دوران زچگی شرح اموات میں کمی

managing-labour-painاقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ 25 برس میں حمل سے وابستہ وجوہات کے باعث ہونے والی اموات میں 50 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔ طبی جریدے لانسٹ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں برس 2015 میں تین لاکھ تین ہزار خواتین حمل کے دوران یا زچگی کے بعد چھ ہفتوں کے دوران ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث ہلاک ہوئیں۔ جبکہ سنہ 1990 میں یہی تعداد پانچ لاکھ 32 ہزار تھی۔

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاملے میں کافی بہتری آئی ہے۔ تاہم اقوامِ متحدہ کی جانب سے مقرر کردہ ہدف کو صرف نو ممالک ہی حاصل کر پائے۔

 عالمی ادارۂ صحت کی صحت اور تحقیق سے متعلق معاون ڈاکٹر لالے سے کا کہنا ہے کہ ’اس رپورٹ کے نتائج کے مطابق سنہ 2015 کے اختتام تک یہ شرح اموات کم ہو کر 44 فیصد ہو جائے گی۔‘ لیکن انھوں نے خبردار کیا کہ یہ بہتری غیر مساوی ہے کیونکہ 99 فیصد اموات ترقی پذیر ممالک میں ہوئیں۔

pregnant-womanرپورٹ کے مطابق 39 ممالک نے حمل سے متعلقہ ہلاکتوں میں کمی کے حوالے سے قابلِ ذکر ترقی کی، تاہم اہداف صرف نو ہی ممالک پورے کر پائے۔ اقوامِ متحدہ کے آبادی سے متعلق ادارے کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر باباٹنڈے اوسوٹمیہن کا کہنا ہے کہ ’اگر ہم نے موجودہ دائیوں کی تعداد اور طبی سہولیات میں اضافہ نہ کیا تو کئی ممالک زچگی کے دوران شرح اموات میں قابلِ ذکر بہتری نہیں لا سکیں گے اور آئندہ 15 برس کے اہداف کے حصول میں پیچھے رہ جائیں گے۔ ‘ مشرقی ایشیا میں اس حوالے سے سب سے زیادہ بہتری دیکھی گئی جہاں ہر ایک لاکھ زندہ زچگیوں کے بعد شرح اموات 95 سے کم ہو کر 27 رہ گئی۔ اقوامِ متحدہ کا سنہ 2030 کے لیے نیا ہدف یہ ہے کہ یہ شرح ایک لاکھ زچگیوں میں 70 تک لائی جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *