طلاق اور افواہیں !

tariqجب صحیح معلومات نہ ہوں تو پھر افواہیں جنم لیتی ہیں ۔ یعنی جتنے منہ اتنی باتیں۔ ایک پرنٹ میڈیا اور دوسرے الیکٹرانک میڈیا کیا کم تھا جو سوشل میڈیا بھی ظہور پذیر ہو چکا۔ چنانچہ منہ بھی بے شمار اور افواہیں بھی بے شمار اور اس طوفان بدتمیزی کا سلسلہ تبھی رکے گا جب صحیح منہ سے صحیح معلومات سامنے آئیں گی۔ اب تک کی تمام افواہوں کو اگر اکٹھا کیا جائے تو ایک عجیب احمقانہ صورت حال سامنے آتی ہے بلکہ احمقانہ سے بھی زیادہ بچگانہ، یعنی یہ کہا گیا کہ ریحام خان کو بیڈ روم کے اندر کتوں کا اور پورے گھر کے اندر پارٹی لیڈرز کا دندناتے گھس آنا اور آزادانہ گھومتے پھرتے رہنا سخت ناپسند تھا۔ انہوں نے عمران خان کے کتوں کے بیڈ روم کے اندر آنے پر پابندی لگائی اور اس طرح انہوں نے عمران خان کے کچن کیبنٹ لیڈرز پر گھر کے اندر آنے پر کرفیو لگا دیا۔ کتوں کو ان کے ڈربوں میں بند کر دیا گیا اور پارٹی لیڈرز کو بنی گالہ کے آﺅٹ ہاﺅس تک محدود کر دیا گیا۔ اب دیکھا جائے تو کسی بھی گھر کی خاتون خانہ کو یہ ازدواجی استحقاق حاصل ہے کہ وہ اپنے گھر کو کیسے سنبھالتی ہے۔ کیسے اس کا انتظام کرتی ہے۔ کیسے اس کو ڈیکوریٹ کرتی ہے۔ دوستوں نے ہلکے پھلکے انداز میں بیوی کی اس پاور کو ہوم منسٹری کا نام دے رکھا ہے او ر یہ وہ منسٹری ہے جس کے سامنے بڑے بڑوں کا پتہ پانی ہوتا ہے۔
کتے تو بہت دور کی بات ہے ہمیں اپنے بیڈ روم میں سونے کے ٹائم کتاب پڑھنے، لیپ ٹاپ استعمال کرنے حتیٰ کہ موبائل فون بھی استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔کئی بار لحاف کے اندر منہ اور موبائل فون گھسا کر فیس بک پر سٹیٹس اپ ڈیٹ کرنا پڑتا ہے، کمنٹس پڑھنا پڑتے ہیں اور اپنی اس واحیات پوزیشن پر ہنسی بھی آتی ہے، خراٹے لیتی بیوی پر پیار بھی آتا ہے اور یہ کوئی مذاق کی بات نہیں، سارے دن کے کام کاج اور جاب کے بعد اگر بیوی اچھی نیند سو رہی ہو تو ہماری مامتا کے سوتے ابلنے لگتے ہیں اور محبت کا دریا بہنے لگتا ہے۔
اچھا ویسے یہ سمجھ نہیں آئی کہ ریحام خان کو بیڈ روم کے اندر عمران خان کے کتوں کے داخلے پر اعتراض کیوں تھا، و ہ برطانیہ میں رہتی رہی ہیں اور یہاں کے کلچر میں کتوں کو گود سے لے کر بستر تک رسائی حاصل ہے۔ بظاہر وہ ایک بہادر خاتون نظر آتی ہیں اور ایک افواہ یہ بھی اڑائی ہوئی ہے کہ وہ عمران خان پر ہاتھ اٹھاتی رہی ہیں چنانچہ ایسی خاتون سے یہ توقع کرنا کہ وہ کتوں سے ڈرتی ہوں گی ممکن نہیں۔چنانچہ دوسرا پہلو حسد کا ہی ہو سکتا ہے۔ حد سے زیادہ قابض بیویاں خاوند کے ساتھ اپنی محبت میں کسی کو شیئر نہیں کرتیں۔ خواہ وہ خاوند کے کتے ہوں یا خاوند کے دوست، خاوند کے پارٹی لیڈرز ہوں یا خاوند کی سابقہ بیوی ہو، یہ افواہ بھی سامنے آچکی ہے کہ ریحام خان کو عمران خان کے جمائمہ خان کے ساتھ تعلقات پسند نہ تھے۔ یقین کر لیں ان میں سے کوئی ایک بات بھی خود سے نہیں گڑھ رہا بلکہ یہ تمام کی تمام افواہیں مارکیٹ میں دستیاب ہیں چنانچہ بقول ان افواہوں کے ریحام خان نے بنی گالہ کی خاتون خانہ ہونے کے ناطے اور ایک قابض بیوی ہونے کی بنا پر ان کتوں، دوستوں اور پارٹی لیڈرز کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ ایک افواہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے گھر کے نوکروں کو بھی کنٹرول کرنا شروع کر دیا تھا جو عمران خان کی بے پناہ سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے خاصے بے لگام ہو چکے تھے اور یہ بھی افواہ تھی وہ پیسے لے کر گھر کی باتیں باہر میڈیا کو بریک کرتے تھے۔ یہ اوپر میں نے جتنی افواہیں گنوائی ہیں یہ گھر کے اندر کی ہی وارداتیں تھی جو باہر جا رہی تھیں ورنہ کوئی دوسرا سورس تو نہیں تھا۔ چنانچہ عمران خاں کے کتوں، نوکروں، ملازموں، دوستوں اور پارٹی لیڈروں کو ریحام خان کا یہ کنٹرول کرنا پسند نہیں آرہا تھا۔ ظاہر ہے پسند بھی کیسے آتا، ان کی بنی گالہ پر مشترکہ حکمرانی تھی اور اب بنی گالہ میں ریحام خان کی شکل میں ایک سوفٹ انقلاب آچکا تھا۔
بات محض بنی گالہ کو کنٹرول کرنے تک رہتی تو شاید چل جاتی۔ ایک افواہ یہ بھی اڑ گئی کہ بھابھی پاپولر ہوتی جا رہی ہیں اور پارٹی پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ افواہ جلتی پر تیل ڈالنے کے برابر تھی ۔ وہ دوست اور کرم فرما جو میاں بیوی کے جھگڑے کو ختم کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں وہ پہلے ہی ان پابندیوں سے جلے بھنے بیٹھے تھے چنانچہ ان جلے بھنے کرداروں نے گھر میں سلگتی تپش کو الاﺅ میں تبدیل کرنے میں دیر نہ لگائی، ویسے جو لیڈرز خود کو عمران خان کا ڈپٹی سمجھ کر سنہرے مستقبل کے خواب دیکھ رہے تھے وہ اپنی جگہ پر ریحام خان کو آتا دیکھ کر کیسے برداشت کرتے؟
جب بھابھی نے پاپولر ہونا شروع کیا تو ہمارا خیال تھا عمران خان کی سیاست کو ایک سافٹ اور مثبت شکل ملنا شروع ہو گئی ہے۔ عمران خان ایک سخت گیر امیج رکھتے ہیں جو شاذونادر ہی مسکراتا ہے۔ ریحام خان کے مسکراتے اور روشن چہرے کی موجودگی میں یہ امیج متوازن ہو گیا ہے اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ پارٹی ورکرز اور سپورٹرز نے بھابھی کا سیاسی کردار ہنسی خوشی قبول کر لیا تھا جوکہ عمران خان کی سیاست کے لیے ایک اضافی مدد تھی لیکن جیسا کہ میں نے کہا عمران خان کے کتوں، نوکروں اور پارٹی لیڈروں کو یہ رول بھی پسند نہ تھا چنانچہ ان پر سیاست میں پابندی لگا کر بنی گالہ تک محدود کیا گیا اور جب انہوں نے بطور خاتون خانہ اپنے گھر کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی او رکتوں کو اپنے بیڈ روم اور پارٹی لیڈروں اور نوکروں کو اپنے گھر سے نکالنے کی خواہش کی تو ستم ظریف نے مجھ کو نکال دیا کہ یوں!
اور بھی افواہیں چل رہی ہیں جو ظاہر ہے مخالف کوارٹر سے چل رہی ہیں یعنی وہ غیر ملکی ایجنٹ تھیں یہ کہ انہوں نے عمران خان کو زہر دینے کی کوشش کی تھی تاکہ پارٹی پر قبضہ کر سکیں یہ کہ یہ سارا کھیل خفیہ اداروں کا تھا چنانچہ کھیل ختم پیسہ ہضم، جیسا میں نے پہلے کہا جتنے منہ اتنی باتیں۔ بہتر یہی ہوتا عمران خان یا ریحام خود اپنے منہ پر سچائی بیان کر دیتے اور ان افواہوں کا خاتمہ ہو جاتا۔ عمران خان کے بطور ایک پاپولر سیاسی لیڈر کے عام لوگ ان کے معاملات کی سچائی جاننا چاہتے ہیں۔ اسے ذاتی زندگی کا معاملہ کہہ کر یا شرم ہوتی ہے، تہذیب ہوتی ہے کہہ کر دبایا نہیں جا سکتا۔ بندہ شادی کرتا ہے تو اسے نبھاتا بھی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *