بلوچستان کی اُداس نسلیں!

abid mir”....اپنے مورچوں میں اور دشمن کے مورچوں میں اس نے ہزاروں سپاہی مرتے ہوئے دیکھے تھے۔ کسی کو آسانی کے ساتھ، کسی کو اینٹھ کر مرتے ہوئے ۔ کسی کے چہرے پر سفیدی اور معصومیت ہوتی، کسی پر موت کی نیلاہٹ اور تکلیف۔ کسی کی آنکھیں زندہ آدمی کی طرح جھانکتی ہوتیں، کسی کی اندھے شیشوں کی مانند ماتھے میں جڑی ہوتیں، کسی کی جیب میں خشک راشن اور چند گولیاں ہوتیں، کسی کے پاس بچوں اور خوب صورت لڑکیوں کی تصویریں ہوتیں، کسی کے پاس سیاہ بالوں کے گچھے بہ طور نشانی ہوتے اور ڈائریاں! وہ سب پتھروں پر ،خندقوں میں، برف پر، کیچڑمیں مرے پڑے ہوتے ۔ وقت ہوتا تو وہ کسی نوجوان پُر سکون چہرے کے پاس رکتا، جیبیں ٹٹول کر تصویریں اور خط نکالتا، ان عورتوں کا خیال کرتا جو گاوں کے باہر جوہڑ کے کنارے کھڑی کھڑی اپنے محبوب چہروں کے لیے ترس گئیں ہیں اور نہیں جانتیں کہ ان کے عزیز، خوب صورت ہونٹ سرد کر دیے گئے ہیں اور جسم‘ جنھوں نے بے پناہ خوشی کی راتیں انھیں بخشیں ،ہزاروں میل دُور خاک میں بکھرے پڑے ہیں اور وہ بے کار انتظار کرتی ہیں۔ان کھیتوں کے بارے میں سوچتا جو نوجوان ہاتھوں کے بغیر ویران ہو گئے.... اور آگے بڑھ جاتا، بھول جاتا۔“
یہ کون ہے؟یہ نعیم ہے....نعیم کون؟ .... پختونخوا کے محمد خان کو عبداللہ حسین کی شہرت بخشنے والے ’اداس نسلیں‘ کا ہیرو نعیم....دوسری عالمی جنگ کے میدان میں لٹا پٹا، جنگ زدہ اداس نعیم۔ جنگ کی ہول ناکیوں کو بیان کرتا یہ منظر عبداللہ حسین کے ماسٹر پیس ’ادا س نسلیں‘ کے اولین باب کے دسویں حصے کے آغاز میں بیان ہوا ہے۔ یہ منظر  بارہا پڑھے جانے کا تقاضا کرتا ہے....تاکہ ہم جنگ کی تباہ کاریوں کو محسوس کر سکیں۔ ہم جان سکیں کہ جنگ کیسے انسانی زندگی کو بے وقعت بنا دیتی ہے۔ یہ انسانی ارتقا کے سفر کو روک دیتی ہے، یہ ٹوک دیتی ہے ہمارے خیال کی رفتار کو۔ جنگ، انسان کی اب تک کی کریہہ ترین، بد ترین ایجاد ہے۔ جنگ کے بطن سے ہمیشہ بانجھ نسلیں جنم لیتی ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے قیامت خیز المیے کی منظر کشی خود جاپانی ادیبوں کے قلم سے دیکھنی ہو تو ماسوجی ایبوسے کا ’کالی بارش ‘ پڑھیے، یا پھر برما کی جنگ پہ لکھا گیا ناول’برما کا ستار‘، یا اپنے احمدندیم قاسمی صاحب کا افسانہ ’ممتا‘۔بلکہ جائز طور پراردو صحافت کاضمیر کہے جانے والے ضمیر نیازی صاحب نے جوایٹمی ہتھیاروں کی تباہ کارکیوں کے خلاف لکھے گئے منتخب ادب کو ’زمین کے نوحہ‘کے عنوان سے اکٹھا کیا ہے؛ پڑھتے جائیں، شرماتے جائیں، انسان کی انسان سے بے مقصد جنگوں پہ ‘اور فخر کریں اُن باضمیر اہل قلم پہ جنھوں نے ہمیں جنگ سے نفرت کا درس پڑھایا۔
ہاں‘ جنگیں انقلابی بھی ہوتی ہیں؛ مگر اس کے لیے ذہن بھی لینن جیسا، حکمت ِ عملی ماو¿ جیسی، عمل کاسترو جیسا اور ساتھی چے گویرا جیسا چاہیے۔ جہاں جنگ‘ قومی طبقاتی انقلاب کی بجائے لسانی ، قومیتی حتیٰ کہ قبائلی شاو¿نزم کا روپ دھار لے اورجنگ کے سپاہی محض شطرنج کے مہرے بن کر رہ جائیں، وہاں جنگ پھر محض کاروبار بن جاتی ہے۔ جس کا ریمورٹ کنٹرول کہیں نادیدہ قوتوں کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ ہزاروں سخی جوانوں کے لہو کی اشرفیاں دھرتی کے کشکول میں چھن چھن کرتی گرتی چلی جاتی ہیں، کشکول کو بھرتی چلی جاتی ہیں۔مگر اس کے نتیجے میں محض جنگ کو کاروبار بنانے والی قوتوں کے کشکول ہی بھرتے جاتے ہیں، دھرتی کی کوکھ بانجھ ہوتی چلی جاتی ہے۔ انقلابی جنگیں‘غیر نظریاتی بنیادوں اور مانگے تانگے کے ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتیں۔ عوام کو منظم ،شعوری طور پر مستحکم اور مکمل طور پر شامل کیے بغیر انقلابی جنگ کا آغازہی ممکن نہیں۔ جنگ‘ عوامی انقلاب کی جانب جانے والے ست رنگی رستوں میں سے ایک راستہ ہے‘ اور آخری راستہ ہے، اور بد ترین راستہ ہے۔ اولین، حسین ،بھرپوراورعوامی راستہ تو سیاست ہے؛ جمہور کی سیاست‘ جمہوری سیاست۔ انقلابی جنگیں‘ اسی سیاسی عمل کے تابع ہوتی ہیں۔ جہاں جنگی قوتیں سیاست و دانش سب کو اپنے تابع بنانے پر تل جائیں، وہاں نتیجہ محض تباہی رہ جاتا ہے۔
اس تباہی کے مناظر ایک بار پھر دیکھنے کو اب کے ہماری نسل چنی گئی ہے!
بلوچ کے لیے جنگ میں ایسی رومانویت بھر دی گئی ہے کہ اس سے مراجعت گویا اسے ’نامرد‘ بنا دیتی ہے۔ جنگ کی مخالفت کرنے کے لیے کردار اور کلیجہ بھی مست توکلی جیسا چاہیے جو جاری جنگ میں یہ نعرئہ مستانہ لگاتا ہوا ،بے نیام لہراتی تلوار پھینک کر روانہ ہو جائے کہ،”اچھی نہیں ہیں جنگوں کی بری باتیں!“۔ آج سے دو سو سال پہلے کے خالص قبائلی سماج میں جنگ کی برائی کرنا گویا پورے سماج کو ’آ بیل مجھے مار‘ کی مصداق خود پر کودنے کی دعوت دینے کے مترادف تھا۔مگر وہ باشرف و اعلیٰ ظرف انسانی سماج تھا جس نے مست کے نعرے کو اظہار کی آزادی کے طور پر قبول کیا، اپنی بردار کشی کی جنگی خصلت نہ چھوڑی مگر مست کے مقام و مرتبے پر کوئی حرف نہ اٹھایا۔ اسے دشمنوں کا ایجنٹ اور غدارنہ کہا۔ اسے وطن بدری کا حکم نہ سنایا، قابلِ گرن زدنی قرار نہ دیا۔ شاید اس لیے بھی کہ تب جنگیں محض طاقت کے حصول و اظہار اور کاروبار کا ذریعہ نہ تھیں۔ آج قبائلی اناو¿ں کو، اپنے خود ساختہ اختیار کردہ نظریات کو سماجی ارتقا اور رشتوں پہ مقدم جاننے والے ، اپنے سوا کسی کو اس دھرتی کا وارث تو کیا حصہ ماننے کو بھی تیار نہیں۔ جس کے ہاتھ میں بندوق ہے، ہر قسم کے نظریات اور تشریحات پر اسی کا اجارہ ہے۔ دھرتی کا حقیقی وارث یا تو وہی ہے یا اس کے قصیدے گانے والے۔ سوچنے والے، لکھنے والے محض ایسے ڈوم بن کر رہ گئے ہیں جنھوں نے بہرصورت اہلِ بندوق کی مدح سرائی کرنی ہے؛ خواہ بندوق ریاست سے برسرپیکار مجاہدین کے ہاتھ میں ہو، یا ریاستی سپاہیوں کے کندھوں پر۔دہائیوں سے جاری جنگی تسلسل کے نتائج و عواقب پر سوال اٹھانا، ہر دو قوتوں کے لیے ناقابل قبول ہے۔ سو‘ جنگ جاری ہے، جنگ جاری رہے گی؛ صورتیں بدل بدل کر، شکلیں بدل بدل کر، چولے بدل بدل کر۔
اس خطے میں بلوچستان اور جنگ گویا دو لازم و ملزوم مظاہر بن کر رہ گئے ہیں۔ موجودہ جغرافیے کا حصہ بنتے ہی اَن چاہی تھوپی جنگیں بلوچستان پہ ایسا آسیب بن کر اس سے چمٹ گئی ہیں، کہ ہر ایک عشرے بعد یہ آسیب پھر اس دھرتی کا خون چوسنے آجاتا ہے۔ ابھی ہماری ایک نسل جنگ کے عذاب ناک خواب سے نہیں نکلتی کہ جنگ کا دیو پھر ’آدم بو، آدم بو‘ چلاتا آ نکلتا ہے۔ نوخیز شباب ابھی جوانی کے بہار بھرے گلستاں میں قدم دھرتا ہی ہے کہ جنگ کی خزاں اسے تاراج کر دیتی ہے۔ جوانیاں ابھی مہر و محبت کے خواب بننے ہی لگتی ہیں کہ جنگ کا اژدھا انھیں ان کے خوابوں سمیت نگل جاتا ہے۔ اور پھر اگلے کئی برسوں تک ہماری نسلیں اداس رہتی ہیں، دھرتی کی کوکھ بانجھ رہتی ہے۔
’اداس نسلیں‘ ہی کے نعیم کے ساتھ راہ چلتے ایک بوڑھے نے اسے جنگ کے بطن سے جنمی نسل کا المیہ بتاتے ہوئے کہا تھا،”....اس(جنگ) سے پہلے آئیڈیلز تھے، اگر میں تفصیل سے بیان کروں تو تم کہوگے کہ وہ آوارہ گردی کی زندگی تھی، مگر نہیں؛ وہ محض آوارگی تھی۔یہ بہت بعد میں پتہ چلا، آئیڈیل.... اصل آئیڈیل تو مکمل نارمل حالات میں بنتے ہیں....ہمارے پاس نہ آئیڈیل تھے نہ سیاست، صرف بگڑی ہوئی زندگیاں تھیں اور زہریلے دماغ، جس کا نتیجہ اس بگڑی ہوئی تاریخ میں ظاہر ہوا ہے۔یہ سب....“ اس نے چاروں طرف ہاتھ پھیلایا،”تم تو دیکھ ہی رہے ہو۔ یہ تاریخ کی کون سی شکل ہے؟ یہ وہ نسل ہے جو ایک ملک کی تاریخ میں عرصے کے بعد پیدا ہوتی رہتی ہے۔جس کا کوئی گھر نہیں ہوتا،کوئی خیالات، کوئی نصب العین نہیں ہوتا؛ جو پیدائش کے دن سے اداس ہوتی ہے اور اِدھر سے اُدھر سفر کرتی رہتی ہے۔ ہم ہندوستان کی اس بدقسمت نسل کے بیٹے ہیں۔“
پچھلے ساٹھ برس سے بلوچستان کی نسلیں اس آوارگی کی بھینٹ چڑھی ہوئی ہیں۔ جن کے پاس نہ آئیڈیل رہے نہ سیاست، جن کی زندگیاں بگڑی ہوئی ہیں اور دماغ زہریلے، جس کا نتیجہ بگڑی ہوئی تاریخ کی صورت ظاہر ہو رہا ہے۔اس کی اکیسویں صدی کی اولین دہائی پہ کھڑی یہ وہ بھٹکی ہوئی نسل ہے جس کا کوئی گھر نہیں، کوئی خیالات کوئی نصب العین نہیں، جو پیدائش کے دن سے اداس ہے،اور اِدھر سے اُدھر سفر کر رہی ہے....اس نسل کا بدقسمتی سے بچ جانے والا کوئی بھی سوچنے والا فرد برسوں بعد کسی نعیم کو راہ چلتے بتا رہا ہو گا؛”....ہم بلوچستان کی اس بدقسمت نسل کے بیٹے ہیں!“
اس انجام سے بچنا ہے تو سبھی سوچنے والوں، لکھنے والوں، بولنے والوں کو اپنا نصیب بدلنا ہو گا، اس دھرتی کا روپ بدلنا ہو گا!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *