ہماری دفاعی پالیسی اور تبدیل ہوتے ہوئے معروضات

Najam Sethiپاکستان میں، ایک انگریزی محاورے کے مطابق اکثر اوقات ایسی صورت حال پیش آتی ہے جس میں’’کتا دم نہیں ہلاتا بلکہ دم کتے کو ہلاتی ہے‘‘۔ گویا ایک چھوٹی چیز بڑے نظام کو کنٹرول کرتی ہے۔ اس کا اظہار عملی زندگی میں اس طرح نظر آتا ہے کہ دفاعی سیکورٹی، جس میں بھارت کو مستقل دشمن کا درجہ حاصل ہے، خارجہ پالیسی کو اپنے کنٹرول میں رکھتے ہوئے معیشت اور سیاسی نظام کو یرغمال بنائے رکھتی ہے۔ زیادہ تر ریاستوں میں صورت حال اس کے برعکس ہے۔ وہاں نیشنل پاور کا ایک عنصر فوج ہے تو دوسرا عنصر خارجہ پالیسی ہے اور ان دونوں کا مقصد نیشنل پاور کو تقویت دینا ہوتا ہے۔
دفاعی اداروں کی طرف سے بھارت کو مستقل خطرہ سمجھنے کی پالیسی نے ہماری نیشنل پاور کو مفلوج کر دیا ہے۔ اس کی وجہ سے آئین اور قانون کی حکمرانی کو بھی دفاعی اداروں کی منشا کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے۔ اس نے بعض وجوہات کی بنا پر مسلح غیر ریاستی عناصر، جنہوں نے قومی ڈھانچے کو کمزور کر دیا ہے، کو تقویت دی ہے۔ ان کی وجہ سے آج پاکستان لہو رنگ ہے۔ سیکورٹی اداروں کی منشا کے مطابق بنائے جانے والے دفاعی بجٹ نے معیشت کا کباڑا کر دیا ہے۔ بدترین بات یہ ہے کہ اس پالیسی کی وجہ سے پاکستان کو فوجی اور معاشی امداد کے لئے امریکہ پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ جب تک امریکہ کو ہماری ضرورت رہے، تو یہ پالیسی کام دیتی رہتی ہے لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ امریکہ کو پاکستان کو اپنی رقم اور ہتھیاروں سے پالنے کی حاجت نہیں ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی قوم ہمارے حال سے دوچار ہو کہ ہمیں جن اداروں کے لئے امریکی امداد کی ضرورت ہے، انہی کے پروردہ غیر ریاستی عناصر ہمارے امریکہ کے ساتھ تعلقات پر مشتعل ہیں۔ آج کے پاکستان میں یہ غیر ریاستی عناصر اتنے طاقتور ہوچکے ہیں کہ اُنھوں نے ریاستی عملداری کو سنگین چیلنج سے دوچار کردیا ہے۔ ان کی کارروائیوں کی وجہ سے سرمایہ کاری کا عمل رک چکاہے اور معیشت آخری ہچکیاں لے رہی ہے جبکہ پاکستان عالمی تنہائی کے خطرے سے دوچار ہے۔ بیرونی دنیا تو کجا، خطے کے ہمسایہ ممالک بھی ہم پر اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف ان معاملات کی سنگینی کا ادراک رکھتے ہیں۔ وہ بھارت کے ساتھ امن، سول حکومت کی فوج پر بالادستی اور معاشی استحکام چاہتے ہیں۔ مسئلۂ یہ ہے کہ ان کو راہ سجھائی نہیں دیتی ہے کہ تبدیلی کا یہ عمل کیسے سرانجام پائے گا اور عشروں کے بگڑے معاملات کیسے سدھریں گے؟ اس ضمن میں پہلا مرحلہ یہ ہونا چاہئے کہ فوجی قیادت کو باور کرایا جائے کہ سابقہ عسکری حکمت ِ عملی آج قابل ِ عمل نہیں ہے چنانچہ اسے تبدیل ہونا چاہئے۔ خوش قسمتی سے ہماری اعلیٰ فوجی قیادت اس امر کی تفہیم کرتے ہوئے اظہار کر چکی ہے کہ ملک میں پھیلی ہوئی مذہبی انتہا پسندی سے ہماری سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔اس کے مقابلے میں بھارت پاکستان کے لئے بڑا خطرہ نہیں ہے تاہم بدقسمتی سے زبانی اظہار کے علاوہ اس پر عملی پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ ابھی فوجی قیادت تبدیل ہوتے ہوئے خطرے کے حوالے سے اپنی سابقہ پالیسی کو تبدیل کرتی دکھائی نہیں دیتی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ دفاعی ادارے فی الحال سویلین حکومت کی بالادستی کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ فوج کی تعلیم، ٹریننگ، دفاعی حکمت عملی، ہتھیار، ٹرانسپورٹ اور تمام عسکری ڈھانچہ اس یک لخت تبدیلی کو تسلیم کرنے اور اس کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے۔ چنانچہ اب وزیر ِ اعظم نواز شریف کو چاہئے کہ وہ نئے آرمی چیف کے سامنے ’’کیانی ڈاکٹرائن‘‘ رکھیں اور اُنہیں یہ حقیقت باور کرانے کی کوشش کریں کہ اب جبکہ دفاعی معروضات تبدیل ہورہے ہیں، اس لئے ترجیحات اور توجیہات کو بھی تبدیل ہونا چاہئے۔
نواز شریف کے سامنے ایک راستہ یہ بھی ہے کہ وہ ’’مربوط مذاکرات‘‘ پر اصرار کا پرانا فارمولا دہراتے ہوئے امید کا دامن تھامے رکھیں کہ ایک نہ ایک دن بھارت کے ساتھ کشمیر، سیاچن، سرکریک اور پانی کے مسائل طے پاجائیں گے اور وہ ان سب کا کریڈٹ اپنی جھولی میں ڈال لیں گے۔ بظاہر تو یہی امن کی راہ ہے لیکن مسئلۂ یہ ہے کہ بھارت اس طرف آنے کے لئے تیار نہیں ہے کیونکہ کارگل اور اگر کوئی کسر رہ گئی تھی تو، ممبئی حملوں کے بعد سے بھارت پاکستان پر اعتماد کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔اس کے بعد پاکستان نے بھی ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ اس طرح بھارت پاکستان کو ایک ایسی ریاست کے طور پر دیکھتا ہے اور دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے جس کے ساتھ کوئی بھی غیر مشروط ’’بزنس‘‘ نہیں کیا جا سکتا چنانچہ گزشتہ ستمبر میں سرتاج عزیز کی طرف سے یواین میں ’’کشمیریوں کے حق خودارادیت‘‘ کے مسئلے کو زندہ کرنا اور حال ہی میں بھارت کو مشورہ دینا کہ وہ سیاچن کے ماحول کو خراب کرنے سے باز رہے، نواز شریف کے غلط اقدامات کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس راہ پر چلنے سے وہ جس تبدیلی کا خواب دیکھ رہے ہیں،اس کی تعبیر ناممکن ہے۔ اس طرح ان کی تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ پر امن مذاکرات کی خواہش بھی درست پالیسی نہیں ہے۔ یہ وقت تھا جب طالبان پر کاری ضرب لگائی جاسکتی تھی کیونکہ ان کو قیادت کے بحران کا سامنا تھا لیکن درست اور بروقت فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے حکومت نے وہ موقع ہاتھ سے جانے دیا۔ نواز شریف کی پاک امریکہ تعلقات کی پالیسی بھی توازن سے محروم ہے کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ پاکستان کے لئے زیادہ کچھ کرے لیکن اس کے جواب میں وہ امریکہ کو افغان جنگ کے حوالے سے ٹھوس فعالیت دکھانے سے قاصر ہیں۔ درحقیقت وہ ڈرون حملوں کو بند کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے امریکہ سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اُس ہتھیار کو استعمال نہ کرے جس نے طالبان کو خاصی زک پہنچائی ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ طالبان کو اپنی طاقت جمع کرتے ہوئے موقع دینا چاہتے ہیں کہ ریاست ِ پاکستان کے خلاف بھرپور کارروائی کریں۔ جب ان کو ڈرون کا خطرہ بھی نہیں ہو گا تو پھر ان کی جارحیت کا اندازہ لگانا دشوار نہیں ہے۔ یہ بات طے ہے کہ طالبان کو ہمارے روایتی ہتھیاروں کا کوئی خوف نہیں ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ اچھی نیت کے باوجود نوازشریف خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کے اسیر ہیں۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ وہ امریکہ اور بھارت سے’’ڈو مور ‘‘ کا مطالبہ کرنے کے بجائے ان کے ساتھ مل کر افغانستان کو مستحکم کرنے کی کوشش کرتے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ امریکہ اور بھارت کا اعتماد حاصل کرسکتے تھے۔ اگلے ہفتے مسٹر کرزئی بھارت کا دورہ کرنے والے ہیں۔ اس دورے سے خطے میں پیش آنے والی تبدیلیوں کے خدوخال واضح ہوجائیں گے۔ بھارت نہیں چاہتا کہ امریکہ افغانستان میں اپنی موجودگی رکھے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ جنگ کے بعد بھی ایشیاء کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے۔ اسی طرح پاکستان بھی افغانستان میں امریکی موجود گی نہیں چاہتا کیونکہ وہ اس کے جوہری پروگرام پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اسی طرح افغانستان بھی امریکی موجودگی کا مزید متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس طرح ان تینوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سہ جہتی تعاون فروغ پاسکتا ہے۔ اس کی بنیاد پر مزید معاملات کی طرف پیشرفت کی جاسکتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *