سیاسی پختگی کی ایک عمدہ مثال

مفتی منیب الرحمن
mufti muneeb30اکتوبر کو جناب عمران خان اور ان کی اہلیہ ریحام خان کی طلاق کی خبر منظر ِ عام پر آئی اور حسبِ معمول ہمارے الیکٹرونک میڈیا نے اسے اپنی توجہات کا مرکز بنالیا۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مباح کاموں میں طلاق سب سے زیادہ نا پسندیدہ فعل ہے۔ قرآنِ مجید میں ذکرہے کہ حضرتِ سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں لوگوں کی آزمائش کے لیے دو فرشتے ہاروت و ماروت اتارے گئے تھے ، جو لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور پہلے سے بتا دیتے تھے کہ ہم تمہارے لیے آزمائش ہیں ، سو کفر کو اختیار نہ کرو اور وہ ایسی چیزیں سکھاتے تھے جن کے ذریعے شوہر اور بیوی میں تفریق ہو جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اِزدواجی تعلقات کا بگاڑ بھی ایک آزمائش ہے۔ لیکن اس کے باوجود شریعت نے طلاق کی گنجائش اس لیے رکھی ہے کہ اگر شرعی ح±دود کے اندر رہتے ہوئے میاں بیوی میں نباہ ممکن نہ رہے اور ازدواجی زندگی دونوں کے لیے اَذیت و آزار کا باعث بن جائے تو اَحسن طریقے سے رشتہ اِزدواج کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام دین فطرت ہے اور وہ انسانی فطرت کی خوبیوں اور خامیوں کااِدراک کرتا ہے اور ہر مشکل سے نکلنے کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ کھلا رکھتا ہے۔ طلاق ہی نہیں اور بھی زندگی میں بہت سے کام ایسے ہیں جو نا پسندیدہ ہوتے ہیں لیکن جب ان کا ارتکاب ہو جائے ، تو ان پر نتائج اور احکام ضرور مرتب ہوتے ہیں۔
جناب عمران خان نے بجا طور پر کہا کہ ہم دونوں کے لیے اور ہمارے خاندانوں کے لیے یہ دکھ بھرے لمحات ہیں اور انہوں نے یہ بھی اچھا کیا کہ اپنی اہلیہ کے لیے اچھے جذبات کا اظہار کیا اور اپیل کی کہ ان کے نجی معاملے کو موضوعِ بحث نہ بنایا جائے۔ اس مرحلے پر وزیرِ اعظم جناب محمد نواز شریف نے اپنی جماعت کے ذمے داروں کو ہدایت جاری کی کہ اس موضوع پر تبصرہ نہ کیا جائے ، بعد میں جناب آصف علی زرداری اور جناب الطاف حسین نے بھی اپنی اپنی جماعت کے لوگوں کو یہی ہدایات جاری کیں۔ حالانکہ ہمارے آزاد میڈیا کی روایت کے مطابق ٹیلی ویژن چینلز پر سیاسی مباحثوں میں یہ سب سے پسندیدہ موضوع بن سکتا تھا اور ہر ایک مزے لے لے کر اس پر تبصرے کرتا ، لیکن انسانی اقدارکے اعتبار سے یہ ہمارے اَخلاقی زوال کی ایک ناپسندیدہ تصویر ہو تی۔
سو پہلی بار ہماری سیاسی قیادت نے سیاسی بلوغت (Political Maturity) کا ثبوت دیا اور شرافت کو بھی سانس لینے کا موقع ملا۔ ہمیں جناب عمران خان کے رشتہ اِزدواج کے ٹوٹ جانے کا افسوس ہے اور ا±ن سے ہمدردی ہے ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان سے گزارش ہے کہ جس طرح ا±ن کے مخالف سیاست دانوں نے ہمارے سیاسی کلچر میں ایک اچھی مثال اور روایت قائم کی ہے، اس روش کو آگے بھی جاری رہنا چاہیے۔ تقریباً سب کا اتفاق ہے کہ قومی سیاست میں شخصی حوالوں سے دوسروں کی تحقیر و اہانت کا کلچر سب سے پہلے جناب عمران خان ہی نے متعارف کرایا ہے ، حالانکہ وہ جدید تعلیم یافتہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور مغربی سیاست اور سیاسی نظام کا انہوں نے گہرا مطالعہ کر رکھاہے ، اب وقت آگیا ہے کہ وہ بھی اپنے مزاج میں ٹھہراو ، وقار اور تمکنت پیدا کریں۔ سب اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ملک کو ایک متبادل قیادت کی ضرورت ہے ، لیکن یہ تبدیلی شر کے لیے نہیں بلکہ خیر کے لیے ہونی چاہیے۔
ہمیں دوسروں کی خامیوں پر جینے کی بجائے اپنی خوبیوں پر جینے کا شِعار اختیار کرنا چاہیے اورنظام کی خرابیوں کا متبادل پیش کرنا چاہیے۔ ٹیلی ویژن ریٹنگ کی طرح مختلف قسم کے جو سیاسی اور سماجی سروے ہوتے ہیں ، ہمیں ان کی ثقاہت کا صحیح علم نہیں ہے کیونکہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کوئی سروے جس کے حق میں آئے وہ بغلیں بجاتا ہے ، پھولے نہیں سماتااور جس کے خلاف آئے وہ ا±سے ناقابل اعتبار ٹھہراتا ہے۔ لیکن حال ہی میں طرزِ حکومت (Governance)کے اعتبار سے سروے کے جو نتائج سامنے آئے ، ا±ن کے مطابق صوبہ خیبر پختون خوا نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ حالانکہ ایک سابق سروے کے مطابق فیض رسانی (Delivery)کے اعتبار سے چاروں صوبوں میں وزیر ِ اعلیٰ کی حیثیت سے جناب ِ شہباز شریف پہلے نمبر پر آئے تھے۔ حکمران یا وزیرِ اعلیٰ کی ذاتی کارکردگی بلا شبہ قابلِ افتخار سہی ، لیکن وہ نظام کا متبادل نہیں ہو سکتی۔جس حکومت کا حسنِ کارکردگی کسی فرد کے سہارے قائم ہو ، اس کے منظر سے ہٹتے ہی وہ ریت کی دیوار ثابت ہو تی ہے اور زمیں بوس ہو جاتی ہے ، جبکہ درست نظام حاکم کی تبدیلی کے باوجو د تھوڑے بہت فرق کے ساتھ اپنی کار کردگی دکھاتا رہتا ہے۔ سو ان اجمالی جائزوں(Surveys) میں بشری غلطی یا بفرضِ محال دانستہ ہیر پھیر کے امکان کے باجود تمام فریقوں کے لیے ایک درسِ عبرت ضرورپنہاں ہے ، انہیں اپنی چشمِ بصیرت واکر کے ان سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور اپنے احوال کی اصلاح پر توجہ دینی چاہیے۔
چند دن پہلے جنابِ آصف علی زرداری کے معتمد سینیٹر جناب عبدالقیوم سومرو تشریف لائے ، ا±ن سے مختلف مسائل پر گفتگو ہوئی۔ میں نے ا±ن سے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جو بزرگ انکلز جناب بلاول بھٹو زرداری کی تربیت پر مامور ہیں ، وہ انیس سو ستر کی دہائی سے نفسیاتی طور پر باہر نہیں نکل پاتے۔ لہٰذا:''کتنے بھٹو ماروگے ، ہر گھر سے بھٹو نکلے گا “ کے سلوگن پر آکر ہی ان کی تان ٹوٹتی ہے۔ حالانکہ جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحو م کو سزائے موت ا±نیس سو ا±ناسی میں ہوئی ، اس وقت جو بچہ پانچ سال کا تھا ، اب وہ چالیس سال کی سرحد عبور کر چکا ہے۔ لہٰذا اس نسل اور اس کے بعد کی نسل کو بھٹو ازم کا کوئی شعور نہیں ہے۔ ہمارے ہاں تعلیمی اداروں میں قومی تاریخ تو پڑھائی نہیں جاتی اور پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے بعد تین بار اقتدار میں آ چکی ہے ، مگر بھٹو والی پالیسیاں نافذ نہیں کر سکی ، بلکہ اب معیشت کا پہیہ مخالف سمت میں گھوم رہا ہے۔ بھٹو نے عوام میں اپنے حقوق کا شعور پیدا کیا ، اس سے کسی کو انکار نہیں ہے۔ لیکن ا±ن کی پالیسیوں سے ملک اقتصادی لحاظ سے جامد و ساکت ہو گیا یا آگے بڑھا یاپیچھے چلا گیا ، یہ الگ موضوع ہے جو اس وقت زیرِ بحث نہیں ہے۔ بلاول بھٹوزرداری صاحب نے انگلینڈ کی یونیورسٹی میں تعلیم پائی ہے ، انہوں نے ترقی یافتہ ممالک کے طرزِ حکمرانی اور ترقی کا براہ راست مشاہدہ کیا ہے ، انہیں قوم کے سامنے اعلیٰ جمہوری اقدار پر مبنی نظامِ حکومت ، شفافیت پر مبنی نظامِ عدل اور عوام کے لیے فیض رسانی کی نئی جہتوں کو متعارف کرانا چاہیے ، کوئی نیا قابلِ عمل پروگرام دینا چاہیے ، قومی وسائل کے اندر رہتے ہوئے مسائل کے حل کا کوئی فارمولا پیش کرنا چاہیے۔ محض جذباتی تقریروں سے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں حکمرانوں یا سیاسی جماعتوں کی تبدیلی کے باوجود نظام میں کوئی نمایاں تبدیلی نظر نہیں آتی۔
یہی وجہ ہے کہ ہماری سیاست مسائل پر مبنی(Issue Based) نہیں ہے۔ ہماری سیاست میں نیا قابل ِ ذکر اضافہ جناب عمران خان کا ہے۔ وہ بھی دھاندلی اور کرپشن کا نعرہ اتنا زیادہ استعمال کرچکے ہیں کہ ان کی صورت کو دیکھتے ہی سامنے کا شخص اندازہ لگا سکتاہے کہ وہ کیا کہنے والے ہیں۔ بھٹو مرحوم کا ایک امتیاز یہ تھا کہ انہوں نے ا±نیس سو َستر کے انتخابات میں نئے، غیر معروف اور بے وسیلہ امیدواروں کے ذریعے نامی گرامی لوگوں کو پچھاڑ دیا، جبکہ جناب عمران خان لوٹ پھر کر قابلِ انتخاب (Electables) لوگوں کی طرف آرہے ہیں اور یہ ہماری قومی سیاست کا جانا پہچانا حربہ ہے ، اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ق لیگ یہی کچھ تو تھی اور مسلم لیگ ن کو بھی اسی سیاسی اثاثے پر انحصار کرنا پڑتا ہے اور ان سب کو طعنے بھی سننا پڑتے ہیں کہ :
تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
پس ہم نظریاتی سیاست سے ابھی بہت دور ہیں۔ نظریاتی سیاست کے لیے طویل ریاضت اور مجاہدے کی ضرورت ہوتی ہے اور بے صبرے پن کے ساتھ اِقتدار کے طلب گاروں کے پاس انتظار کی فرصت اور حوصلہ کہاں ہے ، ہماری سیاست تو غالب کے اس شعر کی مجسم تصویر ہے:
عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب
دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *