ہمارا مقبول بیانیہ اور چراغ رہ گزر

RB 6گذشتہ ہفتے دبئی جانا ہوا تو وہاں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جو پاکستان کی ترقی کے لیے بہت فکر مند نظر آئے۔ شعر و ادب، سیاست اور سماجی کاموں سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ دبئی میں پاکستانی کمیونٹی میں سرگرم ہیں اور ایک پاکستانی سیاسی جماعت کے عہدیدار بھی ہیں۔ خلیل جبران کے مداح اور علامہ اقبال کے عقیدت مند ہیں، جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ انہوں نے خود سے کچھ نہیں لکھا بلکہ وہی کچھ لکھا جو انہیں الہام کیا گیا تھا۔ اور اگر نبوت کا سلسلہ بند نہ ہو چکا ہوتا تو وہ رسالت کے درجے پر فائز ہوتے۔ جمعے کے روز ایک دوست کے ذریعے ملاقات ہوئی تو تعارف کے دوران کہنے لگے کہ وہ جمعے کو ملاقاتیں کم کرتے ہیں۔ دراصل وہ ایک دن شیو کرتے ہیں اور ایک دن نہیں کرتے۔ اور آج ان کے شیو نہ کرنے کا دن تھا۔ دوسرا وہ جمعے کو رشین اور گریک میوزک سنتے ہیں جو اگرچہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا لیکن موسیقی ان کی روح کی غذا ہے اور انہیں یقین ہے کہ ان کے مرنے کے بعد فرشتے انہیں روسی اور یونانی موسیقی کے رموز اور باریکیاں سمجھا دیں گے۔ لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ موسیقی سننے سے وہ اپنے آپ کو اس کائنات سے ہم آہنگ محسوس کرتے ہیں (جس سے میں نے بھرپور اتفاق کیا)۔ وہ تو انکسار سے کام لیتے رہے لیکن ان کے دوست نے انکشاف کیا کہ ان کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ بیک وقت کئی جگہ موجود رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک بار انہیں فون کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی بیگم کے ساتھ موجود ہیں حالانکہ وہ اس وقت اکیلے گاڑی چلا رہے تھے۔ اور اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ وہ واقعی اس وقت اپنی بیگم کے ساتھ بھی موجود تھے اور گاڑی بھی چلا رہے تھے۔ اس بات پر البتہ انہوں نے کسی فخر کا اظہار نہیں کیا، بس تھوڑا شرما کر رہ گئے۔
ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ پاکستان کو عظیم تر پاکستان بنانے کی خواہش رکھتے تھے اور اس کے لیے انہوں نے پوری منصوبہ بندی بھی کر رکھی تھی۔ گریٹر پاکستان کے لیے کام کے آغاز کا ایک موقع اس وقت آیا تھا جب سعودیوں اور عرب امارات نے پاکستان سے یمن کی جنگ میں فوج بھیجنے کی استدعا کی تھی۔ ان صاحب نے بتایا کہ انہوں نے ایک پاکستانی سیاستدان کو مشورہ دیا تھا کہ ہمیں اس کے لیے ریگولر فوج کے ساتھ دو لاکھ رضاکار فوجیوں کا ایک دستہ بھرتی کرنا چاہیے جس میں ایک تعداد خوبصورت نوجوانوں کی بھی ہو۔ ایسی فوج بھرتی کرنے کے لیے انہوں نے اپنی خدمات بھی پیش کیں۔ منصوبہ یہ تھا کہ یہ نوجوان فوجی خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ مقامی عرب لڑکیوں کو اپنی طرف مائل کریں اور پھر بڑی تعداد میں ان سے شادیاں کر لیں۔ ان کو یقین تھا کہ اس طرح کچھ ہی عرصے میں اس خطے پر ہماری ہی نسل کی حکمرانی ہو گی اور زیادہ سے زیادہ ایک سو سال کے عرصے میں ہم ایک گریٹر پاکستان بنانے میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن افسوس، عقل کی بات یہاں سنتا کون ہے۔
موصوف انڈیا کے مقابلے میں پاکستان کی برتری کے حوالے سے بھی بہت پراعتماد نظر آئے۔ ان کا خیال تھا کہ پاکستانی ہر لحاظ سے ہندستانیوں سے افضل ہیں، عقل و دانش میں، شکل و صورت میں، طاقت و ثروت میں، غرض انجنیئرنگ ، سائنس، ادب، سیاست کسی میدان میں بھی انڈینز پاکستانیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ میں نے جب اشارہ کیا کہ انڈیا حال ہی میں مریخ پر پہنچنے کے لیے پیش قدمی کر چکا ہے اور معیشت اور علم کے میدان میں وہاں کافی پیش رفت ہو چکی ہے، وہاں کی یونیورسٹیوں کی رینکنگ ہم سے کہیں بہتر ہے، وہاں جمہوریت پر کبھی شب خون نہیں مارا گیا تو فرمایا کہ اصل میں تقسیم کے وقت پاکستان کو وسائل سے محروم کر دیا گیا اور ایک سازش کے تحت پاکستان کو ایسے مسائل میں الجھا دیا گیا کہ ہم ابھی تک اپنا امکان پوری طرح استعمال نہیں کر پائے۔ پھر ہندستان کو انٹرنیشنل کمیونٹی خاص طور پر یہودیوں نے بہت زیادہ سپورٹ کیا ہے، جس کی وجہ سے وہ آگے بڑھ پائے ہیں لیکن اس میں نہ صرف ان کا اپنا کوئی کمال نہیں ہے بلکہ اب مودی سرکار کی انتہا پسندانہ پالیسیاں خود ہندستان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گی۔
ہمارے ممدوح نے اور بھی کئی ایسے زریں خیالات کا اظہار کیا تھا جس میں ان کی حب الوطنی اور قوت ایمانی کا بھر پور ثبوت موجود تھا۔ اور کچھ ہو نہ ہو، ہمیں ان کی گفتگو سے ایک ایسے مقبول بیانیے کو سمجھنے میں مدد ملی جو پاکستان میں سرکاری سرپرستی میں اکثر لوگوں کی ذہن سازی کے دوران تشکیل پایا ہے۔ ان کی گفتگو میں اکثر گمان گزرا کہ وہ شاید مطالعہ پاکستان کی درسی کتاب کا کوئی سبق سنا رہے ہیں اور تاریخ کی کتابوں میں پڑھائے گئے مسلم فاتحین کے کارناموں کواسی طرح دہرانے کا عزم رکھتے ہیں جن کے عظیم ورثے کا قرض ان پر ابھی باقی ہے۔ وہ سر تا پا ایک تخیلاتی ، جذباتی اور نظریاتی شخص دکھائی دیے، یعنی وہ تمام خصوصیات جو ہمارے درسی ماہرین اور نظریہ سازوں کے نزدیک تعمیر شخصیت کے لوازم ہیں۔ یہاں نظریے کی دیگ چڑھا کر احساس تفاخر کا ایسا تڑکا لگایا گیا ہے کہ آس پاس کے سب مکینوں کی بھوک کے ساتھ ساتھ نیند بھی اڑ گئی ہے۔ اس دیگ کے نیچے آگ بھڑکائے رکھنے کے لیے کبھی ایک طبقے کو خشک لکڑیاں سمجھ کر اس میں جھونک دیا جاتا ہے کبھی کسی دوسرے طبقے کی خاک اڑائی جاتی ہے۔ جمہوریت کی ایسی تعبیر کہیں اور مشکل سے ہی شاید ملے جہاں جو لوگ تعداد میں کم ہوں انہیں، عقل، مرتبے اور حقوق میں بھی کم سمجھ لیا جائے۔ بطور شاعر اقبال کے تخیلات، اس کی زبان اور اظہار کی ثروت مندی یقینا قابل تعریف ہے۔ اس کا ذہنی ارتقا اور اس کے ساتھ ساتھ چلتے اس کے تضادات اس دنیا کے ساتھ انسان کے تعلق کو سمجھنے میں ایک طالب علم کی مدد کرتے ہیں لیکن اس کے فلسفے کو کسی قومی نظریے کی اساس بنانے سے پہلے ہزار دفعہ سوچنے کی ضرورت ہے۔ بقول اقبال: درون خانہ ہنگامے ہیں کیا کیا؛ چراغ رہ گذر کو کیا خبر ہے۔

ہمارا مقبول بیانیہ اور چراغ رہ گزر” پر ایک تبصرہ

  • نومبر 14, 2015 at 1:10 AM
    Permalink

    بہت خوب۔ اللہ کرے اور زور قلم زیادہ

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *