آنے والے کل میں ہمارا حصہ

qurb e abbasاگر میں کہوں کہ اس مشینی دور میں ایک شخص نے اپنی زندگی کے بائیس سال صرف کر کے ایک چھینی اور ہتھوڑے کی مدد سے پچیس فٹ اونچے پہاڑ کا سینہ چیر کر اس میں سے تین سو ساٹھ فٹ لمبا اور تیس فٹ چوڑا راستہ بنایا تھا تو شاید اکثر لوگوں کو یہ بات ناقابلِ یقین لگے گی اور ہوسکتا ہے کہ کچھ کو مذاق بھی.... مگر حقیقت یہ ہے کہ جب ہم فرائض کو سمجھتے ہوئے پورے خلوص نیت سے کچھ کرنے کی ٹھان لیتے ہیں تو پھر سینہ چوڑا کر کے ہر قسم کی آفت کا سامنا کرنے کی ہمت پا لیتے ہیں، پہاڑ کنکر ہوسکتا ہے۔
دشرتھ مانجھی.... بہار (بھارت) کے ایک ایسے گاوں کا باسی کہ جہاں ضروریات زندگی کے حصول کے لیے پہاڑ کے دوسری طرف واقع قصبے میں جانا پڑتا تھا، قریب پچپن کلو میٹر کی مسافت تھی۔ جن دنوں وہ پہاڑ کی ا±س طرف قصبے میں کام کر رہا تھا، دوپہر کا کھانا لاتے ہوئے اس کی بیوی پھلگنی دیوی کا پاوں پھسلا اور اسی پہاڑ سے گر کے شدید زخمی ہوگئیں۔ ہسپتال لے جانے میں اتنا وقت لگا کہ وہ بچ نہ پائی تو اس دن دشرتھ مانجھی نے یہ سوچ لیا تھا کہ اس پہاڑ کو کاٹ کر راستہ بناوں گا جس کا فائدہ اس پورے گاوں کو ہوگا، کم از کم آئندہ میرے گاوں میں کوئی اس پہاڑ کی وجہ سے نہیں مرے گا۔
dashrath-manjhiجب اس نے تیشہ اور ہتھوڑا اٹھا کر کام شروع کیا تو پورے گاوں نے اس کو پاگل سمجھ کر اس کا مذاق اڑایا مگر وہ مگن رہا۔ بائیس سال کے طویل عرصے کے دوران گاوں میں قحط آیا، لوگوں نے کچھ سال کے لیے گاوں چھوڑا، پھر واپس آئے۔ اسی دوران حکومتی وعدے بھی ہوئے، لوگوں نے مکاری سے اس کے نام پر پیسہ بھی کھایا لیکن ان سب باتوں کے باوجود اس کی لگن میں کوئی کمی نہ آئی۔ بائیس سال تو لگے پر اس نے راستہ بنالیا۔ کہا کرتا تھا؛
"سب کو اپنا راستہ خود بنانا پڑتا ہے۔"
کہنے کو یہ جملہ بہت چھوٹا ہے مگر سوچنے پر آئیں تو پہاڑ سے بھی بلند اور کسی چٹان سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔
ہم ہمیشہ حکومت کو کوستے ہیں، ہمیشہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ کوئی غیب سے امداد کا وسیلہ دکھائی دے۔ کہیں سے تو بغیر کوشش کے کچھ میسر آجائے.... لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ آج کے دور میں ”قسمت“ یا”تقدیر“ جیسی افیون کچھ دیر کے لیے نشہ تو طاری کر دیتی ہے.... ہمارے کام نہیں سنوار سکتی.... اور یہ تب تک چلتا رہے گا جب تک ہم خود اٹھ کر اپنے پیروں پر نہیں کھڑے ہو جاتے، ہم اپنی آواز کو بلند نہیں کرتے۔ ہمارا گلہ ہے کہ معاشرہ خراب ہے مگر کبھی غور نہیں کیا کہ ”معاشرہ“کون ہے؟
جب انسان بطور شہری اپنے حقوق کا مطالبہ کرتا ہے تو فرائض سے نجانے کس لیے نظر چراتا ہے۔میں جاننا چاہتا ہوں کہ ہمارے ہاں:
استاد اپنے فرائض کہاں تک نبھا رہا ہے؟
ایک طالب علم کیا واقعی "طالبِ علم" ہے؟
کوئی بھی سرکاری کلرک کتنا ذمہ دار ہے؟
سپاہی میں کس قدر خدمت خلق جیسا جذبہ موجود ہے؟
1436983908dasrath-manjhi-2فوج اپنے معیار کو برقرار رکھنے اور اثاثوں کو محفوظ رکھنے کے علاوہ شہریوں کے تحفظ کے لیے کتنی سنجیدہ ہے؟
کیا وکیل انصاف ہی کے لیے لڑتے ہیں؟
کیا جج بلاامتیاز فیصلے سنا رہے ہیں؟
ڈاکٹر مریضوں کے بیمار دلوں کو ٹھیک کر رہا ہے یا نکال کر چبا نے میں مصروف ہے؟
سبزی فروش کیسے سبزی تولتا ہے؟
اور یہ بھی بتائیں کہ جو کروڑوں روپے کی مالیت میں جائیداد رکھتے ہیں، سرمایہ دار ہیں.... ٹیکس نہ دے کر بھی حکومت ان کی مٹھی میں کیسے ہے؟
اوپر جتنے پیشے لکھے یا لکھنے سے رہ گئے ان میں سے ایک میں ہوں اور ایک آپ بھی ہیں، ہم ہی یہ سماج ہیں۔ اگر یہ سماج خراب ہے تو یقیناً ہم اپنے اندر خامیاں رکھتے ہیں۔ ہمیں سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ہوگا اور پھر موروثی سیاست کا رواج ختم کر کے اپنے ہی اندر سے ایسے لوگوں کو سامنے لانا ہوگا جو اتنی اہلیت رکھتے ہوں کہ عالمی سطح پر اس ملک کو نیا تعارف دے سکیں۔
میں مانتا ہوں کہ ہمارے سامنے مذہبی جنونیت، سیاسی استبداد، معاشی بدحالی، جنسی گھٹن، نصابی بے ایمانی، افلاس، نفسیاتی گراوٹ اور نجانے کتنے اونچے پہاڑ موجود ہیں.... لیکن کیا کریں کہ ہمیں ان سب کے سینے چیر کر اس میں سے اپنا راستہ بنانا ہے۔ ہمیں صرف ایک چھینی اور ہتھوڑے کی ضرورت ہے۔ نہیں! میں محض ایک آہنی چھینی اور ہتھوڑے کے بارے میں نہیں کہہ رہا.... میں "فکر " اور "عمل" کے بارے میں بات کر رہا ہوں، سوچیں اور وہ کریں جو ایک شہری ہونے کے ناطے آپ پر فرض ہے۔ تو پھر اٹھائیے یہ چھینی اور ہتھوڑا اور وقت و عمر کا خیال کیے بغیر شروع ہو جائیے۔ میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ان پہاڑوں کے ا±س پار علم اور شخصی آزادی ہے اور جہا ں ”علم“ اور ”شخصی آزادی“ ہو اس سماج میں امن، تخلیق اور خلوص کو فروغ ملتا ہے جبکہ ان دونوں میں سے کسی ایک کی عدم موجودگی گھٹن، بربریت اور منافقت کا سبب بنتی ہے جو شاید اپنے آنے والی نسلوں کے لیے آپ چاہتے ہیں اور ناں ہی میں....

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *