سردی اور کج فہمی

Ayaz Amirایمرسن کا کہنا ہے’’مستقل مزاجی چھوٹے ذہن کے افراد کے لئے اذیت ناک ہوتی ہے‘‘۔ کچھ عرصہ پہلے جب موسم قدرے گرم تھا تو میں برطانوی راج کی عطا کردہ کچھ چیزوں، جن میں کچھ مخصوص قسم کے مشروبات کو دی گئی ترجیح بھی شامل تھی، کو یاد کرکے افسردہ ہورہا تھا۔ میں نے کہا تھا کہ اگر انگریزوں کے بجائے فرانس یا پرتگال کی قوتیں برصغیر پر قبضہ کر لیتیں تو مشروبات کے حوالے سے ہمارا ذوق قدرے مختلف ہوتا۔یہ اُس وقت کی بات ہے، آج اگرچہ ابھی بھرپور سردی نہیں آئی ہے، موسم قدرے خنکی کی طرف مائل ہے تو سرد ہوتے ہوئے اس موسم کے پیش ِ نظر مجھے کہنا پڑتا ہے کہ میں غلطی پر تھا۔ اس پر معافی کا خواستگار ہوں۔ سرد موسم میں کم پروف والے یعنی کمزور ، مشروبات کام نہیں دیتے ہیں۔ اس موسم میں پینے کو وہی کچھ درکار ہوتا ہے جو ہماری قومی عادت بن چکا ہے۔
انگریز راج کی باقیات ریلوے کو ہم نے جس ’’مہارت‘‘ سے تباہ کیا ہے، اُس کی داد واجب ہے۔ ابھی تک نہری نظام کچھ کام کر رہا ہے کیونکہ پانی کے بہائو کو جاری رکھنے کے لئے ہمیں زیادہ تردّد نہیں کرنا پڑتا۔ اس کے علاوہ بہت سی اور چیزیں بھی انحطاط کا شکار ہیں لیکن جس مخصوص ورثے کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے... معافی چاہتا ہوں کہ خودساختہ سنسر شپ کے قوانین کی وجہ سے مزید وضاحت نہیں کر سکتا...وہ پوری آب و تاب کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ اگرچہ ایسا بند دروازوں کے پیچھے ہوتا ہے لیکن پھر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ واجب پردہ داری کی وجہ سے اس کا اثر دو آتشہ ہو جاتا ہے۔
جب پاکستانی، جو اس تفریح کی استطاعت رکھتے ہیں اور ان کی تعداد کم نہیں ہے، سرد موسم میں اکٹھے ہوں گے تو ان کی من پسند چوائس وہی چیز ہو گی جسے پاکستان کا غیر سرکاری مشروب کہا جاسکتا ہے۔ دعا کہ ہے کہ سدا ایسا ہی رہے۔ اب ہو سکتا ہے کہ وحشی طاقتیں ہماری دہلیز تک آن پہنچی ہوں...بلکہ مجھ جیسے تو انہیں دہلیز کے اندر بھی دیکھتے ہیں ...لیکن پاکستانی، بقول شاعر...’’جب آئیں گے سر ِ محفل تو حصہ کم نہیں لیں گے‘‘۔ تین سال پہلے کابل کے دورے کے موقع پر ہم انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل، جو کبھی انتہائی شاندار جگہ تھی لیکن اب بربادی کی داستان سنا رہا تھا، میں ٹھہرے تو کچھ افراد نے کہا کہ دسمبر کی سردی سے بچنے کے لئے کچھ پینے کی ضرورت ہے تاہم یہ بھی خبردار کیا گیا کہ پی لیں لیکن خالی بوتلیں ہوٹل کے کمروں میں چھوڑ کر نہ جائیں۔ یہ طالبان کے خوف کا نتیجہ تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم اب وہاں نہیں ہیں لیکن اس سے پتہ چلتا ہے کہ اتنہا پسندی کے اثر سے کوئی مقام بھی محفوظ نہیں رہتا ہے۔
ماضی میں کابل ایک دلکش شہر ہوتا تھا اور اس میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ہپی افراد کی آمدو رفت جاری رہتی تھی۔ یہ اتنا پرسکون شہر تھا کہ یہاں آنے کے بعد جانے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ یہ ترہکئی حکومت کا 1978ء میں تختہ الٹنے سے پہلے، چنانچہ طالبان اور مجاہدین کی آمد سے بہت پہلے کی بات ہے۔ اب اگرچہ گزشتہ بارہ سال سے امریکی یہاں پر موجود ہیں لیکن یہ وہ شہر نہیں ہے۔ اب آپ ماحول کی گھٹن سے تبدیلی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ کبھی یہاں کی تعلیم یافتہ لڑکیاں حجاب نہیں پہنتی تھیں لیکن اب کوئی لڑکی، چاہے اُس نے جینز ہی کیوں نہ پہنی ہو، بھی حجاب کے بغیر باہر آنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ چنانچہ ہم پاکستانیوں کو شکر کرنا چاہئے کہ ہمارے ہاں کچھ نہ کچھ تو ہے اگرچہ بہت سے لوگوں کو اس انتہا پسندی ، جس نے مسٹر جناح کے پاکستان کو گہنا دیا ہے، کے پورے خطرات کا احساس نہیں ہے۔ افغانستان کی صورتحال کے بعد پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے تصورات میں بپا ہونے والی تبدیلی ہنوز آشکار نہیں ہوئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں خود احتسابی کے جذبے کے تحت اپنی تاریخ کا بغور جائزہ لینا چاہئے تاکہ ہم جان سکیں کہ ہم 1947ء میں کیا تھے اور اب کیا ہیں اور ان گزرتے ہوئے ماہ و سال میں ہم سے کون کون سی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ اگر ہم ان غلطیوں سے ہی اجتناب کر سکیں جو ہم سے نظرئیے کے نام پر سرزد ہوئی ہیں تو بھی غنیمت ہے۔ اس وقت ہمارا حال یہ ہے کہ نظریاتی اعتبار سے تو ہم خود کفیل ہیں لیکن مادی اعتبار سے ہم تہی داماں ہیں۔ ملک چلانا ہمارے بس میں نہیں رہا ہے... ہمارے فرشتوں کو بھی علم نہیں کہ اشیائے ضرورت کی فراہمی کیسے ممکن بنانی ہے؟ ہم سب کو علم ہے کہ ہماری ایئرلائن کس طرح سرکے بل گری ہے۔ ایک انگریزی روزنامے میں اتوار کو شائع ہونے والا مسعود حسن کا مضمون بتاتا ہے کہ قطر اور امارت ائیرلائن کہاں ہیں اور ہم کس گراوٹ کا شکار ہیں۔ پلاننگ کے کمیشن کے سابق سربراہ ندیم الحق کا ایک مضمون جو دو اقساط میں شائع ہوا، بتاتاہے کہ ہم شہروں کے اندرونی حصوں کو کس طرح نظر انداز کر رہے ہیں۔ اس کو سمجھنے کے لئے کراچی ایک واضح مثال ہے۔ مسٹر عارف حسن بھی اس موضوع پر کئی سالوں سے با ت کررہے ہیں۔
ان مثالوں سے یہ باور کرانا مقصود تھا کہ ہمارے درمیان افراد موجود ہیں جو صورتحال کا ادراک رکھتے ہیں اور وہ اس کا تجزیہ کر سکتے ہیں۔ اگرچہ ہم نے اپنے تعلیمی نظام کا کباڑا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ہے لیکن پھر بھی ہمارے پاس معقول حد تک باصلاحیت تعلیم یافتہ طبقہ موجود ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تعلیم یافتہ افراد کی سوچ اور تجزئیے کا ارتعاش پالیسی سازوں کو متاثر کرنے میں کیوں ناکام رہتا ہے؟جب ہم معاملات کا فہم رکھتے ہیں تو ہماری ترجیحات اتنی خراب کیوں ہیں؟ہمارا حکمران طبقہ اتناکج فہم کیوں ہے؟ پارلیمان سمیت، ہمارے سیاسی فورم خیالات سے تہی داماں کیوں ہیں؟ اگر آپ قومی اسمبلی یا سینیٹ کے کسی بھی اجلاس میں جائیں تو آپ کو یہ دیکھ کر سخت مایوسی ہوگی کہ وہاں کس قدر بے مقصد معاملات میں وقت ضائع کردیا جاتا ہے۔ چنانچہ عملی دنیا اور سوچ سمجھ رکھنے والے افراد میں تفاوت کی لکیر بہت گہری ہے۔ ایک طبقے کو معاملات کی فہم ہے لیکن حکمران طبقہ اس فہم سے عاری ہے۔ میں نہیں جانتا ہے کہ خلیج کو کیسے پُر کیا جائے گا لیکن اگر ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایسا کرنا ہوگا۔ بہت سے افراد سے باتیں کریں تو اندازہ ہوتا کہ وہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے بارے میں معقول باتیں کرتے ہیں لیکن جب ہمارے بااختیار افراد اے پی سی بلاتے ہیں تو حماقتوں کا پلندہ قوم کے سامنے لاتے ہیں۔ اسے دیکھتے ہوئے انسان سوچ میں پڑجاتا ہے کہ اگر یہ افراد ہمارے محافظ ہیں تو پھر ہمیں مایوسی کی چارد اوڑھ لینی چاہئے۔کسی بھی کالج کے انڈر گریجویٹ ان سے بہتر نتیجہ نکال سکتے ہیں۔
میں یہ بھی نشاندہی کر چکا ہوں کہ ہمارے ہاں فن اور میوزک میں بہت اچھا کام ہورہا ہے۔ درحقیقت ہمارے نوجوان بے انتہا باصلاحیت ہیں اور باصلاحیت نوجوانوں کی قوم تباہی کا شکار نہیں ہو سکتی ہے لیکن ایک مرتبہ پھر وہی سوال دہراتا ہوں کہ ان باصلاحیت نوجوانوں کی سوچ اور تخلیقی صلاحیتیں قوم کی زمام ِ اختیار تھامنے والے ہاتھوں پر اثر انداز کیوں نہیں ہو رہی؟ ایسا کیوں ہے کہ ہمارے کچھ گلوکار بہت اچھا گاتے ہیں لیکن ہمارے رہنما اتنے بے صبر کیوں ہوتے ہیں؟ ملالہ یوسف زئی جیسی چھوٹی سے لڑکی وائٹ ہائوس میں بہت اعتماد سے باتیں کرتی ہے لیکن ہمارے رہنما... نام لینے کی ضرورت نہیں ہے.... وہاں قدم رکھتے ہوئے بدحواسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کی کچھ تو وضاحت ہونی چاہئے۔ میں اپنے ایڈیٹر پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا لیکن لگے ہاتھوں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے کچھ مشروب ساز ادارے بھی بہت عمدہ ’’مال‘‘ تیارکررہے ہیں۔ اگر ہمارے حکمران اور کچھ نہیں کرسکتے تو یوٹیوب پر پابندی ہی اٹھا دیں۔ کچھ تو کریں کہ حکمرانی کا تاثر مل سکے!
پس ِ تحریر:میں نے ایک مرتبہ ایک جانے پہچانے صحافی کا حوالہ دیا تھا کہ وہ غازی علم دین شہید کے حوالے سے تحریک ِ آزادی کا نیا باب رقم کرنے کی کوشش میں ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ بات ان کے دل سے ابھی تک نہیں نکلی ہے کیونکہ اُنہوں نے اپنے گزشتہ مضمون میں مجھ پر ذاتی حملہ کیا ہے۔ میں اپنے دوست صحافی سے کہتا ہوں کہ اپنے آپ کو اتنی اہمیت نہ دیا کریں کیونکہ زندگی ذاتی حملے کرنے اور حساب کتاب برابر کرنے کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *