حسن نثار .... اور علامہ اقبال

akhtar shumaarکوئی زمانہ تھا گالیاں صرف بکی جاتی تھیں، احاطہ تحریر میں کم ہی آتی تھیں۔ آج معاملہ مختلف ہے۔ ہمارے ایک مشہور لکھنے والے اپنی زبان ہی نہیں، اپنے قلم سے بھی، بے غیرتو، کتو، مرا ثیو، حرامزادو، خچر کی لید کے جر ثومو جیسی گالیاں بے دھڑک لکھتے چلے جاتے ہیں ۔ یقینا آپ جان گئے ہوں گے کہ درج بالا گالیاں کس کا ’ تکیہ کالم‘ بن چکی ہیں۔ بالکل آپ ٹھیک سمجھے۔ جی ہاں یہ ہمارے محبوب ’گالم نگار‘ حسن نثار صاحب ہیں۔ وہ جو کچھ غصے میں بولتے ہیں، صفحہ قرطاس پر ’ اگل ‘ دیتے ہیں۔ بڑے مشہوردانشور ہیں۔ کبھی صرف ’کالم نگاری‘ میں اپنی مثال آپ تھے اب تو باقاعدہ بیوٹی پارلر سے ہو کر ٹی وی کی سکرین پر بھی ’جگ مگ جگ مگ‘ کرتے ہیں ۔ایک ’جگ ‘ان کا دیوانہ ہے۔ ہم خود ان کے ’عشاق‘ میں سے تھے۔ اب ان کی محبت سے تائب ہو رہے ہیں کہ ان کے بھاشن بعض اوقا ت دل آزاری کی حدوں کو چھونے لگے ہیں۔
حضرت علی کرم اللہ وجہ کا قول یاد آرہا ہے۔
’آدمی کی قابلیت اس کی زبان کے نیچے پوشیدہ ہے۔‘
جو لوگ وقت کلام اپنی آواز نہیں سنتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، انہیں صاحب عقل قرار نہیں دیا جاتا ۔حسن نثار کو بعض احباب ’منہ پھٹ‘، بد تمیز اور زباں دراز بھی کہتے ہیں لیکن ایسابھی نہیں ہے ، شام بھیگنے سے قبل وہ خاصے چست، چوکس اور ہوشیار ہوتے ہیں اور بڑی سمجھداری کی باتیں بھی کرتے ہیں۔ اپنی تحریروں میں انہیں ناراض نسل کا نمائندہ بھی کہا جاتا ہے۔ بعض انہیں اینگری اولڈ مین بھی کہتے ہیں۔
ہماری جمہوریت، نظام، بدحالی اور بے حسی کے حوالے سے ان کی باتوں سے اتفاق نہ کرنا دانائی نہیں ہے۔ ہمارے ہاں واقعتا آوے کا آوا بگڑا ہو ا ہے۔ مذہب کے نام پر ٹھیکیداری اور جمہوریت کی آڑ میں عام لوگوں کی زندگی واقعی اجیرن ہو چکی ہے۔ ےہ سب باتیں بجا مگر نجانے علامہ اقبال، حسن نثار کی چھیڑ کیوں بن گئے ہیں ؟اکثر اوقات ان کی تان علامہ اقبال کے افکار پر سخت تنقید پر ہی ٹوٹتی ہے۔ علامہ اقبال کو ان کی تنقید اور طنز کے نشتر کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے، نہ ہی حسن نثار کی سند سے علامہ اقبال ’شاعر مشرق ‘کے درجے پر فائز ہیں۔لیکن ان کے افکار و سخن کی تحسین کرنے والے، حسن نثار سے زیادہ علمی ادبی مرتبہ رکھتے ہیں۔دنیا بھر میں کئی زبانوں میں فکر اقبال کی تحسین کی جاتی رہی ہے اور اب تک ہو رہی ہے۔ ممولے اور شہباز کولڑانے کا مطلب جو حسن نثار نکال رہے ہیں افسوس ہوتا ہے کہ وہ شاعر ہونے کا غروررکھنے کے باوجود شعر فہمی سے کوسوں دور ہیں۔ اقبال دشمنی کے پیچھے ان کا کوئی نفسیاتی عارضہ محسوس ہوتا ہے۔
یہ درست ہے کہ علامہ اقبال کے افکار پر تنقید کفر ہرگز نہیں مگر اپنی کم فہمی کے باعث کسی ایک بات پر ضدی بچے کی طرح اڑ جانا دانش مندی نہیں۔ اکثر اوقات حسن نثار کی گفتگو میں علامہ اقبال کی شعری علامتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ وہ اقبال کی شعری اصطلاحات اور علامتوں پر اپنی سمجھ کے مطابق بے ڈھنگی اور بے تکی باتیں کرتے ہیں۔ وہ اقبال کو ایک مقامی بلکہ سیالکوٹی شاعر کہہ کر بھی مخاطب کرتے ہیں ۔ حالانکہ وہ خود اگر گوگل کھول کر دیکھ لیں یا اقبال پر ہونے والے عالمی سطح کے کام کو غور سے پڑھ لیں تو انہیں اندازہ ہو سکتا ہے کہ اقبال اب ایک آفاقی شاعر اور مفکر ہیں اور امریکہ ، یورپ اور خلیجی ممالک تک ہر جگہ ان کی فکر کا ڈنکا بج رہا ہے۔ حسن نثار کی تنقید سے اقبال کی شہرت کم نہیں ہوتی۔مگر اقبال تو ایسا شاعر ہے جس کی فکر پر عمل کرنے سے انسان آگہی کے بلند مقام تک پہنچ سکتا ہے ۔اور خود آگہی کا شعوراور اپنے ہونے کا علم میسر آجائے تو کلام کرتے ہوئے اپنی آواز بھی دھیان میں رہتی ہے۔ بہت زیادہ بولنے والوں کی بہت کم باتیں لوگوں کو یاد رہتی ہیں۔  حسن نثار صاحب آپ بس ’ گالم نگاری‘ فرمائیں۔  ٹیلی ویثرن پر آکر مدبر بننے کی اداکاری کر یں اور سیاست دانوں اور جمہوریت کے حوالے سے بھاشن دیا کریں اور بس....
کیونکہ انگریزی کی چند کوٹیشنز یاد کر کے یا ان کے حوالے دے کر بندہ مفکر اور دانش ور نہیں بن جاتا ۔ دانش کے لیے تفکر درکار ہوتا ہے، تکبر نہیں۔ اور تفکر چکا چوند روشنیوں میں بیٹھ کر قدرے دشوار ہے کہ
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہ صحرائی یا مرد کہستانی
اقبال .... اقبال ہے ۔ آپ اقبال پر تنقید کر کے توجہ تو حاصل کر سکتے ہیں، محبت نہیں۔ اللہ کا نام لیں اور اپنے لایعنی دلائل اپنے پاس رکھیں۔ مصور پاکستان اور پاکستان کے قومی شاعر علامہ محمد اقبال کے بارے میں توہین آمیز کلمات کہنا بندکریں کہ ایک زمانہ اقبال کا شیدائی ہے۔ آپ کیوں اپنی مٹی کو مزید پلید کراتے ہیں۔ آپ کی ایسی باتیں ٹی وی کی خاتون میزبان کو سامنے بٹھا کر یا کیمروں کے سامنے تو کی جاسکتی ہےں۔ عوام کے سامنے نہیں۔ کوئی شک ہو تو یہ باتیں کسی عوامی اجتماع میں کر کے اندازہ شہرت لگا لیں.... آپ کو چانن ہو جائے گا۔

حسن نثار .... اور علامہ اقبال” پر بصرے

  • نومبر 14, 2015 at 11:26 AM
    Permalink

    ڈاکٹر اختر شمار صاحب درست لکھتے ہیں کہ علامہ اقبال پر تنقید سے توجہ تو حاصل کیا جا سکتا ہے مگر مفکر نہیں بن سکتا۔ حسن نثار کا راقم بھی شیدائی ہے تاہم جب وہ اقبال پر تنقید کرتے ہوئے ایک حد سے گزر جاتے ہیں تو اس وقت افسوس بھی ہوتا ہے اور آج کل اس ناچیز کو بھی ایسے ہی"مفکر" سے واسطہ پڑرہا ہے جنہیں اقبال پر نتقید کا اتنا شوق ہے کہ میرئے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ موصوف کو اقبال سے ذاتی رنجش ہے یا اقبال کے افکار سے اختلاف :کیونکہ موصوف اقبال کو پاکستان میں فرقہ واریت کا منبع گردانتے ہیں دوسری طرف حسن نثار سیاست دانوں کےلئے جن الفاظ کا استعمال کرتے ہیں اسے غیر مہذب تو ضرور کہ سکتا ہے مگر غیر حقیقت نہیں کیونکہ ان لوگوں کی اکثریت نے نے ہماری زندگی کو اجیرن بنانے کےلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔

    Reply
  • نومبر 14, 2015 at 12:59 PM
    Permalink

    فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
    یا بندہ صحرائی یا مرد کہستان

    بے چارے میدانی لوگ۔۔۔کسی کھاتے میں نہیں
    اقبال ان سے کون سا تھا؟

    Reply
  • نومبر 16, 2015 at 2:10 PM
    Permalink

    بہت افسوس ہوا کہ حسن نثار جیسے لوگ ایک قومی شاعر اور پاکتستا ن کا تصور دینے جیسے ایک بڑی شخصیت کے بار ے میں اس طرح کہہ سکتے ہیں ، شرم آتی ہے حسن نثار جیسے لوگو ں کو دانشور کہتے ہوئے.

    Reply
  • نومبر 16, 2015 at 2:58 PM
    Permalink

    پاکستان کا تصور کرنے والے لوگ اور جن کی وجہ سے آج پاکستان وجو د میں ہے اور یہ دانشوار جتنے بھی میک اپ کر کے ٹی وی پر آ کر اس طرح کے الفا ظ اگلتے ہیں ان کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ئہ صرف پاکستان کی وجہ سے ہی ہے ، اور ان کی ساری کی ساری شہرت صرف پاکستان کی وجہ سے ہی ہے ، شرم آتی ہے حسن ثنار پر مجھے آج کہ وہ شاعر مشرق کہ خلا ف اس طرح کےالفاظ اگل سکتے ہیں ، پیمرا کہ اس بات کا نوٹس لینا چاہیے..اختر شمار صاحب بہت خوب اس ایک نئے مسئلے کو ہمارے بیچ اجاگر کر نے کے لئے..یہ سارے دانشور پاتھ سے باہر نکل رہے ہیں.ان کو پٹا ڈالنے کی ضرورت ہے.

    Reply
  • نومبر 16, 2015 at 3:01 PM
    Permalink

    I feel highly ashamed of Hassan Nisar for saying such stuff about Alama Iqbal and i honestly condem this sort of things being said on TV, i request the Governement to take some actions against this issue and please make some certain law regarding what should be said on TV or not because millions of people are watching it and its creating a negitive stigma about our National Poet.Where is Pemra?? I would like to appreciate Shumaar sahib to highlight such an imporant issue becuase this sort of issue has to be dealt in high importance otherwise this mafia of people would go out of control even further.

    Reply
  • نومبر 16, 2015 at 7:05 PM
    Permalink

    خاص لوگ
    انور عباس انور
    اخترش٘مار جی حسن نثار نامی شخص پر لکھنا خوامخواہ اسے اہمیت دینے والی بات ہے، روز نامہ جنگ والوں نے خانہ پری کرنے کے لیے اسے کالم نگار بنا دیا ہے ورنہ یہ اس شخص کو کالم نگار تو دور کی بات ہے صحافی کہنا بھی صحافت کے پیشہ کی توہین ہے، دو ٹکے کا یہ اآدمی ہے ساری زندگی اول فول بک کر ہی اس نے پیٹ کی آگ بجھائی ہے اسے اس کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے اس کے بکنے سے علامہ اقبال مرحوم سمیت کسی کی شان کم ہونے والی نہیں ہے اس قبیل کے لوگ پہلے بھی فتوے دیتے رہے ہیں بھلا چاند پر تھوکنے سے چاند پر تھوکا جا سکتا ہے ایسا کرنے والے کے منہ پر ہی تھوکا ہوا آ گرتا ہے
    خاص لوگ
    انور عباس انور
    03004597873/03153121957

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *