ابنِ انشاء اور وہ کم بخت غزل

ابنِ انشاء ایک بہت ہی دلچسپ کردار تھے۔ اُن کی شخصیت کے کئی پہلو تھے۔ وہ شاعر تھے، سیاست کار تھے، ایک لکھاری تھے اور مارکس کے بڑے حامی بھی تھے۔ شاعری کا تو اُنہیں خوب شوق تھا اور وہ اپنی شاعری کے مجموعے اور غزلیں ادبی رسالوں میں چھپواتے رہتے تھے۔ 1970 کے ابتداء میں لکھی گئی اُن کی غزل ’’ انشاء جی اُٹھو‘‘ نے اُن کی شہرت کو مزید پزیرائی بخشی لیکن زندگی کی رعنائی کھا گئی۔ غزل ایک ایسے دِل شکستہ آدمی کے بارے میں ہے جو ایک رنگین محفل سے یہ سوچ کر اُٹھتا ہے کہ وہ نا صرف یہ محamant 1فل بلکہ یہ شہر ہی چھوڑ دے گا اور اپنی بے معنی زندگی کے معنی تلاش کرنے کی کوشش کرے گا۔ مشہور موسیقار اور گلوکار اُستاد امانت علی خان کراچی کی شہری زندگی کے اوپر کوئی غزل گانا چاہ رہے تھے کہ اچانک انشاء کی یہ غزل اُن کی نظروں سے گزری اور انہوں نے فوراََ اِس غزل کو گانے کا اِرادہ کر لیا۔ 1974 میں جب امانت خان نے صاحب نے یہ غزل PTV کے پروگرام میں گائی تو چینل پہ خطوط کا تانتا بندھ گیا کہ اِس غزل کو دوبارہ نشر کیا جائے۔ ابھی امانت علی خان صاحب نے اپنی کامیابی کا مزا لینا شروع ہی کیا تھا کہ وہ اچانک 52 سال کی عمر میں انتقال کر گئے اور اِس کے کچھ مہینے بعد ابنِ انشاء کا بھی انتقال ہو گیا۔ اُن کی عمر محض 50سال تھی۔ اپنے آخری دِن انہوں نے لندن کے ایک ہسپتال میں بیماری سے لڑتے ہوے گزارے اور اپنے چاہنے والوں کو خطوط بھی لکھے۔ اپنی وفات سے ایک دِن پہلے ایک خط میں اُنہوں نے اسی غزل کا ذکر کرتے ہوے لکھا ’’ کہ یہ منحوس غزل اور کتنوں کی جان لے گی‘‘۔ امانت علی خان کے بڑے بیٹے اسد امانت علی اپنے والد کے فن کی صحیح میراث تھے لیکن اُنہوں نے اپنے آپ کو صرف غزل گائیکی تک محدود نہیں رکھا بلکہ فلموں کے لئے بھی خوبصورت گانے گا کے 80 کی دہائی میں خوب نام کمایا۔ اُن سے اکثر اِس غزل کو گانے کی فر مائش کی جاتی تھی ۔ 2006 میں ایک کنسرٹ کے آخر میں اُنہوں نے یہ غزل گائی اور وہ کنسرٹ اُن کی زندگی کا آخری کنسرٹ ثابت ہوا اور کچھ مہینے بعد وہ بھی 52 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ اسد امانت کے چھوٹے بھا ئی شفقت امانت علی بھی بہت مشہور گلوکار ہیں لیکن فرمائش کرنے پر بھی وہ یہ غزل نہیں گاتے۔ ذرائع کہتے ہیں کہ اُنکے گھر والوں نے اُنہیں یہ غزل گانے سے منع کیا ہے کیونکہ وہ مانتے ہیں کہ یہ غزل منحوس ہے۔ اِس غزل کی اتنی شہرت کے باوجود بہت کم گلو کاروں نے اِسے گایا۔ کچھ کہتے ہیں کہ اُن تین ( انشاء، امانت علی، اسد امانت ) لوگوں کے احترام میں ہم یہ غزل نہیں گاتے جبکہ باقی کہتے ہیں کہ انجانے خوف کا پر اسرار احساس اُنہیں یہ غزل گانے سے باز رکھتا ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *