میں صحافی ہوں، میں تو سوال کروں گا

usman ghaziمیرا کام سوال کرنا ہے، میں معاملات کو کریدوں گا، اقدامات پر سوال اٹھاو¿ں گا، رجحانات کو موضوع بحث لاوں گا اور اس سے مجھے کوئی نہیں روک سکتا
مجھے ذاتیات میں دخل اندازی نہ کرنے کا لیکچر دے کر بھی نہیں روکا جاسکتا کیونکہ ذاتیات معمولات ہوتے ہیں، معاملات نہیں۔
ذاتیات کو بہانہ بناکر آپ اپنے حامیوں کی ہمدردیاں تو سمیٹ سکتے ہیں تاہم اگر آپ عوامی شخصیت ہیں تو یہ بہانے کرکے میرے سوال سے نہیں بچ سکتے۔
کلنٹن اور مونیکا لیونسکی کا اسکینڈل بھی ایک صحافی ہی سامنے لایا تھا، مغربی معاشرے میں ذاتیات کا احترام مشرقی معاشروں سے زیادہ ہے، قانون فرد کی ذاتی زندگی کو تحفظ دیتا ہے اور ایسے میں جب کلنٹن مونیکا اسکینڈل پر سوالات اٹھائے گئے تو کسی نے نہیں روکا کیونکہ عوامی شصیت کی زندگی قوم کی امانت ہوتی ہے، اس کا کردار اور فیصلے قوم کے لیئے اہم ہوتے ہیں۔
جناب عمران خان صاحب!! آپ سے ریحام بی بی کے حوالے سے یہ نہیں پوچھا گیا تھا کہ ان سے جدائی پر آپ کی دلی کیفیت کیا ہے کیونکہ یہ معمولات ذاتی زندگی میں مداخلت کے زمرے میں آتے ہیں، ہمارے ایک بھائی نے یہ سوال کیا تھا کہ آپ کی مردم شناسی کیا ہوئی، اگر بیوی کے انتخاب میں غلطی ہوگئی تو پھر آپ کے فیصلوں کی اہلیت پر سوال بجا ہے کیونکہ آپ ایک بڑے لیڈر ہیں، آپ کو قوم کے مستبقل کے فیصلے کرنا ہیں، قوم جن لوگوں کو اپنے مقدر کے فیصلوں کا اختیار دیتی ہے، ان کی فیصلہ سازی کی اہلیت جاننے کے لیے کیا سوال جرم ہے اور یہ ایک اہم معاملہ ہے جو قطعا ذاتی زندگی میں مداخلت کے زمرے میں نہیں آتا۔
جناب عمران خان صاحب!! آپ نے صحافی کو اس کی اوقات یاد دلادی، اس سے کہا کہ اسے شرم نہیں آتی
آپ بتائیں کہ آپ کو شرم نہیں آتی کہ ان صحافیوں کی توہین کرتے ہیں جنہوں نے آپ کو لیڈر بنایا، آپ کو قوم کا مسیحا لکھا، ہم وہ صحافی ہیں جنہوں نے آپ کے جلسوں اور دھرنوں کی کوریج کی، اگر یہ کوریج نہ ہوتی تو آپ کی آواز کروڑوں لوگوں تک کیسے پہنچتی۔
جس ذاتیات میں مداخلت پر آپ برہم ہیں، اس ذاتی معاملے سے آپ کی سیاسی جماعت تحریک انصاف کے ترجمان نعیم الحق نے میڈیا کو آگاہ کیا، یہ کیسا ذاتی معاملہ تھا جس سے پارٹی کا ترجمان آگہی دے رہا تھا۔
جب سب اچھا اچھا تھا تو آپ ریحام بی بی کو جلسوں میں لے جاتے رہے، ٹی وی پر اپنی ذاتی زندگی پر دلچسپ انٹرویوزدیتے رہے، ریحام دس لاکھ کا ہار مانگے گی تو طلاق دے دوں گا، یہ ذاتی معمولات آپ نے ٹی وی پر ڈسکس کیے مگر آپ کی جانب سے تمام مواقع دیئے جانے کے باوجود خدا گواہ ہے کہ کسی پاکستانی صحافی نے آپ کے ذاتی معمولات کو آج تک اپنی خبر کا موضوع نہیں بنایا، طلاق اور شادی زندگی کے معاملات ہیں ۔
جناب عمران خان صاحب! آپ وہی ہیں جنہوں نے آصف زرداری کو ڈاکو کہا، نوازشریف پر بھپتیاں کسیں، محمود خان اچکزئی کی نقلیں اتاریں، کیا یہ ذاتی کردار کشی نہیں تھی اور آج آپ صحافیوں کو شرم دلارہے ہیں کہ وہ آپ کے قرار دیئے گئے ذاتی معاملات میں مداخلت سے باز رہیں
آپ کریں تو تبدیلی۔۔ ہم کریں تو کریکٹر ڈھیلا....
پاکستان کے صحافی اس قوم کی آواز ہیں، یہ آئینہ دکھاتے ہیں، بہت سے نوسرباز بھی ہیں مگر کہاں نہیں ہوتے، آپ کو بھی تو اپنی پارٹی کی سیلفی مافیا سے شکایات ہیں۔
عارف نظامی نے جب ریحام اور آپ کے نکاح کی خبر دی تو آپ نے اسے بے بنیاد خبر قرار دے دیا اور پھر ایک ہفتے بعد نکاح کی خبریں سامنے آگئیں، عارف نظامی نے طلاق کی خبریں دیں تو پھر آپ نے اسے پروپیگنڈہ قرار دے کر پاکستانی صحافت پر تنقید کرڈالی اور اس تنقید کے پندرہ دنوں میں آپ نے طلاق دے دی، ہمارا سوال یہ بھی ہے کہ آپ کی تنقید، تردید اور مذمت کی کیا کریڈیبلٹی ہے؟
جناب عمران خان صاحب! ہم آپ کی بہت عزت کرتے ہیں مگر آپ ہمارے لیڈر نہیں ہیں، بس ایک خبر ہیں، جیسے ڈاکٹر کے لیے ایک مریض بس ایک مریض ہوتا ہے، مریض کے اہل خانہ کے جذبات اور ڈاکٹر کے جذبات میں فرق ہوتا ہے، یقینا ہمارے احساس اور آپ کے چاہنے والوں کے احساس میں فرق ہے مگر ہم سب کو ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں
آپ سے درخواست ہے کہ ہماری صحافی برادری کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں، انہیں شرم اور اوقات یاد دلانے کے بجائے جنٹلمین کی طرح ان کے سوالات کا سامنا کریں، اس سے آپ کو کچھ نہیں بگڑے گا، صحافی آپ کا برا نہیں چاہتے، بس وہ عوام کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کا جواب چاہتے ہیں۔

میں صحافی ہوں، میں تو سوال کروں گا” پر بصرے

  • نومبر 4, 2015 at 1:48 PM
    Permalink

    Very well written buddy. Keep it up stay blessed

    Reply
  • نومبر 4, 2015 at 3:01 PM
    Permalink

    آپ اور آپ کی صحافت کی آزادی وہاں تک ہے، جہاں آپ کسی اور کی آزادی میں مخل نہیں ہورہے ہوں۔

    Reply
  • Shahzad Amir
    نومبر 4, 2015 at 5:41 PM
    Permalink

    بہت خوب لکھا ہے، غازی صاحب۔ ماننا پڑے گا کہ آپ کا قلم بہت توانا ہے۔

    Reply
  • نومبر 4, 2015 at 9:44 PM
    Permalink

    میرا خیال ہے کہ ہم صحافیوں کو اپنے لئے لکیریں کھینچنی چاہئیں، صحافی ہونے کا مطلب یہ نہیں ہر چیز پر لکھنے کا لامحدود اختیار مل گیا. میرے خیال میں پرائیویسی کا خیال رکھنا چاہیے، عمران خان کی طلاق کا معاملہ نجی ہے، اس پر یوں رائے زنی کرنا مناسب نہیں.

    Reply
  • نومبر 5, 2015 at 1:03 AM
    Permalink

    میرے خیال میں سوال کرنا، جی ہاں احمقانہ سوال کرنا بھی برا نہیں ہے۔ احمقانہ سوال کرنے والا زیادہ سے زیادہ اپنی حماقت سامنے لاتا ہے۔ لیکن یہ بھی ماننا پڑے گا کہ سامنے والے کو جواب دینے کا سلیقہ بھی آنا چاہیے۔ اس وقت عوامی حلقوں میں صحافی کا سوال نہیں، بلکہ خان صاحب کا جواب زیرِ بحث ہے۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *