3) بادشاہت سے دستبردار ہو جائیں۔
شاہ ایڈورڈ نے محبت کے لئے ایثار کی عدیم النظیر مثال قائم کرتے ہوئے بادشاہت کو خیر باد کہنے کا فیصلہ کیا۔ 10 دسمبر کو دستاویزات پر دستخط ہوئے 11 دسمبر کو قوم سے خطاب کرکے اپنی محبوبہ کی خاطر بادشاہت چھوڑنے کا اعلان کیا اور یوں شاہ ایڈورڈ 326روزبعد بادشاہت کو خیر آباد کہ کر تاج برطانیہ پر مختصر ترین مدت کے لیئے بادشاہت کرنے والے حکمران قرار پائے۔ بادشاہت چھوڑنے کے بعد ایڈورڈ آسٹریلیا گئے وہاں سے فرانس کا رخ کیا اور اپنی دلرُبا ولیس سمپن کے ساتھ باقی عمر پیرس کے ایک چھوٹے سے گھر میں گزار دی۔ 28مئی 1972ءکو محبت کا بے تاج بادشاہ دنیا سے رخصت ہوا اور 14 سال بعد اس کی محبوبہ نے بھی دنیا کو داغ مفارقت دے کر اپنے محبوب کے پہلو میں دفن ہونے کا فیصلہ کیا۔
ایڈورڈ ہشتم اور عمران خان کی داستان الفت میں کیسا حسنِ اتفاق ہے کہ ولیس سمپسن بھی دو شوہروں سے علیحدگی حاصل کرنے کے بعد ایڈورڈ کی محبوبہ بننے میں کامیاب ہوئی اور امِ انقلاب محترمہ عائلہ ملک بھی ضیاءملک اور یار محمد رند سے طلاق لینے کے بعد سونامی خان کے حلقہ ارادت میں آئیں۔ عمران خان اپنی دو نشستیں اس قاتل حسینہ کی نذر کر چکے ‘ دیکھئے محبت اور کیا کچھ مانگتی ہے۔ پہلے عمران خان نے تمام تر مخالفت کے باوجود عائلہ ملک کو NA71 سے ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا اور جعلی ڈگری ثابت ہونے کے باوجود بھی ٹکٹ واپس نہ لیا مگر جب ہائی کورٹ نے نااہل قرار دے دیا تو عدلیہ پر برس پڑے ۔خدا نہ کرے انہیں توہین عدالت کی پاداش میں تیسری نشست بھی گنوانا پڑے۔ چاروناچار کسی اور کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ ہوا تو نگاہ انتخاب وحید ملک پر ٹھہری جو نہ صرف عالیہ ملک کے بہنوئی اور فرسٹ کزن ہیں بلکہ ان کی بڑی بیٹی کے سسر بھی ہیں کیونکہ عائلہ ملک کی بیٹی وحیدملک کے بیٹے عامر ملک کی منگیتر ہے۔شاہ ایڈورڈ ہشتم کو تو محبت کے حصول کے لئے بادشاہت چھوڑنا پڑی مگر یہاں مطالبہ صرف اتنا ہے کہ عمران خان شادی کر لو،تاکہ مخالفین کے منہ بند ہو جائیں۔©“
اس وقت تک یہ بات واضح نہ تھی کہ نگاہیں کہیں اور ہیں اور نشانہ کہیں اور۔بہر حال قرعہ فال عائلہ ملک کے بجائے ریحام خان کے نام نکلا۔اس ناکام شادی پرماسوائے اس کے کیا کہا جا سکتا ہے کہ قائد بھی بہر حال انسان ہی ہوتے ہیں،بطور انسان ان میں خامیاں بھی ہوتی ہیں اور کمزوریاں بھی۔عمران خان کی شخصی زندگی کا موازنہ اگر کسی معروف سیاسی شخصیت کے ساتھ کیا جا سکتا ہے تو وہ امریکہ کے انقلابی رہنما مارٹن لوتھر کنگ ہیں۔تھے تو وہ سیاہ فام لیکن ان کی زندگی بہت رنگین و شوخ تھی ۔امریکی حسینائیں ان پر دل وجان سے فدا تھیں اور سونے پر سہاگہ یہ کہ وہ خود بھی رومانویت سے بھرپور انسان تھے۔ان کی اہلیہCoretta Scott King جو خود بھی ایک متحرک و فعال سماجی ورکر تھیں ،یہ صورتحال ان کے علم میں تھی مگر وہ جان بوجھ کر نظر انداز کرتی رہیں۔یہاں تک کہ ایک مرتبہ ایف بی آئی نے ان کی رنگین شاموں کی ریکارڈنگ پر مبنی ٹیپ گھر بھجوا دی تاکہ مارٹن لوتھر گھریلو جھگڑوں میں الجھ جائیں مگر اس خاتون نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا اور کوئی تماشا نہ ہوا۔یہاں تک کہ 4اپریل1968ءمیں جب ممفس کے لورین ہوٹل کے باہر مارٹن لوتھر پر فائرنگ کی گئی تو معلوم ہوا کہ زندگی کی آخری رات بھی انہوں نے ایک محبوبہ کے ساتھ بسر کی،جب انہیں زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا جانے لگا تو ان کے رفقاءاور مشیروں نے اس خاتون کو ایمبولینس سے اتار دیا تاکہ کوئی نیا سیکنڈل نہ بن جائے۔مگرنہ تو ریحام خان نے کوریٹا اسکاٹ کنگ جیسی وسعت قلبی کا مظاہرہ کیا اور نہ ہی عمران خان مارٹن لوتھر کنگ جیسی فراخدلی کا مظاہرہ کرپائے۔میرا خیال ہے عمران خان جیسے مزاج کے حامل انسان کے ساتھ ریحام خان تو کیا کسی بھی شخص کاچلنا بہت دشوار ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *