راول پنڈی کا بلراج ساہنی

ammad ali final 1 (1)گوالمنڈی چوک سے دائیں ہاتھ مڑیں تو ڈی اے وی کالج روڈ ہے جہاں کبھی دیانند اینگلو ورنیکولر کا لج ہوا کرتا تھا ،اب نہ ہی یہ کالج ہے اور نہ ہی اس کے آثار، البتہ نام باقی ہے۔ ڈی اے وی کالج روڈ آگے عالم خان روڈ کی جانب نکلتی ہے جس کے دائیں اور بائیں چھاچھی محلہ ہے ، جہاں چھچھ کے علاقہ سے کرانچیاں (بیل گاڑی)چلانے والے، جو پنڈی سے مال کشمیر کو لے جاتے تھے، آکر آباد ہوئے اور یہ جگہ چھاچی محلہ کے نام سے جانی جانے لگی۔ ہاں تقسیم سے قبل کے کئی مکانات ہیں جن میں سے کچھ کی چھتیں زمین چھونے کو بے تاب نظر آتی ہیں، جو مکانات عا لم خان روڈ پر تھے اب وہاں کئی پلازے بن چکے ہیں، صرف چند ایک ہی بچے ہیں جو عہد رفتہ کی داستان سناتے نظر آتے ہیں۔ انہی میں سے ایک مکان بلراج ساہنی کا ہے۔ جو 1917ءمیں تعمیر ہوا۔ بھیرہ سے کاروبار کی غرض سے راول پنڈی آکر آباد ہونے والے بلراج ساہنی کے والد سخت گیر مذ ہبی عقائد رکھنے والے آریا سماجی ہندو تھے۔ جو اپنے بیٹے کو فلم دیکھنے کی بھی اجازت نہیں دیتے تھے۔ لیکن وہ کہاں جانتے تھے کہ ان کہ یہ پابندی بیٹے کے اداکاری کے شوق کو نہ روک سکے گی اور ایک دن بلراج ساہنی فلمی دنیا کے افق پر چمکے گا۔
1930ءمیں گورڈن کالج راول پنڈی سے انٹر پاس کرنے کے بعد ،بلراج ساہنی کی زندگی نے نیا رخ لیا جب وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے، یہ وہ وقت تھا جب فیض احمد فیض اور سردار شوکت حیات بھی اسی کالج میں تھے۔ پطرس بخاری اور امتیاز علی تاج کا سایہ شاگردی میسر آیا، انگریزی ادب سے اور تھیٹر سے لگاو¿ بڑھا ۔ ” راوی “ میں کئی نظمیں لکھی۔ کالج کی ڈرامیٹک سوسائٹی بلراج ساہنی کی پہلی تربیت گاہ بنی۔ پطرس بخاری نے اداکاری کے اسرار و رموز سکھلائے۔ انگریزی ادب میں ایم اے کرنے کے بعد بلراج ساہنی راول پنڈی لوٹے، والد کا کپڑے کا کاروبار سنبھا لا۔ اسی دوران ان کی شادی دمایانتی ساہنی سے ہوئی۔ شانتی نکیتن سے لیکچرر کی نوکری کی پیش کش ہوئی ، تنخواہ پچاس روپے سہی لیکن شانتی نکیتن میں پڑھا نا بہت اعلی و باعزت 3نوکری سمجھی جاتی تھی۔ اسی دوران دوسری عالمی جنگ چھڑ گئی۔ بلراج ساہنی کولندن میں بی بی سی ہندی کے ساتھ بطور اناونسر کام کرنے کا موقع ملا، لندن میں ٹی -ایس ایلیٹ، جان گیلگڈ ،جارج آریول اور لاسکی جیسی نابغہ روزگار شخصیات کی رفاقت حاصل ہوئی۔ اسی دوران بلراج ساہنی نے روسی ادب کا مطالعہ کیا جس سے سوشل ازم اور مارکس ازم میں ان کی دل چسپی بڑھی۔
1944ءمیں ہندوستان لوٹے، آل انڈیا ریڈیو میں ملازمت کو ٹھکرا کے اداکاری کو ترجیح دی۔ انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن اپٹا میں سرگرم ہوئے اور بعد ازاں اپٹا کے جنرل سیکریٹری بنے۔اپٹا کے ڈرامے محنت کش طبقے کے مسائل کو اجاگر کرتے ، جس سے بلراج ساہنی ایک ترقی پسند فنکار مشہور ہوئے۔
مارچ 1947ءکی بہار راول پنڈی میں خون کی ہولی لے کر آئی، شہر اور آس پاس کے علاقوں میں فسادات پھوٹ پڑے۔ ہزاروں لوگ اس کا نشانہ بنے ۔ بلراج ساہنی راول پنڈی آئے۔ یہاں امن مارچ کا آغاز کیا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے کارکنوں کو جمع کیا ، اور لہو رنگ پنڈی کی گلیوں میں محبت و امن کے گیت گائے۔ مورگاہ آئل ریفا ئنری کے مزدوروں پر مشتمل یہ جلوس سائیکلوں پر صبح سے لے کر شام تک پنڈی شہر کا چکر لگا تا لیکن نفرت کی آگ بہت پھیل چکی تھی جو ان کمیونسٹوں کے گیتوں سے کہاں بجھتی۔ بلراج ساہنی اس امن مارچ میں اس قدر مشغول ہوئے کہ ا پنی بیوی کی اچانک موت کو بھلا بیٹھے اور اس تحر یک میں سرگرم ہو گئے۔ فسادات نہ رک سکے۔ تقسیم بعد بلراج سا ہنی کو ہندوستان جانا پڑا۔2
بلراج ساہنی کے فلمی کیرئیر کا آغاز خواجہ احمد عباس کی ” دھرتی کے لال“ سے ہوا بعد میں ضیا سرحدی کی 'ہم لوگ‘ میں مرکزی کردار ادا کیا لیکن اصل شہرت بمل رائے کی فلم ”دو بیگھہ زمین“ سے حاصل ہوئی۔ جس میں ”شنبو مہتو “کے لازوال کردار سے شہرت کی بلندیوں کو پہنچ گئے۔ اس کے علاوہ "کابلی والا" اور "گرم ہوا " میں ان کی اداکاری ان کی پہچان بنی۔ بلراج ساہنی نے اپنے وقت کی نامور فلمی اداکارو¿ں پدمنی، نوتن، میناکماری، وجنتی مالا اور نرگس کے ساتھ کام کیا۔ مناڈے کی آواز میں فلم "وقت" کے مشہور گانے ” اے میری زہرہ جبیں ....“ کو ان پر فلمایا گیا جو آج بھی بہت مقبول ہے۔1962ءمیں بلراج ساہنی گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل ڈاکٹر نذیر احمد کی دعوت پر پاکستان آئے، دوستوں سے ملے۔ اپنا گھر دیکھنے راول پنڈی آئے جہاں ان کا سامان ویسے ہی پڑا تھا جیسا چھوڑ گئے تھے۔ عبداللہ ملک ، افضل پرویز، احمد راہی سے ملے۔پرانے محلے داروں نے بلراج ساہنی کا گھر کافی عرصہ الاٹ نہ ہونے دیا ،وہ اس امید میں تھے کہ بلراج ساہنی ہمیشہ کے لئے پھر سے آجائیں گے۔ راول پنڈی بدل چکا تھا، کمپنی باغ کا نام لیاقت باغ اور ٹوپی پارک کا نام ایوب پارک

????????????????????????????????????

ہو چکا تھا۔ راول پنڈی کے نواح میں جہاں دیہات تھے، نیا شہر اسلام آباد بن رہا تھا۔کچھ ہندو بہ و جہ مجبوری مسلمان ہوچکے تھے۔ بلراج ساہنی نے ہندوستان جاکر اپنا سفرنامہ ”میرا پاکستانی سفر نامہ“ لکھا۔ 1969ءمیں بلراج ساہنی کو پدم شری ایوارڈ عطا کیا گیا۔ بلراج ساہنی نے دو سفر نامے ، میرا پاکستانی سفر نامہ اور میرا روسی سفر نامہ لکھے۔اس کے علاوہ آپ نے اپنی خود نوشت لکھی اور شاعر ی کا مجموعہ بھی ترتیب دیا۔ تقسیم کے موضوع پر بننے والی فلم”گرم ہوا“ ان کی آخری فلم تھی۔ 13 اپریل 1973ءکو بر صغیر کا یہ عظیم اداکار اور ادیب داغ مفارقت دے گیا۔6

راول پنڈی کا بلراج ساہنی” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *