کھودا وفاق.... نکلا سندھ

ain ghain

عین غین

آئی ایس پی آر نے بیان دیا کہ حکومت اپنی گورننس کو بہتر کرے تو دور کی کوڑی لانے والوں نے اسلام آباد کی سڑکوں پر ٹرپل ون بریگیڈ کے جوانوں کے بوٹوں کی گونج تک سن لی۔
شیخ رشید نے تو حسب روایت تین مہینے کا ٹائم دیتے ہوئے کہا کہ دونوں طرف آگ برابر کی لگی ہوئی ہے، کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
شاہ محمود قریشی اس بات پر حیرت زدہ دکھائی دیئے کہ حکومت کوکیا ضرورت تھی کہ فوجی ترجمان کے بیان کا ردعمل دیتی۔
پیپلزپارٹی نے حسب روایت آئی ایس پی آر کے بیان پر کڑی تنقید کی، سینیٹ کے سلطان راہی کو تو موقع چاہیے ہوتا ہے، اچکزئی بھی دوشریفوں میں سے سویلین شریف کی حمایت کا اعلان کرکے جلتی پر تیلی کا کام کرگئے، خورشید شاہ نے کہا کہ ملک میں واقعی گڈ گورننس نہیں ہے مگر اس پر تنقید فوجی ادارہ نہیں بلکہ عوام اور سیاست دان کریں گے، فوج کا کام گورننس کے معاملات نہیں ہیں۔
پاکستان میں ایک طبقہ فوجی ترجمان کے بیانات کا ایسا دفاع کرتا ہے کہ گویا ملکی دفاعی اداروں کے دفاع کا سارا بوجھ اس کے کاندھوں پر ہو۔ اس طبقے کے افراد نے حکومت کے بیان پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوجی ترجمان نے ایسا کیا غلط کہہ دیا، یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک میں گڈ گورننس نہیں ہے۔
اس ہوائی مارشل لا کا جنازہ سابق جنرل عبدالقادر بلوچ نے نکالا، عبدالقادر بلوچ وزیراعظم کے انتہائی بااعتماد جبکہ آرمی چیف کے انتہائی قریبی سمجھے جانے والی افراد میں شامل ہیں۔
عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ آئی ایس پی آر نے دراصل سندھ حکومت کی جانب اشارہ کیا تھا مگر معاملے کا رخ وفاقی حکومت کی جانب موڑ کر سندھ حکومت صاف بچ گئی۔
پیپلزپارٹی کے گھاگ سیاست دانوں نے بیان کے حقیقی تاثر کو پیدا ہی نہیں ہونے دیا اور ایک تیر سے دو شکار کرلیے، وفاقی حکومت کو بھی مشکل میں ڈال دیا کہ اسے وضاحت دینا پڑی اور دفاعی ادارہ بھی تنازع کی زد میں آگیا۔
مسلم لیگ ن اپنی فطرت میں ایک بہترین اسٹبشلمنٹ پارٹی ہے اور اس کے اقتدار میں ہوتے ہوئے اگر کسی قسم کا کوئی تنازع پیدا بھی ہوجائے تو ن لیگ اکیسویں آئینی ترمیم اور فوجی ایکٹ جیسے بلوں کو قومی اسمبلی سے منظور کروا کر لمحوں میں سرخرو ہوسکتی ہے۔
یار لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان میں مارشل لا کی ضرورت ہی کیا ہے۔ جس ملک میں ساری پالیسیاں ریاستی ادارے بناتے ہوں، وہاں جمہوریت آئے یا مارشل لا.... کیا فرق پڑتا ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *