نوری منزل اب بھی اپنی جگہ قائم ہے

اندرون لاہور میں مٹی چوک کے ٹیڑھے اور تنگ راستوں سے گزر کر میں محّلہ شیرازیہ پہنچا، وہاں میری نظر ایک پراسرار محراب پر پڑی جو دِن کے وقت بھی اندھیرے میں دفن تھا۔ میں نے اپنے تجسس کو ناراض کرنا ضروری نا سمجھا اور اندر کی طرف چل پڑا۔ گلی تاریک تھی لیکن اندر پہنچتے ہی میری آنکھوں نے جو خوبصورت اور شاندار نظارہ دیکھا وہ بیان کے قابل نہیں۔ میں انجانے میں ’’نوری منزل‘‘ جا نکلا تھا۔ داخلے پر ایک خوبصورت صحن اپنی کھلی چھت کے ساتھ موجود تھا،جہاں سے تھوڑی سیڑھیاں چڑھتے ہی حویلی شروع ہو جاتی ہے ۔کانچ کے ٹکڑوں سے سجی چھت آج بھی اپنی اصل خوبصورتی برقرار رکھے ہوے ہے جبکہ دیواروں میں جا بجا بالکونی اور جھروکے بنے ہوے ہیں، جو سِکbalconies-of-the-Haveliھ تعمیرات کا خاصہ ہیں۔ میں اندر جانے سے پہلے کسی سے اجازت لینا چاہتا تھا لیکن وہاں کوئی موجود نہیں تھا اور میں خود کو پیش قدمی سے روک نہیں پا رہا تھا۔ حویلی کا اندرونی حصّہ تو اور بھی خوبصورت تھا۔ میں ایک تنگ گلی میں مڑنے ہی والا تھا کہ آواز آئی ’’ وہاں مت جاؤ، وہاں بھوت ہیں‘‘۔ میں مڑا تو وہاں ایک درمیانی عمر کا شخص کھڑا تھا ، بات چیت پر پتہ چلا کہ وہ حویلی میں کرائے دار تھا جبکہ حویلی کا مالک بیرونِ ملک رہتا ہے۔ اُس نے مجھے بتایا کہ اوپری منزل کی حالت خستہ ہے اور وہاں بھوتوں کا بسیرا ہے لیکن بصد شوق میں ایک انجانے خوف کے ساتھ اوپر آ گیا۔ اوپر بھی مجھے وہی خوبصورتی دیکھنے کو ملی لیکن یہاں بہت گرد تھی اور اِس حصّے کی حالت بھی خستہ تھی۔ احسن نامی کرائے دار نے بتایا کہ حویلی کا کل رقبہ 27 مرلہ ہے اور اِس میں کل 32 کمرے ہیں۔ سکھوں کے دور میں یہ حویلی رقاصاؤں کی رہائشگاہ تھی۔ یہاں کی نائیکہ کا نام ’’ پوری بائی‘‘ تھا اور اِس لئے حویلی کو ’’پوری حویلی ‘‘ کہا جاتا تھا اور بعد میں نام نوری حویلی یا نوری منزل پڑ گیا۔ سکھوں کے دور میں لاہوری دروازے کے اندر کا سارا علاقہ ’’ریڈ لائیٹ علاقہ‘‘ کہلاتا تھا اور ساری مشہور رقاصائیں یہیں رہا کرتی تھیں۔ مٹی چوک کا نام بھی اُس دور کی مشہور رقاصہ ’’ مٹی بائی‘‘ کے نام پہ رکھا گیا تھا۔ وقت کے ساتھ ریڈ لائیٹ کا علاقہ جھنڈا چوک اور ٹبی چوک منتقل ہو گیا۔
حویلی میں ایک اصطبل بھی تھا جو اب دکانوں میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اوپر کے حصّے میں زیادہ کمرے بند تھے اور کھلا شاندار صحن اِس بات کا ثبوت دے رہا تھا کہ یہاں رقاصائیں آباد تھیں۔جو کمرے کھلے تھے اُن میں اب موچی رہتے ہیں۔ نوری منزل کی تصویریں لیتے ہوے اِس دُکھ نے میرا دل مٹھی میں لے لیا کہ کہیں یہ پر شکوہ عمارت بھی باقی ہزاروں عمارتوں کی طرح اپنا وجود کھو نہ دے۔ اور موچیوں کے یہاں آباد ہونے کے بعد مجھے کوئی اُمید نظر بھی نہیں آتی۔ نوری منزل سکھ تعمیرات کا خوبصورت نمونہ اور لاہوری دروازے کے اندر چھپا ایک خوبصورت نگینہ ہے جس کی حفاظت صرف حکومت کی نہیں ، ہماری بھی ذمہ داری ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *