عالمی رہنما نیلسن منڈیلا دنیا سے رخصت ہو گئے

mandelaرنگ و نسل پرستی کے خلاف جنوبی افریقہ میں طویل جدوجہد کرنے والے قابل احترام رہنما اور بیسویں صدی کی ایک قد آور سیاسی شخصیت نیلسن مینڈیلا پچانوے برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

تقریباً تین دہائیاں قیدوبند کی صعوبتیں جھیلنے کے بعد نیلسن مینڈیلا جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوئے تھے۔ ان کا تین مہینے تک ہسپتال میں پھیپھڑوں کے انفیکشن کا علاج ہوا اور وہ ستمبر سے انہیں گھر منتقل کردیا گیا تھا، جہاں ان کی دیکھ بھال اور علاج جاری تھا۔

مینڈیلا کے گھر والوں نے ان کے بارے میں کہنا ہے کہ ان کی حالت بگڑتی جارہی تھی اور پھیپھڑے کے انفیکشن میں پیچیدگیاں پیدا ہونے کے باعث ان کا انتقال ہوگیا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نیلسن مینڈیلا کے انتقال کا اعلان جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے خود ٹیلی ویژن پر براہِ راست کیا، وہ یہ اطلاع دیتے ہوئے رو رہے تھے، انہوں نے کہا کہ منڈیلا ہمیں چھوڑ کر جاچکے ہیں، اب وہ امن میں ہیں۔

جیکب زوما نے کہا ”ہماری قوم نے اپنے عظیم فرزند کو کھو دیا ہے۔“

انہوں نے کہا ”جنوبی افریقہ کے دوستو! نیلسن منڈیلا نے ہمیں متحد کیا اور ہم سب ساتھ مل کر انہیں الوداع کریں گے۔ تب تک ہمارا قومی پرچم سرنگوں رہے گا ۔“

نیلسن منڈیلا دنیا کے بہترین سیاستدانوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ انہوں نے جنوبی افریقہ میں نسل پرست حکومت کی جگہ ایک جمہوری حکومت کے قیام کے لیے طویل جدوجہد کی اور اس کی خاطر انہیں 27 سال جیل میں گزارنے پڑے۔

ملک کے پہلے سیاہ فام صدر کا عہدہ سنبھالتے ہوئے انہوں نے کئی دیگر کوششوں کے ساتھ ساتھ امن کی بحالی کو اولیت دی اور اس ضمن میں اہم کردار ادا کیا ۔ انہیں 1993 میں نوبل امن انعام سے بھی نوازا گیا۔

منڈیلا کے انتقال پر دنیا بھر کے موجودہ اور سابق رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا اور اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *