افضل خان لالہ - شادم از زندگی خویش کہ کارے کردم

usman Qaziہمارے ہاں بھی دنیا کے کئی نو آزاد ممالک کے مانند تاریخ کو مقتدر طبقات کے مفادات کے حق میں ڈھالنے کا عمل ہوتا آیا ہے۔ اس مسلسل غسل ذہنی کے نتیجے میں عام سادہ لوح پاکستانی کی نظر میں منزل کے حقدار وہ ٹھہرتے ہیں جو شریک سفر نہ تھے. اس مسخ شدہ تاریخ کو حاصل حکومتی وسائل کی بے پناہ پشت پناہی، اور متبادل نکتہ نظر پر آہنی قدغنوں کے باوجود، گزشتہ چند برسوں میں جدید ابلاغی سہولتوں کی دستیابی کے سبب معاشرے کی کم از کم ایک اہم اقلیت کو دستور زباں بندی سے کچھ کچھ خلاصی حاصل ہوئی ہے. بقول فیض، "ٹھہری ہوئی ہے شب کی سیاہی وہیں مگر.. کچھ کچھ سحر کے رنگ پر افشاں ہوئے تو ہیں".. مذکورہ لگاتار سیاسی، تعلیمی اور ابلاغی جبر کے باوجود، ہمارے خطے میں سامراج مخالف سرگرمیوں اور لازوال قربانیوں کے علمبرداروں کی روایت زندہ رہی ہے اور اس روایت میں ایک درخشاں باب کی ابتدا خدائی خدمت گاروں کی سرخ پوش تحریک سے ہوتی ہے۔ اس تحریک کے سیاسی سفر، اس کے بنیادی اصولوں اور اس کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا بیان تو تفصیل کا متقاضی ہے، مگر عجیب بات ہے کہ عالمی اور مقامی سیاسی منظر ناموں کی تبدیلی کے باوجود، اس تحریک کی مرز بوم میں جب بھی تاریکی، شر، تشدد اور عدم برداشت کی آندھی چلتی ہے، تو اس کے لئے سد راہ بننے والوں میں اسی تحریک کے متعلقین ہی نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ قصہ خوانی و بابڑہ کے قتل عام سے لے کر میاں راشد حسین و بشیر بلور کے خون ناحق تک، چراغوں کی ایک قطار ہے۔
کل اس تحریک کے قدیم ترین نمایاں وابستگان میں سے آخری سربر آوردہ نے بھی جان کو جان آفریں کے سپرد کر دیا۔ محمد افضل خان، جنہیں ان کے مقربین ازراہ محبت و عقیدت "لالہ" پکارتے تھے، قوم دوستی اور ترقی پسندی کے جویا اس فکری قبیلے کی آخری نشانی تھے جس میں ولی خان، قسور گردیزی، غوث بخش بزنجو، اجمل خٹک جیسے منتخب روزگار قافلہ سالار رہے۔ سن ستر سے عملی سیاست کا آغاز کرنے سے کل آخری سانس لینے تک، لالہ کی زندگی اصولی سیاست اور اپنے آدرشوں سے گہری وابستگی، اور اس راہ میں صعوبتوں، قید و بند اور سختیوں کی داستان ہے۔ جب پاکستان کے بالغ راے دہی پر مبنی انتخابات کے بعد پہلی منتخب حکومتیں وجود میں آئیں تو افضل خان لالہ موجودہ صوبہ پختونخوا میں وزیر بنائے گئے۔ وہ اس وقت اپنی سیاسی جماعت نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے بھی عہدہ دار تھے۔ نیپ کے منشور میں شامل تھا کہ ارکان اسمبلی کو جماعتی اور حکومتی عہدوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا. لالہ کی متحرک شخصیت اور کارکنان میں مقبولیت کی وجہ سے انہیں جماعتی عہدے پر رکھنے کی ترجیح قابل غور تھی کہ مخلوط صوبائی حکومت کے وزیر اعلی مگر نیپ کے نظریاتی مخالف، مولانا مفتی محمود نے نیپ کے سربراہ ولی خان سے خصوصی درخواست کی کہ افضل خان لالہ پر اس شق کا اطلاق نہ کیا جائے کہ وزارت کے لئے، دیانت اور لیاقت کا ایسا امتزاج مفتی صاحب کو دیگر ارکان اسمبلی میں ڈھونڈنا مشکل نظر آتا تھا. جب سے مابعد، لالہ کے اپنے سیاسی رفقا سے روابط میں کئی زیر و بم آے اور تزویری امور پر اختلافات بسا اوقات کھنچاو¿ کی انتہائی نہج تک پہنچے مگر لالہ کی دیانت، حسن نیت اور نظریاتی آدرشوں پر کبھی سوال نہ اٹھا۔
اس صدی کی ابتدا تک لالہ کہن سالی اور علالت کے سبب یک گونہ گوشہ نشین ہو کر تصنیف و تالیف اور نوجوان سیاسی کارکنوں کی فکری رہنمائی تک محدود ہو چکے تھے کہ دیدہ و نادیدہ قوتوں کی جلی و خفی اشیر واد سے طالبان نام کی بلائے بے درماں نے، ہمسایوں کو کاٹنا مشکل پا کر ہمارے وطن پر ہلا بول دیا۔ لالہ کا آبائی وطن، جنت نشان سوات جہنم زار کا منظر پیش کرنے لگا۔ بڑے بڑے کلمہ حق گوئی کے دعویدار اس جہنم کے سرداروں کی چوکھٹ پر سر ہو گئے، دیگر ان سے مذاکرات کے مشورے دیتے رہے اور بہت ہوا تو ایمان کے آخری درجے پر رہ کر دل میں انہیں کوستے رہے مگر زبان بندی میں عافیت کوشی پر کاربند رہے۔ غیر سیاسی عام لوگ بھی جان اور عزت بچانے کی خاطر عارضی طور پر ہجرت کر گئے اور جو نہ جا سکے وہ منقار زیر پر ہونے میں عافیت گرداننے لگے۔ ایسے میں یہ مرد کہن سال ہی تھا جو وادی سوات کے قلب میں واقع اپنے گاو¿ں در ش خیلہ سے تاریکی کی پروردہ و آوردہ قوتوں کو بہ آواز بلند، براہ راست للکارتا رہا، دنیا کو ان کی مذموم حرکات سے آگاہ کرتا رہا اور اس راہ میں اپنے گھر اور حجرے پر کم از کم سترہ قاتلانہ حملوں کا بار سہا، جسم پر زخم کھائے، عزیزوں، دوستوں اور رشتہ داروں کے جنازے اٹھائے مگر سوات کے عوام کو، ایک روز کے لئے بھی بے آسرا چھوڑنا گوارا نہ کیا. اور بالآخر وادی سے تب قدم باہر نکالا جب تک سوات سے معتدبہ حد تک دیو سیاہ کا سایہ خاک نہ ہوا۔
لالہ کی تدفین سے قبل کی تصاویر دیکھیں تو اندازہ ہوا کہ "تبسم بر لب اوست" کی تفسیر کیا ہوتی ہے اور "شادم از زندگی خویش کہ کارے کردم" کے مصداق کون لوگ ہوتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *