اقبال اور ملا ئے مکتب

hakeemخلیفہ عبدالحکیم
مسلمانوں کی علمی پسماندگی پر علامہ اقبال کا دل کڑھتا تھا اور مسلمانوں کی علمی نشاة ثانیہ ان کا سب سے بڑا خواب تھا۔ پاکستان اسی خواب کا ایک تسلسل تھا۔ ”اسلامی فکر کی تنظیم نو“ کے موضوع پر دیے گئے ان کے مشہور زمانہ لیکچر یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ اجتہاد کے زبردست حامی تھے اور مسلمانوں کو جدید علوم میں ترقی کرتا دیکھنا چاہتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اسلام کو روشن خیال اور جمہوری مذہب کہتے تھے اور قدامت پرست مذہبی سوچ کو اسلامی روح کی نفی قرار دیتے تھے۔ ان کے ایک قریبی ساتھی خلیفہ عبدالحکیم نے ”فکر اقبال“ کے ایک باب ”اقبال اور ملا“ میں ان کے کچھ خیالات بیان کیے۔خلیفہ عبدالحکیم کے چند اقتباسات پیش ہیں ....

”ملا اگر شریعت کا پابند ہوتا ، گو اس کی روح سے پوری طرح آشانہ نہ بھی ہوتا، تو بھی اقبال کے دل میں ملانیت کے خلاف اس قدر حقارت کا جذبہ پیدا نہ ہوتا۔ لیکن وہ دیکھتا تھا کہ ملا شریعت میں بھی فقط ان باتوں کی ظاہری پابندی کرتا ہے جن میں اس کو کچھ مادی نقصان کا اندیشہ نہ ہو لیکن اگر اپنے مفاد پر زد پڑتی ہو تو پھر شریعت کے احکام کو بھی یا تو نظر انداز کر دیتا ہے یا ان کی حسب منشا تاویل کر لیتا ہے۔ سیرت صحابہ میں ان کی نظر جوہر اخلاق پر نہیں پڑتی بلکہ ان بحثوں میں پڑ کر دین میں تفرقہ اندازی کرتے ہیں کہ صحافیوں میں کون افضل تھا اور کون کمتر۔ ایسے لوگوں پر دین کی روح کبھی آشکار نہیں ہو سکتی۔“

”عوام میں جس قدر جہالت ہوتی ہے۔ اسی قدر وہ اس طبقے کی کج اندیشی اور رہزنی کا شکار ہوتے ہیں۔ جو ملا زیادہ اقتدار پسند ہوتا ہے، وہ زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ وہ عوام کی جہالت کو اپنی قوت میں تبدیل کر کے جاہ و مال کا طالب ہوتا ہے۔ بقول اقبال ایسا ملا ہنگامہ محشر پیدا کر سکتا ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ میں جابجا اس کی مثالیں ملیں گی لیکن اس کے ثبوت کے لیے تاریخ کے اوراق پلٹنے کی ضرورت نہیں۔ دور حاضر میں بھی اس کے مظاہرے عبرت آموز طریقے سے آنکھوں کے سامنے آئے ہیں۔“

”علامہ اقبال ایک روز مجھ سے فرمانے لگے کہ اکثر پیشہ ور ملا عملاً اسلام کے منکر، اس کی شریعت سے منحرف اور مادہ پرست ہوتے ہیں۔ فرمایا کہ ایک مقدمہ کے سلسلے میں ایک مولوی صاحب میرے پاس اکثر آتے تھے۔ مقدمے کی باتوں کے ساتھ ساتھ ہر وقت یہ تلقین ضرور کرتے تھے کہ دیکھئے ڈاکٹر صاحب آپ بھی عالم دین ہیں اور اسلام کی بابت نہایت لطیف باتیں کرتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ آپ کی شمل مسلمانوں کی سی نہیں آپ کے چہرے پر داڑھی نہیں۔ میں اکثر ٹال کر کہہ دیتا کہ ہاں مولوی صاحب آپ سچ فرماتے ہیں۔ یہ ایک کوتاہی ہے۔ علاوہ اور کوتاہیوں کے۔ ایک روز مولوی صاحب نے تلقین میں ذرا شدت برتی تو میں نے عرض کیا کہ مولوی صاحب آپ کے وعظ سے متاثر ہو کر ہم نے آج ایک فیصلہ کیا ہے۔ آپ میرے پاس اس مقدمے کے سلسلے میں آتے ہیں کہ آپ باپ کے ترکے میں سے ایک بہن کو زمین کا حصہ نہیں دینا چاہتے اور کہتے ہیں کہ آپ کے ہاں شریعت کے مطابق نہیں بلکہ رواج کے مطابق ترکہ تسلیم ہوتا ہے اور انگریزی عدالتوں نے اس کو تسلیم کر لیا ہے۔ میری بے ریشی کو بھی دینی کوتاہی سمجھ لیجئے، لیکن رواج کے مقابلے میں شریعت کو بالائے طاق رکھ دینا اس سے کہیں زیادہ گناہ گاری ہے۔ میں نے آج یہ عہد کیا ہے کہ آپ بہن کو شرعی حصہ دے دیں اور میں داڑی بڑھا لیتا ہوں۔ لائیے ہاتھ، آپ کی بدولت ہماری بھی آج اصلاح ہو جائے۔ اس پر مولوی صاحب دم بخود ہو گئے اور میری طرف ہاتھ نہ بڑھ سکا۔“

”ملائی فقہ کی نسبت اقبال کی کیا رائے تھی، اس کے متعلق ایک اور واقعہ سُن لیجئے جو میرے سامنے پیش آیا۔ میں علامہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک بیرسٹر صاحب تشریف لائے جو پہلے ہندو تھے اور اب کچھ عرصہ سے اپنے مطالعہ کی بدولت انھوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ بیرسٹر صاحب نے کہا کہ میں ایک بڑی مشکل میں مبتلا ہوں۔ آپ اس کا کوئی حل مجھے بتائیے کہا کہ میں بیوی بچوں والا ہوں۔ بیوی بہت اچھی ہے، نیک ہے، فرمانبردار ہے لیکن ہندو ہے۔ ابھی اسلام کی اس کو سمجھ نہیں۔ میرے ذہنی انقلاب کی وجہ سے اس کا فوراً مسلمان ہو جانا دشوار ہے اور میں ایسا تقاضا بھی نہیں کر سکتا کیونکہ اس سے گھر کی پُرامن فضا میں فساد پیدا ہو جائے گا۔ بچوں پر بھی اس کا اثر پڑے گا۔ تمام مولوی صاحب جن سے میں نے پوچھا ہے وہ کہتے ہیں کہ اب وہ تم پر حرام ہو گئی ہے، اس کو الگ کر دو۔ اقبال نے کہا کہ دیکھو ہرگز ایسا نہ کرنا وہ بیوی تمہارے لیے بالکل جائز اور حلال ہے۔ تم بدستور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو بلکہ پہلے سے بہتر سلوک کرو تاکہ اس کو معلوم ہو کہ مسلمان ہونے سے آدمی زیادہ بہتر انسان ہو جاتا ہے۔ اب تم کسی مولوی سے نہ پوچھنا میں نے جو کچھ تمہیں کیا ہے، وہ عین اسلام ہے۔ خواہ کسی فقہ کی کتاب میں درج نہ ہو۔ اب اقبال اگر اس وقت زندہ ہوتے تو ان کے ایسے پیشوایان دین سے واسطہ پڑتا اور ٹکر لینی پڑتی جنھوں نے فتویٰ دے دیا کہ مسلمان میاں بیوی میں سے اگر ایک پاکستان میں آ جائے اور دوسرا فریق کسی مجبوری سے ہندوستان میں رہ جائے تو طلاق لازمی ہے اور کنبے کے ادھر اور ادھر تقسیم ہو جانے سے ورثے میں بھی حصہ سوخت ہو جانا چاہیے۔ ملائی فقہ کو اسلام مان لینے سے ان ہندو بیرسٹر کے گھر پر کیا فساد اور انتشار پیدا ہوتا۔ ملا بھی شریعت کے معاملے میں عجب حال ہے۔ ہندو ماﺅں کے بیٹے جب شہنشاہ ہو جاتے تھے تو یہی ملا خطیب بن کر مسجدوں سے ان کے نام کا خطبہ پڑھتے تھے اور انھیں ظل اللہ قرار دیتے۔ اس وقت کسی کو جرات نہ ہوتی تھی کہ اس مسئلہ پر اپنی فقہ پیش کرے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *