الطاف حسین کاجماعت اسلامی پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ

Altafمتحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم) کے قائد الطاف حسین نے جماعت اسلامی پر القاعدہ اور طالبان سے روابط کا الزام عائد کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جماعت اور اس کی طلبہ تنطیم اسلامی جمعیت طلبہ پر پابندی عائد کرے۔

ایم کیو ایم کے جنرل ورکرز اجلاس سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے قائد نے جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے حکومت سے ان دونوں جماعتوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے ایم کیو ایم کے الزامات کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے بیانات حقیقت پر مبنی نہیں۔

انہوں نے متحدہ پر بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ کا الزام عائد کرتے کراچی کے عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ خود کو ایم کیو ایم سے علیحدہ کر لیں۔

کارکنوں سے خطاب میں الطاف حسین نے کہا کہ جماعت اسلامی بیرون ملک سازشیوں سے مل کر ملک توڑنے کی سازش کر رہی ہے، حکیم اللہ محسود کا جماعت اسلامی اور سید منور حسن سے قریبی تعلق تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی محسود ہلاک ہوا، دوسرے دن منور حسن نے کہا کہ حکیم اللہ محسود شہید ہے، پاکستانی فوجیوں کو شہید نہیں بلکہ ہلاک کہا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ جماعت کے القاعدہ اور طالبان سے رابطے ہیں اور اس کے کارکن فوجیوں اور رینجرز کے قتل میں بھی ملوث رہے ہیں۔

ایم کیو ایم کے قائد نے کہا کہ کراچی میں گزشتہ روز سنی جبکہ آج شیعہ عالم دین کو ہلاک کردیا گیا مگر دہشت گردوں کو کوئی پکڑنے والا نہیں اور ایم کیو ایم کے کارکنوں کو چن چن کر گرفتار کیا جارہا ہے اور وہ اپنے گھروں میں سو بھی نہیں پارہے۔

الطاف حسین کا کہنا تھا کہ میں ایم کیو ایم میں موجود شرپسندوں کی گرفتاری کے خلاف نہیں لیکن ایک جانب پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت کے لوگوں کو اساتذہ کو زدو کوب کرنے اور کروڑوں روپے مالیت کا سامان نذر آتش کرنے پر بھی باعزت بری کردیا جاتا ہے اور دوسری جانب کراچی میں کارکنوں کو بلاجواز گرفتار کیا جانا درست نہیں، یہ ملک تو ایک ہے لیکن یہاں قانون دو ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ حکومت پاکستان اور عسکری اداروں کے تمام اداروں سے پوچھتے ہیں جو جماعت پاکستان کی مخالف تھی لیکن بدقسمتی سے نجانے کیوں ہمارے عسکری اداروں نے جماعت اسلامی کو اپنی بی ٹیم کیوں بنایا۔

اس موقع پر متحدہ قومی موومنٹ کے قائد نے مزید کہا کہ مہاجروں نے آج تک علیحدگی کا نعرہ نہیں لگایا، میں کوئی سخت الفاظ استعمال نہیں کرنا چاہتا لیکن ناانصافی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت، عسکری ادارے اور خفیہ ایجنسیاں مہاجروں کے ساتھ امتیازی سلوک بند کردیں اور خبردار کیا کہ اگر کارکن ان کے ہاتھ سے نکل گئے اور انہوں نے صبر کا دامن چھوڑ دیا تو پورے ملک کی فوج اور قانون نافذکرنے والے ادارے ناکام ہوجائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی و صوبائی ایجنسیاں اور فوج مہاجروں کےخلاف اقدامات ختم کردیں، ہم حکومت کو بھی کہتے ہیں کہ پولیس اور رینجرز کے ذریعے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے والے راہ راست پر نہ آئے اور اگر کارکنوں کو ایک اشارہ کیا تو وہ گھروں سے نہیں نکل سکیں گے۔

الطاف حسین کا کہنا تھا کہ ہ ملک کے پہلے سیاستدان ہیں جو گزشتہ 10 سال سے دہشت گردوں کے بارے میں اطلاعات دیتے رہے ہیں اور انکشاف کیا کہ نارتھ ناظم آباد اور اس سے ملحقہ علاقوں پر طالبان کا قبضہ ہے جبکہ کلفٹن اور دیگر پوش علاقوں میں بھی یہ لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

انہوں نے میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میڈیا میں طالبان کی ہر بات کو نمایاں کوریج دی جاتی ہے، میڈیا مالکان کو خبروں کی کوریج کا نمایاں حق ہے لیکن میری اپیل ہے کہ جس کا جتنا مینڈیٹ ہو، اسے اسی قدر جگہ دی جائے۔

دوسری جانب ایک علیحدہ بیان میں الطاف حسین نے اہل تشیع رہنما علامہ دیدارحسین جلبانی کے قتل کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ کراچی میں فرقہ وارانہ فساد کی آگ بھڑکانے اورعوام کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی سازش کا حصہ ہے اور عوام سے اپیل کی کہ وہ ان واقعات پر ہرگز مشتعل نہ ہوں بلکہ اپنے اتحاد سے فرقہ وارانہ فساد کی ان سازشوں کو ناکام بنا دیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *