فقیر کیا کہتا ہے؟

سرفراز شاہ صاحب کا ذکر سب سے پہلے میں نے اپنے ایک دوست کی زبانی سنا، میرا یہ دوست روحانیت کا بے حد قائل ہے، ہم گاڑ ی میں اکٹھے سفر کر رہے تھے، سرما کی رت ابھی شروع ہوئی تھی اور لاہور کا موسم ایسا تھا گویا کسی حسینہ نے یکدم چہرے سے نقاب الٹ دیا ہو۔ ایسے ماحول میں نہ جانے کس وقت گفتگو کا رخ تصوف کی جانب مڑ گیا اور میرے دوست نے اس وقت کا قصہ چھیڑ دیا جب اس yasir pirzadaکی ملاقات سرفراز شاہ صاحب سے ہوئی تھی، ان دنوں میرا یہ دوست صحافتی کیریئر میں نام بنانے کی کوشش میں تھا، دفتری حسد اور رقابت نے نوکری اور زندگی دونوں اجیرن کر رکھی تھیں، ایک لمحہ تو ایسا بھی آیا جب میرے دوست نے فیصلہ کر لیا کہ نوکری چھوڑ چھاڑ کر جنگلوں میں نکل جائے اور باقی زندگی کسی پیڑ سے لٹک کر گزار دے، مگر کرنا خدا کا کرنا یہ ہوا کہ اسے کسی دوسرے اخبار سے نسبتاً بہتر ملازمت کی پیشکش ہو گئی، اس سے پہلے کہ وہ استعفیٰ دے کر دوسرا اخبار جوائن کرتا، شاہ صاحب نے اسے مشورہ دیا کہ نوکری چھوڑنے کی ضرورت نہیں، خدا نے چاہا تو اسی اخبار میں حالات بہتر ہو جائیں گے، اور پھر خدا کا کرنا یہ ہوا کہ جو لوگ میرے دوست کے خلاف سازشیں کرتے تھے انہوں نے وہ اخبار چھوڑ دیا، دوست کو ان کی جگہ مل گئی اور چند ہی ماہ میں اس کے مضامین اسی اخبار میں ایسے چھپنا شروع ہو گئے جیسے اس کی خواہش تھی۔ اپنا تجربہ بیان کرنے کے بعد میرے دوست نے اصرار کیا کہ میں بھی شاہ صاحب سے کم از کم ایک مرتبہ ملاقات ضرور کروں، سست الوجودیت کا عالمی ریکارڈ چونکہ خاکسار کے پاس ہے اس لئے تقریباً ڈھائی برس بعد میں نے شاہ صاحب سے ملنے کا پروگرام بنایا۔
سرفراز شاہ صاحب سے میری ملاقاتیں بہت دلچسپ رہیں، وہ کمال شفقت اور محبت سے پیش آئے، ان کے چہرے کی عاجزانہ مسکراہٹ دل موہ لینے والی ہوتی، باتوں کا انداز ایسا کہ آپ گھنٹوں سوال کرتے رہیں اور شاہ صاحب عاجزی سے جواب دیتے رہیں گے، پارسائی کا غرور نام کو نہیں اور تصوف کا رعب جمانے کا شوق نہیں۔ میں نے قبلہ شاہ صاحب سے روحانیت اور تصوف سے متعلق وہ تمام سوالات پوچھے جو ان دنوں میرے دماغ میں کلبلاتے تھے، آپ نے پوری توجہ اور اطمینان سے ان کا جواب دیا مگر کہیں بھی یہ تاثر نہیں دیا کہ ان کی کہی ہوئی بات حتمی ہے، ہر مرتبہ آپ کے لہجے میں پہلے سے بڑھ کر انکساری ہوتی، ایک صوفی کا یہی وصف ہے۔ اس دوران مجھے شاہ صاحب کی دو کتابیں ’’کہے فقیر‘‘ اور ’’فقیر رنگ‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ یہی اس قصے کا ٹرننگ پوائنٹ ہے۔ ’’فقیر رنگ‘‘ میں سرفراز شاہ صاحب لکھتے ہیں:
’’بہت سے اولیا کرام سے یہ جاننے کے بعد مجھے اپنے مرشد صاحب (سید یعقوب علی شاہ) کے ولی اللہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ میں نے انہیں کبھی نماز پڑھتے نہ دیکھا۔ البتہ دو چیزوں میں میں نے انہیں بہت particularپایا…ایک جمعہ کی نماز اور دوسرا روزہ… ایک بار بہت بیمار تھے اس قدر کہ ہل جل نہ سکتے تھے۔ تب جمعہ کی نماز نہ پڑھ سکے لیکن میں نے انہیں ہفتے بھر روتے دیکھا۔ ہر دو منٹ بعد رونے لگتے کہ میری جمعہ کی نماز رہ گئی۔ لیکن میں نے انہیں کبھی نماز پنجگانہ ادا کرتے نہیں دیکھا۔ حیرت تو مجھے اس روز ہوئی جب ایک مرتبہ اسلام آباد منسٹری میں کانفرنس سے فارغ ہو کر میں آ رہا تھا۔ مرشد صاحب بھی ہمراہ تھے۔ راستے میں مغرب کی اذان ہوئی تو وہاں موجود ایک دوست کی فیکٹری میں ٹھہر کر نماز ادا کرنے کا ارادہ کیا۔ دوست نے کہا ’’شاہ صاحب! آپ امامت کرایئے۔‘‘ میں نے جواب دیا ’’آپ ایک گناہ گار کی اقتدا میں نماز پڑھ سکتے ہیں تو بسم اللہ۔‘‘ جب جماعت کھڑی ہونے لگی تو وہ صاحب بولے ’’آپ کے مرشد صاحب گاڑی میں بیٹھے ہیں، انہیں بھی لے آؤں۔‘‘ میں نے کہا ’’لے آیئے۔‘‘ وہ صاحب واپس آئے اور بولے ’’بڑے شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے تو نماز پڑھ لی ہے۔‘‘ اب یہ تو ممکن نہ تھا کہ انہوں نے نماز نہ پڑھی ہو اور فرمائیں کہ میں نےتو نماز پڑھ لی ہے کیونکہ ان میں اتنی اخلاقی جرات تو تھی کہ نماز نہ پڑھی ہو تو اس کا اعتراف کر سکیں۔ مرشد صاحب کا یہ کہنا کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے یہ وہ عقدہ ہے جو آج تک میں خود بھی حل نہیں کر سکا۔ میرے مرشد ہی نہیں بہت سے اولیاء اللہ جو زندگی میں ہمیشہ نماز کے پابند رہے لیکن پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ نماز پڑھتے دکھائی نہ دیئے۔ میں خود یہ عقدہ حل کرنے کی کوشش میں ہوں کہ آخر یہ کون سا مقام ہے جہاں پہنچ پر اولیاء اللہ نماز پڑھتے دکھائی نہیں دیتے۔ میں تو بس اس قدر جانتا ہوں کہ نماز تو خود آپ ﷺنے ترک نہیں کی تو پھر آپ ﷺکی سنت پر عمل کرنے والے اولیاء اللہ نماز ترک یا موخر کیسے کر سکتے ہیں۔‘‘
شاہ صاحب نے آخر میں وہی بات خود لکھ دی جو میں اکثر تصوف کا دعویٰ کرنے والوں سے پوچھتا ہوں، تصوف کی راہ کے مسافر کے لئے پہلی شرط شریعت کی پاسداری ہے، حضرت داتا علی ہجویریؒ سمیت تمام اولیا کرام کا اس پر اتفاق ہے، یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی شخص صوفی ہونے کا دعویدار ہو اور شریعت کے احکامات کا پابند نہ ہو، اور نماز تو شریعت کا پہلا حکم ہے۔ ایک شخص مرشد کیسے ہو سکتا ہے جب وہ نماز ہی نہ پڑھتا ہو؟ عام مسلمان سے لے کر نبیﷺ تک کسی کو نماز سے استثنیٰ حاصل نہیں تو پھر کیا یہ کوئی نیا دین ہے جو معرض وجود میں آیا ہے جس میں نماز کی چھوٹ خودبخود حاصل کر لی گئی ہے؟ یہ درست ہے کہ تصوف کے پیروکار امن پسندی، بھائی چارے اور خدا ترسی کا پیغام دیتے ہیں، بھلا اس میں کیا قابل اعتراض بات ہو سکتی ہے! اعتراض وہاں اٹھتا ہے جب یہ لوگ مذہب کی وہ تعبیر بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی سند قرآن اور سنت سے نہیں ملتی وگرنہ دنیا میں امن کا پیغام پھیلانے والے تو بہت سے لوگ ہیں جن کی دنیا قدر کرتی ہے۔ اعتراض وہاں اٹھتا ہے جہاں لوگوں کو عقلی استدلال کی بجائے کرامتوں کے قصے سنا کر متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی سنا دیا جاتا ہے کہ اس کا ثبوت نہیں مانگنا، بس یقین کر لو۔ اعتراض وہاں اٹھتا ہے جب یہ لوگ اسلام کو بنیاد بنا کر ایک نظرئیے کا پرچار کرتے ہیں مگر اس نظرئیے کی حقانیت کی کوئی دلیل اسلام سے لانے کی بجائے اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ فقط ان کے کہے ہوئے کو سچ مان لیا جائے۔ اور اگر کوئی اس ضمن میں سوال کرے تو یہ کہہ کر چپ کروا دیا جائے کہ تم دنیا داروں کو وہ باتیں سمجھائی ہی نہیں جا سکتیں، ایسے علم کا کیا فائدہ جو ایک عام آدمی تک پہنچ ہی نہ سکے۔ اعتراض وہاں اٹھتا ہے جب اس نظرئیے کے دعویدار، عوام اور خواص کے لئے مذہب کی علیحدہ راہیں بتا کر دین میں بھی ایک elite طبقہ پیدا کر دیتے ہیں (ملاحظہ ہو شاہ ولی اللہ کی’’حجت اللہ البلاغہ‘‘، ’’فیاض الحرمین‘‘ اور ’’انفاس العارفین‘‘ وغیرہ)۔ میں تو ان معاملات میں طفل مکتب ہوں، کیا کوئی ولی کامل ہے جو ان گتھیوں کو سلجھا سکے؟

فقیر کیا کہتا ہے؟” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *