ایان علی کی ’ بزرگانہ مداحی ‘ میں....

akhtar shumaarمصروف چوک میں ٹریفک وارڈن ٹریفک کنٹرول کر رہا تھا کہ اچانک سڑک کے عین درمیان میں عمر رسیدہ خاتون آگئی، ٹریفک سپاہی سیٹی کے ذریعے سے اسے متوجہ کرنے اور روکنے کی سرتوڑ کوشش کرنے لگا مگر بڑھیا مسلسل چلتی جا رہی تھی۔ ٹریفک سپاہی آپے سے باہر ہو گیا اور دوڑ کر بڑھیا کی طرف لپکا اور اسکے کاندھے سے پکڑ کر بولا : ”مائی جی ! کب سے سیٹیاں بجا رہا ہوں آپ نے پلٹ کر بھی نہیں دیکھا“ بڑھیا سرد آہ بھر کر بولی : ” بیٹا ! وہ دن گئے جب ایک سیٹی پر پلٹ کر دیکھا کرتے تھے، اب وہ دن کہاں؟ آہ۔۔۔۔“ اور آگے بڑھ گئی۔
یہ لطیفہ نما واقعہ ہمیں ایان علی کے بزرگ مداح کی خبر اور تصویر دیکھ کر یاد آیا ہے۔ جس نے عدالتی پیشی کے دوران ایان علی کے گلے میں نہ صرف ہار ڈالے بلکہ تصویریں بھی بنوائیں۔ اُس ’خوش بخت ‘ بزرگ نے وہ کام کر دکھایا جو پچھلے کئی ماہ سے کئی ’ من چلے‘ اور پولیس والے طرح طرح کے ’ حیلے اور بہانوں‘  سے بھی نہ کر سکے اور ایان علی کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔
ایان علی ایک ماڈل تھی، ہو گی ’خاص ماڈل‘ مگر ہم ایسے بہت سے عام لوگ اس سے آشنا نہیں تھے۔اس کے ’شناساﺅں ‘ میں ’خواص‘ ہی شامل ہوں گے لیکن اب تو ایان علی خواص کے ساتھ عوام میں بھی ’مشہور‘ ہو چکی ہے۔بلکہ یہ کہنا بے جا نہیں کہ اب تو شہرت کے معاملے میں وہ ریحام خان سے ایک ہاتھ کے فاصلے پر کھڑی ہوئی ہے۔ابھی تو اس نے صحافیوں سے ’کلام‘ کاسلسلہ شروع نہیں کیاوگرنہ فلم سٹار میرا یا مسزوینا ملک کی ’گرد‘ کو چھو رہی ہوتی۔ایان علی کی شہرت میں صرف اُن ڈالروں کی چمک نے کام نہیں دکھایا جو ائیرپورٹ پر اس سے بیرون ملک جاتے ہوئے برآمد ہوئے بلکہ اصل معاملہ ڈالروں کے آئینے میں دکھائی دینے والے ان دمکتے چہروں کا ہے جنہوں نے اس کی شہرت کو ’چار چاند ‘لگائے۔ان میں اپنے دور کے’ مقبول ترین‘ وزیر داخلہ کی چاندنی بھی شامل ہے۔ کیونکہ تفتیش کے دوران ایان علی کے ساتھ ’ملک صاحب‘ اور ان کے بھائی کا ’ اسم گرامی ‘ بھی آتا رہا ہے۔سچ تو ےہ ہے’ ملک‘ جب کسی نام کے ساتھ آتا ہے تو مقدر سے ،اس کے ہاتھ میں ’ ملک گیر ‘ شہرت بھی آجاتی ہے۔ کچھ ’ملکوں‘ کے ’ نام نامی ‘ ذہن میں لا کر آپ خود دیکھ لیجیے۔

Chacha-M89رحمان ملک تھے تو وزیر داخلہ مگر اپنے دور وزارت میں’ وزیرِ ِاطلاعات‘ ہی نظر آتے رہے۔کوئی چینل لگائےں انہی کا ’رخ روشن‘ سامنے آ جاتا۔ بالکل اپنے پرویز رشید کی طرح.... اور یہ محض وزارت داخلہ کا کمال نہیں تھا بلکہ ’زر‘ داری کی چمک نے انہیں مقبول کر رکھا تھا۔سو اےان علی اِس وقت قانون اور کیمرے کو بے حد ’مرغوب‘ہیں۔ اُس نے جیل میں یوں دن گزارے جیسے ’بگ باس‘ (انڈین شو) کر رہی ہو یعنی لمحہ لمحہ بنی سنوری تصویروں اور خبروں میں جھلکارے مارتی رہی۔اور پھرکھوسہ صاحب کی وکالت نے اسے ضمانت پر رہائی دلائی۔ یہ الگ بات کہ رہا ہوتے ہی اس نے جامعہ کراچی کا وزٹ کر کے ایک طالب علم کو یونیورسٹی سے ’ رہائی‘ دلوا دی۔اب تو بہت جلد اس کی ’قسمت ڈالرانہ‘ کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے۔وہ جیل سے نکل کر بھی خبروں اور کیمروں سے باہر نہیں نکلی۔عدالتی پیشیوں پر آتے جاتے کیمرے اس کا تعاقب کرتے ہیں۔ ’پلس والے‘ اور منچلے اس کی توجہ حاصل کرنے کے جتن کرتے رہے اور ایک عمر رسیدہ ’ بازی‘ لے گیا ۔ کہتے ہیں تعریف عورت کی کمزوری ہے، بزرگ مداح نے جانے ایان علی کے کان میں تعریفی کلمات کی کون سی پھونک ماری کہ وہ اپنے نئے نویلے مداح کے ہار گلے میں ڈلوا بیٹھی ورنہ کئی پلسیوں نے اپنی ’ توندوں ‘ پر جبر بھی کیا مگر ایان علی نے کسی کو گھاس نہ ڈالی حالانکہ اسلام آباد میں ’ گھسیاروں ‘ کی کمی نہیں۔ ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ ایان علی نے ایک عمر رسیدہ کو گھاس اس لئے ڈالی ہے اس نے کون سا گھاس ہضم کر لینی ہے۔اس عمر میں تو حافظہ ہی نہیں، ہاضمہ بھی خراب رہتا ہے۔ لیکن بزرگ مداح کو یہ سب کچھ کیسے یاد رہے....
Ayyan-Ali-Hot-Picturesاصل میں میڈیا نے سماج میں بہت افرا تفری پھیلا رکھی ہے۔ہو سکتا ہے اسی افرا تفری میں ایان علی کے نئے مداح کے ارادے بھی ’خطرناک ‘ ہوں ۔اور وہ جو صرف ابھی تصویر بنوانے ، ہار ڈالنے کی کارروائی ڈال رہا ہے، اور ایان علی سے گھر مدعو کیے جانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ کل کلاں کوئی اور مطالبہ کر بیٹھے کہ تمناﺅ ں پر قد غن تو نہیں لگائی جا سکتی۔بعض احباب کا خیا ل ہے بزرگ شکل و صورت سے ’ ساٹھے پاٹھے‘ ہی لگتے ہیں اور یہ کوئی اتنی زیادہ عمر نہیں ۔اپنے عمران خان نے بھی کچھ عرصہ قبل ہی شادی کی تھی۔ پھر شادی اور علم کے لئے لوگ عمر پر نہیں جاتے.... ایک صاحب نے اسّی برس کی عمر میں میٹرک اور ساتھ ہی شادی کی ۔ یہ الگ بات کہ اگلے برس خاموشی سے فوت ہو گئے۔
ہمارے ایک مزاح گو شاعر اپنی شاعری کے ساتھ اب ایک لطیفہ بھی تواتر سے سنانے لگے ہیں۔ آپ بھی سن لیں۔ ’ ایک شخص نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ مردوں میں کس عمر تک شادی کا بھوت سوار رہتا ہے۔ اس سلسلے میں وہ ایک 90 برس کے بوڑھے کے پاس گیا اور وہی سوال کیا۔ نوے سالہ بزرگ نے کہا ’آہستہ بول کاکا.... تمہاری چاچی نہ سن لے۔ ابھی تو خود میرے من میں شادی کے لڈو پھوٹتے رہتے ہیں۔‘ اب وہ شخص سو سال کے ایک مرد ضعیف کے پاس پہنچا اور وہی سوال دہرایا، سو برس کے بابے نے کہا: ’ مرتے دم تک انسان کے دل سے شادی کی خواہش کا خیال نہیں جاتا۔ خود میرا دل بھی ابھی تک شادی کے لے راضی ہے۔‘ اب وہ شخص ایک سو دس سالہ پیر فرتوت کے پاس گیا اور وہی سوال کردیا۔ پیر فرتوت ادھر ادھر دیکھ کر بولا: ’ بیٹا میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ خواہش انسان کے مرنے کے بعد قلوں تک تو باقی رہتی ہے۔‘ عزیز پڑھنے والو ! ہمارا ارادہ تو اوکاڑہ کے جج پر کچھ لکھنے کا تھا جس نے بالآخر مسلم لیگ نون جائن کر لی ہے ۔ لیکن پھر سہی ۔ آج کی ’گرم ‘خبریں کچھ اور ہیں ۔ ان کے ٹھنڈاہونے تک اجازت....

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *