ہیڈلائن

کورونا وائرس: مزید نئے کیسز سے تعداد 1432، اموات 12 ہوگئیں

Share

پاکستان میں کورونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کا سلسلہ نہ رک سکا اور ملک کے مختلف حصوں میں مزید متاثرہ افراد سامنے آنے سے مجموعی تعداد 1432 ہوگئی۔

اس مہلک وائرس سے خیبرپختونخوا میں ایک جبکہ گزشتہ روز پنجاب میں 2 اموات بھی سامنے آئیں جس کے بعد اب تک ملک میں وائرس سے جان کی بازی ہارنے والوں کی تعداد 12 ہوچکی ہے۔

اگرچہ اس وائرس سے سب سے زیادہ سندھ متاثر تھا تاہم گزشتہ روز پنجاب میں 82 کیسز سامنے آنے سے اب سب سے زیادہ متاثرین پنجاب سے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ اب تک سب سے زیادہ اموات بھی پنجاب میں سامنے آئی ہیں جہاں 5 افراد اس عالمی وبا سے انتقال کرگئے جبکہ 4 افراد کا خیبر پختونخوا، ایک سندھ، ایک بلوچستان اور ایک گلگت بلتستان میں انتقال ہوا۔

ہفتے کو سامنے آنے والے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو یہ متاثرین کی مجموعی تعداد 1400 سے بڑھ چکی ہے۔

سندھ

سندھ میں بھی کورونا وائرس کے مزید 29 کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد صوبے میں تعداد 469 ہوگئی۔

محکمہ صحت سندھ کی جانب سے بتایاگیا کہ 17 نئے کیسز کراچی میں رپورٹ ہوئے جس کے بعد شہر قائد میں متاثرین 181 ہوگئے۔

اس کے علاوہ تین افراد حیدرآباد اور ایک دادو سےمتاثر ہوا ہے جبکہ 14 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔

صوبائی محکمہ صحت کے مطابق اب تک ایک فرد کا انتقال ہوا ہے اور 170 زیر علاج ہیں، اس طرح زائرین کے سوا سندھ کے ان کیسز میں 131 مقامی سطح پر منتقلی کے ہیں۔

مزید برآں محکمہ صحت نے بتایا کہ سکھر سے ایران آنے والے 265 اور لاڑکانہ آنے والے 7 زائرین میں کورونا کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

ہفتہ کی شاہ کو وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدارت کورونا وائرس پر ٹاسک فورس کے 31ویں اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے میں متاثرین کی تعداد 469 ہوگئی ہے۔

ان کیسز میں 265 سکھر، 189 کراچی، ایک دادو، 7 لاڑکانہ اور 7 حیدر آباد میں سامنے آئے ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ آج کراچی میں 12 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد مقامی سطح پر منتقل ہونے والے کیسز کی تعداد 132 ہوگئی ہے۔

پنجاب

ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں کورونا وائرس کے 7 نئے کیسز سامنے آئے۔

ترجمان محکمہ صحت پنجاب قیصر آصف کا کہنا تھا کہ صوبے میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 497 ہوگئی۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک صوبے میں 5 اموات ہوئیں جبکہ 4 مریض صحت یاب ہوئے۔

متاثرین کی تفصیل سے متعلق انہوں نے بتایا کہ ڈیرہ غازی خان سے 207 اور ملتان سے 46 زائرین کے علاوہ لاہور میں 116 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔

ترجمان کے مطابق گجرات سے 51، گوجرانوالہ سے 9، جہلم سے 19 اور راولپنڈی سے 15 مریضوں رپورٹ ہوئے۔

قیصر آصف نے بتایا کہ باقی متاثرین کی تعداد صوبے کے دیگر علاقوں سے ہے جبکہ تمام مصدقہ مریضوں کو آئیسولیشن وارڈز میں داخل کردیا گیا۔

خیبرپختونخوا

ادھر خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس سے ایک خاتون انتقال کرگئیں، جس سے صوبے میں اموات کی تعداد 4 ہوگئیں۔

اس حوالے سے صوبائی وزیر اطلاعات کے مشیر اجمل وزیر نے اس موت کی تصدیق کی اور بتایا کہ خاتون کا تعلق لوئر دیر سے تھا۔

مزید برآں خاتون حال ہی میں عمرے سے واپس آئی تھیں اور ان کے انتقال کے بعد پورے گاؤں کو قرنطینہ کردیا گیا۔

بلوچستان

بلوچستان کے ہیلتھ ڈائریکٹریٹ کورونا وائرس سیل کے ترجمان کے مطابق ہفتہ کو کورونا وائرس کے 5 نئے مریض سامنے آئے جس کے بعد کُل مریضوں کی تعداد 138 ہوگئی۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک کورونا وائرس کے ایک ہزار 275 منفی رزلٹ آئے اور مشتبہ مریضوں کی تعداد ایک ہزار 689 ہے جبکہ 2 مریض صحتیاب بھی ہوچکے ہیں۔

اسلام آباد

سرکاری ویب سائٹ کے اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

ان نئے کیسز میں اسلام آباد میں 12 نئے کیسز سامنے آئے جس کے بعد وہاں متاثرین کی تعداد 39 ہوگئی۔

گلگت بلتستان

گلگت بلتستان میں نئے آنے والے کیسز کی تعداد 16 ہے، جس کے بعد وہاں متاثرین 107 تک پہنچ چکے ہیں۔

ملک میں مجموعی طور پر متاثرین پر نظر ڈالیں تو سندھ سے 469، پنجاب سے 497، خیبرپختونخوا سے 180، بلوچستان سے 138، گلگت بلتستان سے 107، اسلام آباد سے 39 اور آزاد کشمیر سے 2 افراد ہیں۔

تاہم اچھی بات یہ ہے کہ ایک ماہ سے زائد عرصے میں اس وائرس سے 25 افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔


پاکستان میں 12 اموات

پاکستان میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاک 18 مارچ کو سامنے آئی جبکہ اسی روز دوسری موت کی بھی تصدیق کردی گئی۔

18 مارچ کو خیبرپختونخوا کے وزیر صحت تیمو جھگڑا نے مردان میں پہلے شخص کے کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کرجانے کے بارے میں آگاہ کیا۔

بعد ازاں کچھ ہی دیر میں انہوں نے ہنگو میں دوسرے فرد کی موت کی تصدیق کی۔

20 مارچ کو ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں وائرس سے ایک مریض کا انتقال ہوا تو اس طرح تعداد 3 تک جا پہنچی۔

22 مارچ کو خیبرپختونخوا میں ہی ایک اور مریض کے انتقال کی خبر سامنے آئی تو کچھ ہی دیر بعد گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کا علاج کرنے والا ڈاکٹر اسی عالمی وبا کا شکار ہوکر جان کی بازی ہار گیا۔

اگلے ہی دن یعنی 23 مارچ کو بلوچستان حکومت کی جانب سے صوبے میں کورونا وائرس کا پہلا مریض دم توڑ گیا۔

جہاں ایک طرف متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ سامنے آرہا تھا وہیں 24 مارچ کو پنجاب میں بھی پہلی ہلاکت سامنے آگئی۔

پنجاب میں ہونے والی یہ موت ملک میں مقامی سطح پر منتقل ہونے والے کیس سے پہلا انتقال تھا۔

علاوہ ازیں 25 مارچ کو بھی ملک میں ایک اور موت کی تصدیق ہوئی اور راولپنڈی میں 50 سالہ خاتون دم توڑ گئیں۔

26 مارچ کو لاہور کے نجی ہسپتال میں ایک مریض جان کی بازی ہار گیا جس کے بعد صوبے میں کورونا وائرس سے 3 اور ملک میں مجموعی طور پر 9 اموات ہوگئیں۔

27 مارچ کو لاہور میں ایک اور مریض کورونا وائرس کے باعث دم توڑ گیا جس کے بعد صوبے میں اموات کی تعداد 4 ہوگئی۔

اسی روز فیصل آباد میں بھی 22 سالہ نوجوان کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی جس کے بعد صوبے میں 5 اور ملک بھر میں اس وبا سے اموات 11 ہوگئیں۔

28 مارچ کو صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر نے ایک خاتون کی موت کی تصدیق کی جس کے بعد ملک میں اموات کی تعداد 12 ہوگئی۔

پاکستان میں کورونا کیسز پر ایک نظر

پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو کراچی میں سامنے آیا۔

  • 26 فروری کو ہی معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مجموعی طور پر 2 کیسز کی تصدیق کی۔
  • 29 فروری کو ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مزید 2 کیسز کی تصدیق کی، جس سے اس وقت تعداد 4 ہوگئی تھی، 3 مارچ کو معاون خصوصی نے کورونا کے پانچویں کیس کی تصدیق کی۔
  • 6 مارچ کو کراچی میں کورونا وائرس کا ایک اور کیس سامنے آیا، جس سے تعداد 6 ہوئی۔
  • 8 مارچ کو شہر قائد میں ہی ایک اور کورونا وائرس کا کیس سامنے آیا۔
  • 9 مارچ کو ملک میں ایک ہی وقت میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے 9 کیسز کی تصدیق کی گئی تھی۔
  • 10 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے 3 کیسز سامنے آئے تھے جن میں سے دو کا تعلق صوبہ سندھ اور ایک کا بلوچستان سے تھا، جس کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد 19 جبکہ سندھ میں تعداد 15 ہوگئی تھی۔

بعد ازاں سندھ حکومت کی جانب سے یہ تصحیح کی گئی تھی ‘غلط فہمی’ کے باعث ایک مریض کا 2 مرتبہ اندراج ہونے کے باعث غلطی سے تعداد 15 بتائی گئی تھی تاہم اصل تعداد 14 ہے، اس تصحیح کے بعد ملک میں کورونا کیسز کی تعداد 10 مارچ تک 18 ریکارڈ کی گئی۔

  • 11 مارچ کو اسکردو میں ایک 14 سالہ لڑکے میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی، جس کے بعد مجموعی تعداد 19 تک پہنچی تھی۔
  • 12 مارچ کو گلگت بلتستان کے ضلع اسکردو میں ہی ایک اور کیس سامنے آیا تھا جس کے بعد ملک میں کورونا کے کیسز کی تعداد 20 تک جاپہنچی تھی۔
  • 13 مارچ کو اسلام آباد سے کراچی آنے والے 52 سالہ شخص میں کورونا کی تصدیق کے بعد تعداد 21 ہوئی تھی، بعدازاں اسی روز ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران تفتان میں مزید 7 کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ پاکستان میں مجموعی طور پر کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 28 ہوگئی۔
  • 14 مارچ کو سندھ و بلوچستان میں 2، 2 نئے کیسز کے علاوہ اسلام آباد میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا جس کے بعد ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد 33 ہوگئی۔
  • 15 مارچ کو اسلام آباد اور لاہور میں ایک ایک، کراچی میں 5، سکھر میں 13 کیسز سامنے آئے جس کے بعد ملک بھر میں مجموعی تعداد کیسز کی تعداد 53 ہوگئی تھی۔
  • 16 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اچانک بہت تیزی سے اضافہ ہوا تھا اور سندھ میں تعداد 35 سے بڑھ کر 150 جبکہ خیبرپختونخوا میں نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد ملک میں مجموعی تعداد 184 تک جا پہنچی تھی۔
  • 17مارچ کو ملک کے چاروں صوبوں سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس کے مزید کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد ملک میں مجموعی تعداد 237 تک پہنچ گئی تھی۔
  • 18 مارچ کو پاکستان میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت خیبرپختونخوا میں سامنے آئی جبکہ کچھ ہی دیر بعد ہی عالمی وبا سے دوسری موت کی بھی تصدیق کردی گئی، اس کے علاوہ اسی روز صوبے میں مزید 64 کیسز سامنے آنے کے بعد تعداد 301 تک ہوگئی تھی۔
  • 19 مارچ کو بھی کورونا وائرس کے مزید کیسز آنے کا سلسلہ نہ رک سکا اور چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے مجموعی طور پر 152 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد اس روز تعداد 448 تک جاپہنچی۔
  • مارچ کی 20 تاریخ کو اس عالمی وبا سے کراچی میں پہلی ہلاکت سامنے آئی، جس کے بعد ملک میں مجموعی ہلاکتیں 3 ہوگئی جبکہ اسی روز نئے مریضوں کے سامنے آنے سے متاثرین کی تعداد 495 تک ہوگئی۔
  • 21 مارچ کو پاکستان میں تصدیق ہونے والے کورونا وائرس کے کیسز میں صوبہ سندھ سے 39، پنجاب سے 56، بلوچستان سے 12، خیبرپختونخوا سے 8 جبکہ گلگت بلستان سے 34 نئے کیسز شامل تھے، جس کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 600 سے تجاوز کر گئی تھی۔
  • 22 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز میں اضافے کے ساتھ مجموعی تعداد 799 تک پہنچ چکی تھی، جس میں پنجاب میں مزید 73، سندھ میں مزید 60، بلوچستان میں 4 کیسز جبکہ گلگت بلتستان میں مزید 16 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، اس کے ساتھ گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ ایک ڈاکٹر جبکہ خیبرپختونخوا میں ایک وائرس سے متاثرہ خاتون کی موت کے بعد مجموعی اموات 5 ہوگئی تھیں، سندھ میں ایک شخص کے صحتیاب ہونے کی اطلاع بھی سامنے آئی تھی۔
  • 23 مارچ کو بھی ملک میں کورونا وائرس کے مزید کیسز رپورٹ ہوئے اور بلوچستان سے پہلی ہلاکت بھی سامنے آئی اسی روز ملک بھر میں فوج تعینات کرنے کی منظوری بھی دی گئی، تاہم اگر اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو اس روز یہ تعداد 878 تک پہنچ گئی تھی۔
  • مارچ کی 24 تاریخ کو پنجاب میں پہلی ہلاکت سامنے آئی جو ملک میں مقامی سطح پر منتقل ہونے والا کیس تھا، اس کے علاوہ مختلف صوبوں اور علاقوں میں نئے کیسز سامنے آنے کے بعد اس روز تک متاثرین 990 ہوگئے تھے۔
  • 25 مارچ کو پاکستان میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی جبکہ اس روز بھی ملک میں ایک اور موت سامنے آئی جس کے بعد ملک میں اموات 8 ہوگئیں۔
  • 26 مارچ کو ملک میں کورونا کیسز کو ایک ماہ کا عرصہ مکمل ہوا اور اس روز پورے ملک میں نئے کیسز سامنے آنے کے بعد تعداد 1193 تک پہنچی جبکہ اس روز بھی ایک اور فرد انتقال کرگیا۔
  • 27 مارچ ملک کو کورونا وائرس سے پنجاب میں 2 اموات سامنے آئیں جبکہ اس روز پنجاب میں مزید نئے کیسز آنے سے وہ سب سے زیادہ متاثر صوبہ بن گیا، علاوہ ازیں ملک کی مجموعی تعداد 1363 تک پہنچ گئی