دلکشا تعبیریں

38290933_1342093801.gifالطاف حسن قریشی

ایک زمانے میں حکومتیں اپنا امیج سنوارنے اور اپنے فرضی کارنامے بیان کرنے کے لیے تقریبات کا اہتمام کرتی تھیں۔ صدر ایوب خاں اِس مقصد کے لیے ایک پورا محکمہ وجود میں لائے جس کا نام ’’تعمیر نو بیورو‘‘ رکھا گیا اور تمام بڑے شہروں میں اِس کے مراکز قائم ہوئے تھے۔ یہ سلسلہ جنرل ضیاء الحق کے دور تک کسی نہ کسی شکل میں چلتا رہا جو غالباً نوازشریف کے دورِ حکومت میں اختتام کو پہنچا۔ وزیراعظم نوازشریف کا ماٹو یہ تھا کہ وہ باتوں کے بجائے عمل پر یقین رکھتے ہیں۔ جنرل مشرف جب اُن کی حکومت کا تختہ اُلٹ کر اور اُنہیں کال کوٹھڑی میں بند کر کے برسرِاقتدار آئے تو اُنہوں نے ’’تعمیرنو‘‘ کا فلسفہ بھگارنا شروع کر دیا اور تمام قومی اداروں کے نقش و نگار بگاڑنے کا عمل ایک عشرے تک جاری رہا۔ کچھ یوں محسوس ہوتا ہے کہ تمام فوجی آمروں میں ایک بات مشترک تھی کہ ’’تعمیر نو‘‘ کے نام پر جمے جمائے ادارے اتھل پتھل کر دیے جائیں اور جنگل کے قانون کو تقویت پہنچائی جائے۔ اُن کی طرف سے منعقدہ تقریبات میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جاتے اور اُن کا ماحصل ڈراؤنے خواب کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا تھا۔
ایک طویل عرصے بعد ہمیں گزشتہ ہفتوں میں ایسی تقریبات میں شامل ہونے کا اتفاق ہوا جن کے مناظر بھی ایقان افروز تھے اور گفتگو بھی دل میں اُتر جانے والی تھی۔ آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں ، اِس میں ابتری اور افراتفری اِس قدر مہیب اور ہولناک صورت اختیار کر گئی ہے کہ اعتماد و یقین کا دامن بار بار ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔ اب نہایت سنجیدہ لوگ بھی مولانا ابوالکلام آزاد کے اِس انٹرویو کو غوروفکر کا موضوع بنانے لگے ہیں جو جناب شورش کاشمیری نے 1946ء میں لیا تھا جس میں پاکستان کے فلسفے اور مقاصد کی سخت مخالفت کی گئی تھی۔تب مسلمانوں کی عظیم اکثریت نے اُن کے اندازِ فکر کو مسترد کرتے ہوئے جداگانہ وطن کے لیے قائداعظم کی قیادت میں تاریخ ساز جدوجہد کی تھی۔ مولانا نے یہ انٹرویو اِس وقت دیا جب کانگریس کے صدر پنڈت نہرو نے کیبنٹ مشن کا فارمولا بڑی عیاری سے نامنظور کر دیا تھا جس میں ہندو اور مسلمانوں کے لیے علیحدہ علیحدہ منطقے تجویز کیے گئے تھے اور ایک نیم وفاقی نظامِ حکومت میں دونوں قوموں کے ایک ساتھ رہنے کے لیے مواقع فراہم کیے گئے تھے۔ پورے ہندوستان میں ہندو مسلم فسادات کی آگ بھڑکانے والا برہمن سامراج بے نقاب ہو چکا تھا اور پاکستان مسلمانوں کے لیے ناگزیر ہو گیا۔
اب ملک میں ایک طرف بے یقینی کی فضا پیدا کی جا رہی ہے جس میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کا منفی کردارسب سے زیادہ ہے۔ دوسری طرف ایک عظیم الشان مستقبل کی تعمیر کے آثار نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ 22نومبر کی صبح تھی اور جمعے کا مبارک دن۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے جناح کنونشن ہال میں وژن 2025ء کانفرنس کا اہتمام کیا تھا۔ اِس میں وہ پندرہ سو افراد مدعو کیے گئے تھے جو تعمیر وطن میں بنیادی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ گزشتہ جمعے کو عاشورہ کے دن راولپنڈی میں ایک سانحہ پیش آیا تھا اور ڈر تھا کہ حالات کی سنگینی کے سبب اچھی خاصی تعداد اسلام آباد آنے سے گریز کرے گی لیکن جب میں جناب سجاد میر ، جناب رؤف طاہر اور جناب سکندر حمید لودھی کے ہمراہ ہال میں داخل ہوا تو ایک چمن کہکشاں کھلا ہوا تھا۔ شاداب جذبوں سے سرشار نوجوان لڑکے لڑکیاں اور اپنی پیشانی پر طویل تجربوں کے شکنیں سجائے ماہرین کشاں کشاں چلے آرہے تھے۔ وزیرِ موصوف نے اِس تقریب کو پورے وفاق کی نمائندگی کا شرف دینے کے لیے جناب وزیراعظم کے علاوہ چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ اور آزاد جموںوکشمیر کے وزیراعظم بھی مدعو کیے تھے۔ اُنہوں نے اپنے خیرمقدمی کلمات میں اِس حقیقت کا اعادہ کیا کہ اُن کی حکومت نے فروری 1999ء میں 2010ء کا وژن پیش کیا تھا۔ اِس پر اگر عمل درآمد ہو جاتا اور سیاسی عمل کا تسلسل جاری رہتا تو آج پاکستان نئی رفعتوں کو چھو چکا ہوتا۔ ہم نے ایک بار پھر ایسے افراد کو یہاں آنے کی دعوت دی ہے جو 2025ء کے وژن میں حقیقت کا رنگ بھر سکتے ہیں۔ وہ کہہ رہے تھے کہ پاکستان کو شکوک و شبہات کے اندھیروں سے یقینِ محکم کے اجالوں تک لانے کے لیے ہمیں اب روزانہ سولہ گھنٹے کام کرنا ہو گا۔ اُن کی باتوں سے اعتماد کی خوشبو پھیل رہی تھی۔وزیراعظم نوازشریف جنہوں نے فی البدیہہ تقریر کرنے میں خاص کمال حاصل کر لیا ہے ، اُن کا خطاب حددرجہ شگفتہ اور بے ساختہ تھا۔ یوں لگا وہ ابھی ابھی جناب حسین احمد شیرازی کی چلبلی اور فکر انگیز کتاب ’’بابو نگر‘‘ پڑھ کے آئے ہیں۔ اُنہوں نے بڑی بے تکلفی سے اعتراف کیا کہ ماضی میں اُنہوں نے سردار اختر مینگل کی حکومت برطرف کر کے بہت بڑی غلطی کی تھی اور اب وہ اِس کا کفارہ ادا کر رہے ہیں۔ یہ بھی اعتراف کیا کہ دہشت گردی کی وجہ سے باہر کے ملکوں میں ہمارا کڑا احتساب ہوتا ہے۔ وہ پُرعزم تھے کہ ہمیں قدرت نے جن بیش بہا وسائل سے مالامال کیا ہے ،ہم اُنہیں صحیح استعمال کر کے خودانحصاری کی منزل حاصل کر کے دم لیں گے۔ ہماری افرادی قوت پوری دنیا میں سب سے زیادہ جفا کش اور ایثار پیشہ ہے ، ہم اُس کی ترقی پر خاص توجہ دیں گے اور پاکستان کو روشن خیال ، خوش حال اور مستحکم بنائیں گے۔ جناب وزیراعظم کا ایک ایک لفظ ایک تابندہ مستقبل اور ایک اچھی حکمرانی کا نقیب تھا۔
27نومبر میری زندگی میں ہمیشہ یاد رہے گا کہ اِس روز ہم نے ایک خطے کا کلچر تبدیل اور معجزات تخلیق ہوتے دیکھے۔ کم عمر سرگودھا یونیورسٹی جس کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اکرم چوہدری ہیں ،اُنہوں نے چھ سال کی قلیل مدت میں علم و تحقیق اور افتراعات و ایجادات میں حیرت انگیز کامرانیاں حاصل کی ہیںاور عملی طور پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ یونیورسٹی علم کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ معاشرے کی سماجی اور معاشی زندگی میں بھی حیرت انگیز تبدیلیاں لا سکتی ہے۔ ڈاکٹر اکرم چودھری جنہیں قدرت نے چشمِ بینا اور مستقبل کی صورت گری کی بصیرت عطا کی ہے ، اُنہوں نے یونیورسٹی کا وژن یکسر تبدیل کر دیا ہے اور وہ طلبہ و طالبات کو ڈگریوں کے علاوہ ہنر کی تربیت بھی دے رہے ہیں۔ اُن کی طرف سے ہمیں یومِ اقبال پر آنے کی دعوت ملی جس میں شرکت کے لیے ڈاکٹر جاوید اقبال اور محترمہ ناصرہ جاوید بھی آئی تھیں اور کوئی آٹھ دس ہزار طلبہ و طالبات نے مثالی نظم و ضبط کے ساتھ ہمارا خیر مقدم کیا اور دل باغ باغ ہو گیا۔ یونیورسٹی علم کا گہوارہ ہے جس میں 23ہزار طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور اعلیٰ پائے کے سائنس دان تجربہ گاہوں میں بڑے انہماک سے مستقبل پر کمند ڈال رہے ہیں۔
دوسری رات میں جب گھر آتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی کیمپس سے گزرا ، توپولیس کی بھاری نفری اور ٹی وی چینلز کی گاڑیاں دیکھیں۔ معلوم ہوا کہ اندر آپریشن ہو رہا ہے۔ اِس یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر مجاہد کامران کو بھی چھ سال ہوئے ہیں ،مگر یہاں کے حالات میں ایک تلاطم سا پایا جاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ وائس چانسلر پولیس کو یونیورسٹی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے تھے جبکہ اب اُسے خود بلایا جاتا ہے۔میں دل ہی دل میں سرگودھا اور پنجاب یونیورسٹی کے درمیان تقابل کرتا اور یہ دعا مانگتا رہا کہ جناب پروفیسر مجاہد کامران ایک شفیق اور عقل مند باپ کا کردار ادا کریں تاکہ پاکستان کی قدیم ترین دانش گاہ میں علمی ماحول پرورش پائے۔ ہمارے خوابوں کی یہی دلکشا تعبیر ہو گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *